Friday , August 17 2018
Home / Top Stories / کونراڈ سنگما میگھالیہ کے چیف منسٹر ، آج حلف برداری

کونراڈ سنگما میگھالیہ کے چیف منسٹر ، آج حلف برداری

این پی پی صدر کو بی جے پی کی تائید ، ناگالینڈ میں بھی پی ڈی اے کو حمایت
شیلانگ ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) میگھالیہ میں بی جے پی اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی تائید سے نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) نے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا ۔ جبکہ ناگالینڈ میں اسی خطوط پر بی جے پی کی حمایت سے پیپلز ڈیموکریٹک الائینس (پی ڈی اے) حکومت بنارہی ہے ۔ این پی پی صدر کونراڈ سنگما نے آج شام میگھالیہ کے گورنر گنگا پرشاد سے ملاقات کی ۔انہوں نے 60 رکنی اسمبلی میں 34 ارکان اسمبلی کی تائید کے ساتھ ریاست میں حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا ۔گورنر نے انہیں تشکیل حکومت کی دعوت دی اور کل بروز پیر کو چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لیں گے ۔ بی جے پی کے شمال مشرقی مبصر ہیمنت بسواشرما نے ٹوئیٹر پر بیان پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 34 نو منتخب ارکان کا تعلق این پی پی سے ہے ۔ یو بی پی ، پی ڈی ایف اور دیگر پارٹیوں کے علاوہ ایک آزاد امیدوار نے میگھالیہ میں حکومت بنانے کیلئے گورنر سے ملاقات کرکے دعویٰ پیش کیا تھا ۔ کونارڈ شرما اس اتحادی جماعت کے لیڈر ہوں گے ۔ ناگالینڈ میں سابق چیف منسٹر نیفوریو کی زیرقیادت این ڈی پی پی ، بی جے پی ، جے ڈی یو اور آزاد امیدوار کے ساتھ حکومت بنائی جائے گی ۔ گریپورہ میں حکومت سازی کا عمل /10 مارچ تک پورا ہوجائے گا ۔ میگھالیہ میں کل کے نتائج کے بعد منقسم رائے دہی سامنے آئی ہے جبکہ حکمراں کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ۔ وہ اپنے حریف سے معمولی برتر پر کامیاب ہوئی ہے ۔ نیشنل پیپلز پارٹی ( این پی پی) مرکز اور منی پور میں بی جے پی کی حلیف پارٹی ہے ۔ پارٹی کے صدر 40 سالہ سنگما نے راج بھون کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے گورنر سے ملاقات کی ہے اور این پی پی کے 11 ارکان کے بشمول 34 ارکان اسمبلی کی تائید کا مکتوب پیش کیا ہے ۔ این پی پی لیڈر سابق لوک سبھا اسپیکر پی اے سنگما کے سب سے کم عمر نوجوان فرزند ہیں ۔ سنگما کا 2016 ء میں انتقال ہوا تھا ۔ ان کے فرزند اپنے والد کی موت کے بعد منعقدہ ضمنی انتخابات میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے ۔ قبل ازیں میگھالیہ اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھرنے کے بعد کانگریس نے آج یہاں گورنر گنگا پرساد سے ملاقات کی اور تشکیل حکومت کا ادعاء پیش کیا تھا۔ کمل ناتھ ،احمد پٹیل اور سی پی جوشی پر مشتمل کانگریس کے تین رکنی وفد نے راج بھون پہونچکر گورنر سے ملاقات کی ۔

بعد ازاں کمل ناتھ نے پی ٹی آئی سے بالاتر ’’ہم نے گورنر سے ملاقات کی اور ریاست میں تشکیل حکومت کے لئے کانگریس کو سب سے پہلے مدعو کیا جانا چاہئیے ۔ کیونکہ اسمبلی میں یہ واحد سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری ہے ۔ 60 رکنی اسمبلی کے 59 حلقوں میں گزشتہ ماہ رائے دہی ہوئی تھی اور کل دونوں کی گنتی کے معلنہ نتائج کے مطابق کانگریس کو 21 نشستیں حاصل ہوئی ہیں ۔ اس طرح سادہ اکثریت کے لئے اس کو مزید 10 ارکان کی تائید درکار ہے ۔ کانگریس کے ذرائع نے کہا کہ تریپورہ اور ناگالینڈ میں بدترین ہزیمت کے بعد اس پارٹی نے اپنے قائدین کا تین رکنی وفد میگھالیہ روانہ کیا ہے تاکہ اس ریاست میں تشکیل حکومت کی کوششوں کا آغاز کیا جائے ۔ کانگریس اس ریاست میں 2010 ء سے برسراقتدار ہے اور ریاستی یونٹ کے کارگذار صدر ونسنٹ ایچ پالہ نے یقین ظاہر کیا ہے کہ علاقائی جماعتوں اور آزاد ارکان کی تائید سے تشکیل دی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT