Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کونسل میں وقفہ سوالات

کونسل میں وقفہ سوالات

l تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور نظام حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کیا جائے گا l صحت عامہ میں بہتری کے لیے موثر طبی سہولتیں l نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے لیے 130 کروڑ روپئے

l تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور نظام حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کیا جائے گا
l صحت عامہ میں بہتری کے لیے موثر طبی سہولتیں
l نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے لیے 130 کروڑ روپئے
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حکومت ریاست تلنگانہ پرائمری اور ہائی اسکول کے تعلیمی نصاب کو تبدیل کر کے تلنگانہ کی حقیقی تاریخ کے ساتھ شہیدان تلنگانہ شعراء اور آرٹسٹس کی سوانح حیات کو شامل کرنے کے اقدامات کرے گی اور سابق نظام حکومت کی کارکردگی کو بھی اجاگر کیا جائے گا کیوں کہ سابق نظام حکومت کے وزیر اعلی بی رام کشن تھے ۔ جن کی انتظامی صلاحیتوں کی ہر کوئی زبردست ستائش کرتے ہیں ۔ آج یہاں ریاستی تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران مسٹر پی سدھاکر ریڈی رکن کونسل کی جانب سے اس مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم حکومت تلنگانہ مسٹر جگدیشور ریڈی نے یہ بات کہی ۔ اور بتایا کہ پرائمری و ہائی اسکول کی موجودہ تلگو ، سماجی علم و دیگر کی کتب کا جائزہ لیتے ہوئے تلنگانہ حکومت ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور یہ ماہرین تعلیم کی کمیٹی پرائمری و ہائی اسکول کے تعلیمی نصاب میں شہیدان تلنگانہ ، شعراء ، آرٹسٹس ، افراد کی مکمل سوانح حیات تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا جائزہ لے گی ۔ اور پھر وہ اپنا فیصلہ کرے گی ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ تلنگانہ کا عروج و زؤال کو بھی تلنگانہ حکومت ریاست کے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا ۔۔
٭٭ حکومت تلنگانہ ہر ایک کی صحت میں بہتری پیدا کرنے اور موثر طبی سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی اور تلنگانہ ریاست کے دیگر اضلاع کے عوام حیدرآباد پر کم سے کم انحصار کرنے کو یقینی بنانے کے لیے بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور محکمہ صحت کے لیے بجٹ میں زیادہ سے زیادہ رقومات مختص کی گئیں اور یہ اقدامات ہی حکومت کی کارکردگی کا اظہار ہے ۔ آج یہاں ریاستی قانون ساز کونسل اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران مسرس کے آر آموس اور پی سدھاکر ریڈی کی جانب سے اس مسئلہ پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر امور صحت و طبابت ڈاکٹر کے راجیا نے یہ بات کہی اور بتایا کہ تلنگانہ حکومت نے اپنے پیش کردہ جملہ بجٹ کا چار فیصد حصہ پر مشتمل رقم صحت و طبابت کے لیے مختص کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد کے اہم نمس ، عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس کو بڑے پیمانے پر ترقی دی جارہی ہے ۔ گاندھی اور عثمانیہ ہاسپٹلس کے لیے 100 اور 100 کروڑ روپئے اور نمس کے لیے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ علاوہ ازیں کاکتیہ ہاسپٹل کے لیے 130 کروڑ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا نے کہا کہ نظام آباد اور ریمس کو 150 کروڑ کے مصارف سے ترقی دی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ اوٹنور ہاسپٹل کو بھی ترقی دی جائے گی ۔ کھمم ہیڈکوارٹر ہاسپٹل کو ریمس کے خطوط پر ترقی دی جائے گی ۔ تلنگانہ ریاست میں پائے جانے والے 64 ایریا ہاسپٹلس کو ایک ایک کروڑ روپیوں کے مصارف سے ترقی دی جائے گی ۔ شہر حیدرآباد کے کنگ کوٹھی ہاسپٹل کو ترقی دینے کے لیے 25 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ تمام پرائمری ہیلت سنٹرس کو کمیونٹی ہیلت سنٹرس کے طرز پر ترقی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی کو 10 کروڑ ، نیلوفر ہاسپٹل کو 25 کروڑ روپئے ، چیسٹ ہاسپٹل کو 40 کروڑ اور سلطان بازار ہاسپٹل کے لیے 10 کروڑ روپئے ، سروجنی آئی ہاسپٹل کو 10 کروڑ روپئے اور پیٹلہ برج میٹرنٹی ہاسپٹل کے لیے 25 کروڑ روپئے مختص کر کے ترقی دینے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اس طرح تلنگانہ حکومت تمام سرکاری ہاسپٹلس میں عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کرے گی ۔ میڈیکل کالجس و ہاسپٹلس میں تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے ۔ ڈاکٹر رایا نے کہا کہ جن اضلاع میں سرکاری میڈیکل کالجس نہیں ہیں وہاں پر آئندہ پانچ سال کے دوران نئے میڈیکل کالجس تعمیر کئے جائیں گے ۔ اس مسئلہ پر ارکان کونسل کے ضمنی سوالات بھی کئے ۔۔
٭٭ حکومت نے کہا کہ نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس حیدرآباد کو منصوبہ بند بجٹ میں 130 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ نظام آباد اور عادل آباد ہاسپٹل میں ڈینگو کے انسداد کے لیے پلیٹ لیٹس مشین کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی ۔ آج یہاں ریاستی قانون ساز کونسل تلنگانہ میں وقفہ سوالات کے دوران اس مسئلہ پر مسرس ڈی سرینواس ، ایم رنگاریڈی اور محمد فاروق حسین ارکان قانون ساز کونسل کی جانب سے کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا ( جو کہ محکمہ صحت و طبابت کا قلمدان بھی رکھتے ہیں ) نے یہ بات کہی اور بتایا کہ نظام آباد ہاسپٹل کو فی الفور سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل میں تبدیل کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں نظام آباد میڈیکل کالج کے لیے 90 کروڑ روپئے بھی مختص کئے گئے۔ علاوہ ازیں وہاں پر نرسنگ کالج اور نرسنگ اسکول کی منظوری عمل میں لاتے ہوئے 30 کروڑ روپئے بھی مختص کئے گئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT