Saturday , December 15 2018

کونسل کی رکنیت کیلئے جماعت اسلامی نے مسلمانوں کے مفادات کو قربان کردیا

ٹی آر ایس کی تائید سے مسلمانوں کو مایوسی،عہدہ کی سفارش کے لیے مجلس کی تائید
مرکزی قیادت ٹی آر ایس کی مخالف، کے سی آر سے ملاقات میں معاملات طئے، جماعت کے ارکان میں ناراضگی
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) اُصول پسندی پر جب عہدہ کا لالچ غالب آجائے تو پھر جماعت ہو یا انفرادی شخصیت اُس کے فیصلہ میں دیانتداری اور ایمانداری کی جگہ مفاد پرستی دکھائی دیتی ہے۔ کچھ یہی حال جماعت اسلامی تلنگانہ کا دکھائی دیتا ہے جس نے اپنے ارکان اور مقامی قائدین کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے برسر اقتدار ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کردیا۔ ٹی آر ایس کی تائید کا مقصد بتایا جاتا ہے کہ جماعت کے ریاستی صدر کیلئے قانون ساز کونسل کی رکنیت کو یقینی بنانا ہے۔ کونسل کی رکنیت کیلئے چونکہ مقامی جماعت کی سفارش ضروری ہے لہذا شہر کے 8 اسمبلی حلقوں میں مقامی جماعت کی تائید کا اعلان کردیا گیا۔ اس طرح جماعت اسلامی کی ریاستی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ سروے کی بنیاد پر ٹی آر ایس اور مجلس کی تائید کا فیصلہ کیا گیا لیکن دوسری طرف ٹی آر ایس کے کئی امیدوار ایسے ہیں جن کی کارکردگی اور فرقہ پرستی کے بارے میں مقامی ارکان اور یونٹس نے شکایت کی۔ 2014 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے کانگریس کی تائید کی تھی لیکن ٹی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد حکومت سے قربت کی کافی کوشش کی گئی لیکن ناکامی ہوئی۔ آخر کار مقامی جماعت نے جماعت اسلامی کے ایک ذمہ دار کو وقف بورڈ کی رکنیت فراہم کروادی۔ ٹی آر ایس کی بی جے پی سے قربت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن جماعت کے مقامی ذمہ داروں کو کے سی آر سے کیا گیا وہ وعدہ نبھانا تھا جو کہ انہوں نے گزشتہ ماہ 4 گھنٹے ملاقات اور حیدرآبادی کھانوں سے تواضع کے موقع پر کیا تھا۔ جماعت اسلامی کا انتخابات کے سلسلہ میں تائید سے متعلق یہ اعلان محض رسمی کارروائی بلکہ عوام کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں کیونکہ جماعت کے ذمہ داروں نے کے سی آر کو ملاقات کے دوران ہی تائید کا یقین دلادیا تھا اور اسی بنیاد پر چیف منسٹر کے دفتر نے جماعت اسلامی کی تائید سے متعلق بیان جاری کیا لیکن جماعت کے کسی ذمہ دار نے اس کی تردید نہیں کی۔ تردید تو کُجا ریاستی صدر اور وقف بورڈ کے رکن دونوں نے ٹی وی چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کے سی آر حکومت کی دوبارہ تشکیل کے حق میں بیان دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب چیف منسٹر سے وعدہ کیا گیا اور پھر تائید میں بیانات دیئے گئے تو پھر دکھاوے کے سروے اور اجلاسوں کی کیا ضرورت تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے ذمہ داروں سے ملاقات کے دوران کئی وعدے کئے جن کا انکشاف ہوسکتا ہے کہ بعد میں ہوگا۔ کے سی آر سے وفاداری نبھانے میں جماعت اسلامی کی ریاستی قیادت اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ اُس نے مرکزی قیادت کے اعتراضات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ٹی آر ایس کے حق میں فیصلہ کو منظوری کیلئے دباؤ بنایا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں قومی امیر کے داماد کی خدمات استعمال کی گئیں جو نہ صرف ریاستی شوریٰ میں شامل ہیں بلکہ تلنگانہ کے آئندہ امیر کے عہدہ کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ موجودہ امیر اور متوقع امیر دونوں نے ایک دوسرے کے مفادات کا لحاظ کرتے ہوئے قومی قیادت کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کرلی کہ ٹی آر ایس مسلمانوں کی ہمدرد ہے اور وہ دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔ یہ تمام انکشافات ’سیاست‘ کے نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے بعض ذمہ داروں کی جانب سے کئے گئے ہیں جو کہ تلخ حقیقت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اکٹوبر کے اوائل میں جماعت اسلامی کے ریاستی شوریٰ نے ٹی آر ایس کے حق میں تائید کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ منظوری کیلئے نئی دہلی روانہ کی۔ اُسوقت تک جماعت اسلامی کے ذمہ داروں کی چیف منسٹر کے سی آر، کانگریس کے ریاستی صدر اتم کمار ریڈی اور مجلس کے صدر اسد اویسی سے ملاقات ہوچکی تھی۔ نئی دہلی سے فیصلہ کو یہ کہتے ہوئے واپس کردیا گیا کہ دیگر جماعتوں سے بھی ملاقات کی جائے۔ جس کے بعد تلگودیشم اور کمیونسٹ جماعتوں سے بھی بات چیت کی گئی۔ مقامی ذمہ داروں نے جب دوبارہ ٹی آر ایس کے حق میں اپنی رپورٹ روانہ کی تو قومی صدر نے یہ کہتے ہوئے منظوری نہیں دی کہ وہ حقیقی صورتحال کا پتہ چلانے کیلئے اپنے نائب نصرت علی کو روانہ کریں گے۔ نائب امیر جماعت اسلامی ہند نصرت علی حیدرآباد پہنچے اور انہوں نے شوریٰ کے ارکان سے فرداً فرداً ملاقات کرتے ہوئے رائے حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی قیادت کو کے سی آر کے سیکولرازم پر شبہ ہے اور انہیں حیدرآباد سے یہ شکایات ملی تھیں کہ ٹی آر ایس مستقبل میں بی جے پی کے ساتھ جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں کئی مثالیں بھی پیش کی گئیں۔ نائب امیر کو منصوبہ بند انداز میں شوریٰ کے ارکان نے دوبارہ ٹی آر ایس کے حق میں فیصلہ کیلئے مجبور کردیا اور وہ اسی رپورٹ کے ساتھ نئی دہلی واپس ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شوریٰ میں وقف بورڈ کی رکنیت حاصل کرنے والے جماعت کے ذمہ دار اور آئندہ ریاستی امیر کے اہم دعویدار شامل ہیں جو اتفاق سے امیر جماعت اسلامی ہند کے داماد بھی ہیں۔ جماعت اسلامی کے اُصولوں سے انحراف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم جماعتوں پر مشتمل یونائٹیڈ مسلم فورم میں وائی ایس آر دور حکومت میں جب اردو اکیڈیمی کے صدرنشین کا عہدہ حاصل کیا گیا تھا تو جماعت اسلامی نے یہ کہتے ہوئے فورم سے علحدگی اختیار کرلی تھی کہ فورم کے کسی ذمہ دار کا سرکاری عہدہ حاصل کرنا مناسب نہیں۔ جس اُصول کے نام پر جماعت اسلامی فورم سے علحدہ ہوگئی اُسی کی مخالفت کرتے ہوئے جماعت کے ایک ذمہ دار کو وقف بورڈ کی رکنیت دلائی گئی۔ ظاہر ہے کہ جو شخص حکومت کے عہدہ پر فائز ہو وہ اپنی جماعت میں حکومت کی تائید کیلئے پابند ہوجاتا ہے۔ اس طرح عہدوں کے لئے چند افراد کے لالچ نے جماعت اسلامی جیسی اُصول پسند تنظیم کو بھی داخلی اختلافات کا شکار بنادیا۔ ٹی آر ایس کی تائید کے فیصلہ کی کئی ذمہ داروں اور ارکان کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی کے فیصلہ سے بعض حلقوں میں جس طرح بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے اور حیدرآباد کے ایک حلقہ میں ویلفیر پارٹی آف انڈیا کی تائید پر مجبوری کے پس پردہ حقائق کا آئندہ رپورٹس میں انکشاف کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT