Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کونڈہ سریکھا اور کونڈہ مرلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت

کونڈہ سریکھا اور کونڈہ مرلی کی ٹی آر ایس میں شمولیت

ورنگل کے سیاسی جوڑی کو راغب کرنے کانگریس کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں

ورنگل کے سیاسی جوڑی کو راغب کرنے کانگریس کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں

حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) ورنگل سے تعلق رکھنے والا سیاسی جوڑا کونڈہ مرلی اور کونڈہ سریکھا کی شمولیت کے مسئلہ پر آج ٹی آر ایس اور کانگریس میں زبردست رسہ کشی دیکھی گئی۔ دونوں پارٹیوں نے انہیں راغب کرنے کیلئے اپنے اپنے انداز سے کوشش کی تاہم کامیابی ٹی آر ایس کے ہاتھ لگی اور اس جوڑے نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ٹی آر ایس میں شمولیت کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے خلاف پارٹی میں ناراض قائدین میدان میں آچکے ہیں جس کے باعث آئندہ انتخابات میں اس جوڑے کیلئے انتخابی حلقہ کا تعین کرنا کے سی آر کیلئے چیلنج بن چکا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے انتقال کے بعد ورنگل میں سیاسی اثر رکھنے والے اس جوڑے نے وائی ایس جگن موہن ریڈی کی تائید کی۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے متحدہ آندھرا کے حق میں موقف اختیار کرنے کے بعد انہوں نے پارٹی سے استعفی دے دیا۔ گذشتہ چند دنوں سے اس جوڑے کو راغب کرنے کیلئے کانگریس اور ٹی آر ایس نے کوششوں کا آغاز کیا۔

کل یہ اطلاع عام ہوگئی کہ کونڈہ سریکھا اور کونڈہ مرلی نے ورنگل کے ٹی آر ایس قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی کانگریس قائدین حرکت میں آگئے۔ ڈی سرینواس، جانا ریڈی، دامودر راج نرسمہا اور صدر تلنگانہ پردیش کانگریس پنالہ لکشمیا نے ان سے ربط پیدا کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت کا مشورہ دیا۔ کونڈہ مرلی نے آج پنالہ لکشمیا سے ملاقات کی تاہم بتایا جاتا ہے کہ نشست کے مسئلہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ کونڈہ سریکھا ورنگل کی پرکالا اسمبلی نشست سے ٹکٹ دیئے جانے کی مانگ کررہی ہیں۔ کانگریس سے بات چیت کی ناکامی کے ساتھ ہی اس جوڑے نے ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ سے ان کی قیامگاہ پر ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ نے انہیں ورنگل ( ایسٹ ) اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دینے کا تیقن دیا ہے جبکہ ان کے شوہر کو قانون ساز کونسل کی رکنیت کا وعدہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کونڈہ سریکھا نے چندرشیکھر راؤ سے مانگ کی کہ انہیں پرکالا اسمبلی حلقہ کا ٹکٹ دیا جائے جہاں وہ کافی اثر رکھتی ہیں۔ ان کی شمولیت کی اطلاع کے ساتھ ہی تلنگانہ بھون اور ورنگل میں ٹی آر ایس کے کئی کارکنوں نے اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل میں بعض ٹی آر ایس کارکنوں نے اقدام خود سوزی کے ذریعہ کے سی آر سے مانگ کی کہ کونڈہ سریکھا کو پرکالا اور ورنگل (ایسٹ ) دونوں اسمبلی حلقوں میں سے کسی کا بھی ٹکٹ نہ دیا جائے۔ اس غیر متوقع ناراضگی کے سبب کے سی آر کیلئے نشست کا تعین کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ وہ ناراض قائدین کو منانے کیلئے ورنگل کے سینئر قائد کے سری ہری اور بعض ارکان اسمبلی کو میدان میں اُتار چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT