کونکن خطہ مہاراشٹرا اور ملک کی ترقی کا باب الداخلہ: نریندر مودی

رتناگیری ( مہاراشٹرا) ۔ 13 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نے آج مہاراشٹرا کے کوکن خطہ کو ’’خوشحالی کا باب الداخلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مہاراشٹرا میں سابق کانگریس۔ این سی پی حکومت کو خطہ کی جانب عدم توجہی کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کو مہاراشٹرا میں اقتدار حاصل ہوا تو وہ کونکن خطہ کی معیشت میں زبردست ترقی کیلئے ک

رتناگیری ( مہاراشٹرا) ۔ 13 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نے آج مہاراشٹرا کے کوکن خطہ کو ’’خوشحالی کا باب الداخلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے مہاراشٹرا میں سابق کانگریس۔ این سی پی حکومت کو خطہ کی جانب عدم توجہی کیلئے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کو مہاراشٹرا میں اقتدار حاصل ہوا تو وہ کونکن خطہ کی معیشت میں زبردست ترقی کیلئے کام کرے گی۔ ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کوکن قدرتی وسائل سے مالا حال ہے۔ یہاں موجود سمندر نہ صرف مہاراشٹرا کی بلکہ پورے ملک کی خوشحالی کا باب الداخلہ ہے۔ آج بھی اس خطہ میں ترقیات کے بیشتر مواقع موجود ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے کانگریس۔این سی پی کوکن خطہ کو مسلسل نظر انداز کرتی آرہی ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر مہاراشٹرا میں عوام نے بی جے پی کو اقتدار سونپا تو وہ وعدہ کرتے ہیں کہ پارٹی عوام کی توقعات پر پورا اترے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت بہترین گورننس کے ا پنے وعدہ کی پابند ہے ۔ کانگریس۔ ا ین سی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ راشٹریہ وادی نہیں بلکہ بھرشٹا چاروادی لوگ ہیں۔ انہوں نے نہ صرف عوامی خزانہ خالی کردیا بلکہ دو نسلوں کو بھی تباہ کیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر رتنا گیری اور سندھودرلوگ جیسے اضلاع ترقی کی رفتار میں کیوں پیچھے رہ گئے ؟ انہوں نے اس معاملہ میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کونکن خطہ کے ہاپوس آم (الفانسو) پورے ملک میں بیحد شوق سے کھائے جاتے ہیں لیکن 28 ممالک ارکان پر مشتمل یوروپی یونین نے الفانسو آم کی کھیپ کو مسترد کردیا تھا جو یوروپی یونین کو برآمد کی جاتی تھی ۔ 2013 ء میں پھلوں اور ترکاریوں کی 207 کھیپ کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا تھا کہ اس میں مختلف نوعیت کے کیڑے پائے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT