Saturday , September 22 2018
Home / دنیا / کوپن ہیگن میں گستاخ رسول ؐ کی تقریب پر بندوق برداروں کی فائرنگ

کوپن ہیگن میں گستاخ رسول ؐ کی تقریب پر بندوق برداروں کی فائرنگ

کوپن ہیگن 14 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک گستاخ رسول کی جانب سے اسلام اور اظہار خیال کی آزادی کے عنوان سے منقعدہ ایک مباحث کے دوران نا معلوم بندوق برداروں نے اچانک فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ یہ تقریب سویڈن کے ایک گستاخ ملعون لا

کوپن ہیگن 14 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک گستاخ رسول کی جانب سے اسلام اور اظہار خیال کی آزادی کے عنوان سے منقعدہ ایک مباحث کے دوران نا معلوم بندوق برداروں نے اچانک فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ یہ تقریب سویڈن کے ایک گستاخ ملعون لارس ولکس نے منعقد کی تھی جس نے 2007 میں حضور اکرم ؐ کی شان میں خاکہ بناتے ہوئے گستاخی کی تھی ۔ فرانس کے سفیر برائے ڈنمارک فرینکوئی زیمیرے بھی اس تقریب میں شریک تھے تاہم فائرنگ میں وہ زخمی نہیں ہوئے ۔ کہا گیا ہے کہ تقریبا 30 راونڈ فائرنگ کی گئی تھی ۔ فرانسیسی حکام نے اس فائرنگ کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے ۔ ڈنمارک کی پولیس نے کہا کہ وہ دو مشتبہ حملہ آوروں کی تلاش کر رہی ہے جو فائرنگ کے فوری بعد ایک وولکس ویاگن پولو گاڑی میں فرار ہوگئے ۔ سکیوریٹی عہدیداروں نے اس کار کے لائسنس نمبر کے ذریعہ اس کی تلاش کا کام شروع کردیا ہے ۔

زیمیرے نے بتایا کہ حملہ آور پیرس میں گستاخ میگزین شارلی ہیبڈو کے دفتر پر کئے گئے حملہ کی نقل کرتے ہوئے یہ حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ پیرس کے حملہ میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ حملہ 7 جنوری کو ہوا تھا ۔ فرانسیسی سفیر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے باہر سے ہوٹل پر فائرنگ کی اور ان کا ارادہ شارلی ہیبڈو حملہ کو دہرانا تھا ۔ انہیں ہوٹل کے اندر داخل ہونے کا موقع نہیں مل سکا ۔ زیمیرے نے بتایا کہ ان کے خیال میں تقریبا 50 راونڈ فائرنگ کی گئی تھی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبا 200 گولیاں داغی گئیں۔ اس نے بتایا کہ جیسے ہی گولیاں دراوزے سے ٹکرانے لگیں ہال میں موجود سبھی افراد زمین پر لیٹ گئے ۔ ہم ایک کمرے میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ اور ہم اب بھی کمرے کے اندر ہیں کیونکہ باہر نکلنا اب بھی خطرناک ہوسکتا ہے ۔ حملہ آوروں کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ اب بھی آس پاس کہیں روپوش ہوں۔ زیمیرے نے قبل ازیں اپنے ٹوئیٹر پر کہا تھا کہ وہ زخمی نہیں ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سویڈن کا ملعون گستاخ آرٹسٹ لارس ولکس بھی تقریب میں شریک تھا جس نے 2007 میں ڈنمارک میں شان رسالت ؐ میں گستاخی کی تھی اور کچھ خاکے بنائے تھے جس پر ساری دنیا میں احتجاج ہوا تھا ۔ فرانس کے میگزین شارلی ہیبڈو نے بھی گذشتہ مہینے ان ہی خاکوں کو شائع کیا تھا جس میں اسلام پر طنز بھی کیا گیا تھا جس پر کچھ افراد نے اس کے دفتر پر حملہ کردیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ جس وقت فائرنگ کی گئی اس وقت ہال میں کئی افراد موجود تھے ۔ فرانس کے وزیر خارجہ لارینٹ فیبیاس نے اس حملہ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مدمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرانس دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ڈنمارک کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے ۔ لارس ولکس کے خاکوں کی اشاعت جس وقت ہوئی تھی اس وقت سے وہ گستاخ ملعون پولیس کی حفاظت میں ہی ہے ۔ فرانس کے صدارتی دفتر سے کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ وہاں جا رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT