Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / کوپن ہیگن کے اہم صومعہ کے باہر ایک یہودی کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا

کوپن ہیگن کے اہم صومعہ کے باہر ایک یہودی کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا

کوپن ہیگن۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں فائرنگ کے دو علیحدہ واقعات میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔ ایک شخص کو سر پر گولی مارکر کوپن ہیگن کے اہم صومعہ میں جو قلب شہر میں واقع ہے، ہلاک کردیا گیا۔ چند گھنٹے قبل ایک حملہ ثقافتی مرکز پر کل ہوا تھا جہاں ’’اِسلام اور آزادیٔ تقریر‘‘ کے موضوع پر مب

کوپن ہیگن۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں فائرنگ کے دو علیحدہ واقعات میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔ ایک شخص کو سر پر گولی مارکر کوپن ہیگن کے اہم صومعہ میں جو قلب شہر میں واقع ہے، ہلاک کردیا گیا۔ چند گھنٹے قبل ایک حملہ ثقافتی مرکز پر کل ہوا تھا جہاں ’’اِسلام اور آزادیٔ تقریر‘‘ کے موضوع پر مباحثہ جاری تھا۔ ایک بندوق بردار نے کروڈی ٹنڈن ثقافتی مرکز پر گولیوں کی بوچھار کردی جو ایک سمینار کا میزبان تھا۔ 2 ملازمین پولیس بھی ایک بجے شب کے فائرنگ کے اس واقعہ میں زخمی ہوئے۔ ایک 55 سالہ شخص پہلے حملہ میں ہلاک ہوگیا تھا اور 3 پولیس عہدیدار زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے کہا کہ انھیں تفصیلی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں کہ کیا فائرنگ کے دونوں واقعات ایک دوسرے سے متعلق ہیں؟ چند ہفتے قبل ہی پیرس میں اسلام پسندوں نے حملوں میں 17 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ موجودہ فائرنگ کے واقعات بھی اس واقعہ سے مربوط ہونے کا شبہ ہے۔ ڈنمارک میں رات بھر حملہ آور کی تلاش جاری رہی جو فائرنگ کے دونوں واقعات کے بعد فرار ہوگیا تھا۔ ہیلی کاپٹرس رات دیر گئے تک دارالحکومت کوپن ہیگن کی فضاء میں پرواز کرتے رہے

جن کی آواز رات کے سناٹے میں دُور دُور تک سنائی دے رہی تھی۔ ڈنمارک کے وزیراعظم ہیل تھارننگ شمٹ نے ثقافتی مرکز پر حملہ کے واقعہ کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا جب کہ امریکہ نے اس واقعہ کو ’قابل مذمت‘ قرار دیا۔ پولیس کے ترجمان ایلن ٹیڈی ورڈسورتھ ہینسن نے یہ انکشاف کرنے سے انکار کردیا کہ کیا دونوں حملوں کا بندوق بردار ایک ہی تھا جس کی تلاش جاری ہے۔ انھوں نے آج صبح ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں جانتے اور ابھی کوئی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ دو واقعات پیش آئے ہیں اور دو خاطیوں کی تلاش جاری ہے۔ انھوں نے توثیق کی کہ دوسرے واقعہ میں ایک شخص کو صومعہ کے باہر ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعہ فائرنگ کے پہلے واقعہ کے چند گھنٹے کے اندر پیش آیا۔ ڈنمارک کی پولیس نے ثقافتی مرکز پر حملہ کرنے والے مشتبہ شخص کی تصویر جاری کرتے ہوئے اس کی عمر 25 تا 30 سال اور قد 185 سنٹی میٹر ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کا جسم کسی کھلاڑی کی طرح گٹھا ہوا تھا۔ وہ سیاہ شیشوں کا چشمہ پہنے ہوئے تھا اور اس کی ہیٹ سیاہی مائل سرخ رنگ کی تھی اور وہ سیاہ رنگ کا ایک بیاگ اُٹھائے ہوئے تھا۔ پولیس کے بموجب فائرنگ کے دوسرے واقعہ کے بعد مقام واردات سے فرار ہونے والا بندوق بردار سیاہ پتلون، سیاہ جوتے پہنے ہوئے تھا اور ہلکے بھورے رنگ کا جیکٹ جس پر کئی رنگ کی پٹیاں تھیں، پہنے ہوئے تھا۔

کوپن ہیگن کے سب سے بڑے صومعہ کے قریب شہر کے وسط میں نیروپورٹ اسٹیشن کے قریب جو ملک کا مصروف ترین ٹرین جنکشن ہے، پولیس کے محاصرے میں ہے جو مشین گنوں سے لیس ہیں۔ اس علاقہ میں رہنے والے لوگوں کا تخلیہ کروا دیا گیا ہے۔ ورڈسورتھ ہینسن نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولیس فائرنگ کرنے والے دوسرے شخص کو تلاش کررہی ہے۔ یہ محلہ اہم صومعہ سے چند میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کوپن ہیگن پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا، دونوں مہلک حملوں کا ذمہ دار تھا جن سے ڈنمارک کے دارالحکومت کا جو عام طور پر پُرامن رہتا ہے، امن درہم برہم ہوگیا تھا۔ قبل ازیں حملہ آور نے ایک ریلوے اسٹیشن پر بھی فائرنگ کی تھی۔ دوسرے حملہ میں مرنے والا شخص یہودی تھا اور پولیس کو یقین ہے کہ فائرنگ کے دونوں واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص کارفرما تھا۔ حملوں کی مذمت حکومت ڈنمارک اور حکومت امریکہ دونوں نے کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT