Monday , June 25 2018
Home / کھیل کی خبریں / کوچ فلیچر کی برطرفی اور دھونی کی قیادت پر سوال

کوچ فلیچر کی برطرفی اور دھونی کی قیادت پر سوال

نئی دہلی۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دورہ انگلینڈ پر ٹسٹ سیریز میں ہندوستان کی شرمناک شکست کے بعد ٹیم کے سابق کھلاڑیوں اور کپتانوں نے ٹیم کے کوچ ڈنکن فلیچر کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا اور مہیندر سنگھ دھونی کی قیادت پر سوال اٹھائے ہیں۔ ہندوستانی ٹیم کو انگلینڈ کے دورہ پر اوول ٹسٹ میں کھیلے گئے سیریز کے پانچویں اور آخری مقابلہ میں ایک اننگز اور 244 رنز کی شکست کے بعد سیریز میں 3-1 کی شرمناک شکست برداشت کرنی پڑی جوکہ گذشتہ 40 برسوں میں ہندوستان کی انتہائی شرمناک شکست ہے کیونکہ اوول میں مقابلہ کے تیسرے دن ہی ہندوستانی ٹیم دوسرے اننگز میں 100 رنز سے بھی پہلے ہی آل آوٹ ہوگئی۔ ٹیم کے سابق کپتان اجیت واڈیکر نے کہا ہیکہ لارڈس ٹسٹ میں جب ہندوستانی ٹیم نے ایک مشکل ترین وکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی تو اس کے بعد سے کوچ فلیچر کیا کررہے ہیں۔ دھونی کے متعلق اظہارخیال کرتے ہوئے واڈیکر نے کہا کہ کپتان نے اپنی تکنیک میں تبدیلی لاتے ہوئے بہتر بیٹنگ مظاہرہ کیا ہے لیکن انہوں نے اپنی قیادت کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جس کی ایک مثال یہ ہیکہ جس وقت انگلش کھلاڑی بیٹنگ کررہے تھے تو انہوں نے تھرڈمین کو تعینات نہیں کیا جبکہ اسی مقام پر انگلش ٹیم نے آدھے سے زائد رنز اسکور کئے ہیں۔ واڈیکر نے دھونی کے ٹیم انتخاب کے فیصلوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روی چندرن اشون کو پہلے ٹسٹ سے ہی قطعی 11 کھلاڑیوں میں شامل کیا جانا چاہئے تھا۔ دریں اثناء سابق عظیم بیٹسمین گنڈپا وشواناتھ نے کہا کہ دھونی جب ٹیم مشکل میں رہتی ہے تو ہر وقت کرشمہ کی امید کرتے ہیں لیکن انہیں اچھی طرح جاننا چاہئے کہ کرشمہ کبھی کبھی ہوتا ہے۔ سابق اسپنر اراپلی پرسنا نے کہا کہ میرے حساب سے کوچ فلیچر کا ٹیم میں تعاون صفر ہے۔ ایک اور سابق کپتان کرشنما سری کانت نے بھی تنقید کی زد میں موجود کوچ کے متعلق ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہیکہ کوچ نے ٹیم کے لئے کچھ نہیں کہا ہے۔ سابق میڈل آرڈر بیٹسمین چندو بورڈے جنہوں نے ایک ٹسٹ مقابلہ میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کی ہے، انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ تعجب خیز لگا کہ ناکامی کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں کی تکنیک میں کوئی فرق نہیں آیا جبکہ میزبان ٹیم کے کپتان الیسٹرکک نے اپنی تکنیک میں تبدیلی کرتے ہوئے سیریز کے آخری مقابلوں میں بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ کک نے ہندوستانی بولر بھونیشور کمار کی سوئنگ بولنگ کا بہتر سامنا کرنے کیلئے اپنی تکنیک میں تبدیلی کرتے ہوئے لارڈس کی شکست کے بعد کریس سے چند قدم باہر کھڑے رہتے ہوئے بیٹنگ کی جس کا انہیں فائدہ بھی ہوا۔ گائیکواڈ نے کوچ کے رول پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں وہ بھی ٹیم کی کوچنگ کرچکے ہیں۔ کوچ کا کام کھلاڑیوں کو ان کی خامیوں پر قابو پانے میں تعاون کرنا ہوتا ہے لیکن آخر میں وکٹ پر پہنچ کر بیٹسمینوں کو ہی مظاہرے کرنے ہوتے ہیں لہٰذا شکست کا واحد ذمہ دار کوچ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا بلکہ اس میں ہندوستانی بیٹسمین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ بعض سابق کھلاڑیوں نے مہیندر سنگھ دھونی کو ونڈے اور ٹوئنٹی 20 کا کپتان برقرار رکھتے ہوئے ٹسٹ کی قیادت کسی اور کھلاڑی کو سونپنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT