Saturday , December 15 2018

کوہلی کی سنچری رائیگاں، ہندوستان کوپہلے ونڈے میںشکست

نیپئر 19جنوری ( سیاست ڈاٹ )ویراٹ کوہلی کی شاندارسنچری آخر میں باقی بیٹسمینوں کے غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کی وجہ سے رائیگاں ہوگئی اور نیوزی لینڈ نے پہلے ونڈے کرکٹ میچ میں اتوار کو یہاں ہندوستان کو 24 رنز سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 1-0 سے برتری حاصل کرلی۔نیوزی لینڈ کی اس جیت کے ہیرو مین آف دی میچ کوری اینڈرسن اور مشیل ملینگن ر

نیپئر 19جنوری ( سیاست ڈاٹ )ویراٹ کوہلی کی شاندارسنچری آخر میں باقی بیٹسمینوں کے غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کی وجہ سے رائیگاں ہوگئی اور نیوزی لینڈ نے پہلے ونڈے کرکٹ میچ میں اتوار کو یہاں ہندوستان کو 24 رنز سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 1-0 سے برتری حاصل کرلی۔نیوزی لینڈ کی اس جیت کے ہیرو مین آف دی میچ کوری اینڈرسن اور مشیل ملینگن رہے ۔ سب سے تیز ونڈے سنچری کا ریکارڈ بنانے والے اینڈرسن نے 40 گیندوں پر تین چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے ناٹ آووٹ 68 رن بنائے۔ ان سے پہلے کین ولیمسن ( 71 ) اور راس ٹیلر ( 55 ) نے تیسرے وکٹ کے لئے 121 رن کی پارٹنر شپ نبھائی جس سے نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کی دعوت ملنے پر سات وکٹ پر 292 رن بنائے ۔اینڈرسن نے بعد میں 51 رن دے کر دو وکٹ لئے لیکن وہ میک لینگن ( 68 رن دے کر چار وکٹ ) تھے جنہوں نے 6 گیند کے اندر کوہلی اور مہندر سنگھ دھونی سمیت تین وکٹ لے کر ہندوستان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کوہلی نے 111 گیندوں پر 123 رنز بنائے جو ان کے کیریئر کا سب سے زیادہ سکور ہے۔

انہوں نے دھونی ( 40 ) کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لئے 95 رن کی پارٹنر شپ کی ۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہندوستان نے آخری چھ وکٹ 44 رن کے اندر گنوائے اور اس کی پوری ٹیم 48.4 اوور میں 268 رن پر سمٹ گئی ۔بیٹسمینوں کی خراب کارکردگی سے محمد سمیع کی اچھی بولنگ بھی بیکار چلی گئی۔ انہوں نے 55 رن دے کر چار وکٹ لئے ۔ بیٹنگ میں ہندوستانی ٹیم مکمل طور پر کوہلی کے ارد گرد گھومتی رہی ۔ان کے آؤٹ ہوتے ہی ہار یقینی ہو گئی . کوہلی نے ڈیتھ اووروں میں وکٹ گنوانے سے پہلے 11 چوکے اور دو چھکے لگائے ۔ ہندوستان کا اسکور 43 ویں اوور کے شروع میں چار وکٹ پر 224 رن تھا لیکن اس کے بعد وکٹوں کی بارش شروع ہو گئی ۔ہندوستان کی اوپننگ جوڑی کو تیز اور اچھال لے رہی پچ پر رن بنانے کے لئے جدوجہد کرنا پڑا ۔

روہت شرما کو غیر ملکی پچوں پر چھاپ چھوڑنے کی جدوجہد جاری رہی۔ انہوں نے 23 گیندوں پر صرف تین رنز بنائے اور میشل لینگن کے باوونسرکو ہک کرکے ڈیپ فائن لیگ پر کیچ دیا۔ اس کے بعد کوہلی اور شکھر دھون ( 32 ) نے دوسرے وکٹ کے لئے 58 رن کی پارٹنر شپ نبھائی ۔کوہلی نے میک لینگن پر دو اوور میں تین چوکے لگائے لیکن دھونی موقع کا فائدہ نہیں اٹھا پائے اور اینڈرسن کی اٹھتی گیند پر غلط ٹائمنگ سے پل شاٹ کرکے آسان کیچ تھماکر پویلین لوٹ گئے۔ یوراج سنگھ کو باہر کرنے کے بعد اجنکیا رہانے کو چوتھے نمبر پر اتارا گیا لیکن وہ بیٹنگ لائن اپ کے اس اہم مقام پر پہلے امتحان میں ناکام رہے۔ انہوں نے بھی اینڈرسن کی گیند ہوا میں اٹھا لی لیکن نیتھن میک کلم نے دوڑ لگا کر اسے کیچ میں تبدیل کر دیا ۔رہانے نے 7 رن بنائے۔ہندوستان نے 25 ویں اوور میں 100 رنز کی تعداد پار کی۔ اس کے بعد کوہلی نے میک کلم پر اننگز کا پہلا چھکا لگایا ۔ سریش رینا ( 18 ) اگرچہ شروع سے مختصر پچ گیندوں پر کھیل رہے تھے اور ایڈم ملنے نے ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں دیپ فائن لیگ پر ٹم ساوتھی کے ہاتھوں کیچ کرا دیا ۔ دھونی اور کوہلی نے اس کے بعد اسٹریٹجک بیٹنگ کی۔ ہندوستان نے بیٹنگ پاورپلے کا پورا فائدہ اٹھایا اور ان پانچ اوورز میں 51 رن جوڑے ۔

اس درمیان کوہلی نے پانچ چوکے لگائے ۔ان میں سے 38 ویں اوور میں ساوتھی کی گیند چار رنز کے لئے انہوں نے 93 گیند پر اپنا 18 واں ون ڈے سنچری مکمل کی۔دھونی نے اس کے بعد اینڈرسن اور کولم پر چھکے لگائے۔ گیند اور رنز کے درمیان کے فرق کو کم کیا ، لیکن میک لینگن کے باوونسر کو سمجھنے میں وہ دیر کر گئے اور وکٹ کیپر کو کیچ دے کر پویلین لوٹے ۔ رویندر جڈیجہ ناکام ثابت ہوگئے میک لینگن کے اگلے اوور میں کوہلی نے فل ٹاس پر احاطہ میں سیدھا کیچ دے دیا جس سے ہندوستان کی شکست طے ہو گئی ۔ ملن کے زخمی ہونے کی وجہ سے نیوزی لینڈ بیک فٹ پر تھا اور ہندوستان ڈیتھ اووروں میں اس کا فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن مسلسل وکٹ گنوانے سے کیوی ٹیم اس بحران سے نجات پا گئی۔ اس سے پہلے سمیع نے جیسی رائیڈر ( 18 ) کو آؤٹ کر کے دھونی کا پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلہ درست ثابت کیا ۔ رائیڈر نے میچ کے پہلے اوور میں بھونیشور کی گیند چھ رن کے لئے بھیجی لیکن سمیع کی سیدھی لیکن تیز گیند ان کے بلے کو چھوتی ہوئی پیڈ سے لگ کر وکٹوں میں سما گئی ۔اس کے چار اوور بعد سمیع نے دوسرے اوپننگ بیٹسمین مارٹن گپٹل ( 8 ) کو پہلی سلپ میں آر اشون کے ہاتھوں کیچ کرایا ۔

ٹیلر اور ولیمسن نے اگرچہ تیسرے وکٹ کے لئے سنچری شراکت نبھائی۔ ٹیلر نے اس درمیان 15 رنز بناتے ہی اپنی 121 ویں اننگز میں 4000 رن پورے کئے۔ وہ نیتھن ایسٹل ( 121 اننگز ) کے بعد سب سے کم اننگز میں یہ کامیابی حاصل کرنے والے دوسرے کیوی بلے باز بنے ۔ولیمسن نے 23 ویں اوور میں اپنا ساتواں ون ڈے نصف سنچری مکمل کی۔ اننگز کا 33 واں اوور پریشان کن رہا ۔ ٹیلر نے جڈیجہ کے اس اوور میں اپنا 25 واں نصف سنچری مکمل کی جبکہ ولیمسن نے ہوا میں گیند کھیل کر کور پر رہانے کو کیچ دیا ۔ انہوں نے اپنی اننگز میں 88 گیند کھیلی اور سات چوکے لگائے ۔کیوی بیٹسمینوں نے اپنی غلطی سے وکٹ گنوائے اور ٹیلر نے بھی سمیع کی باہر جاتی گیند پر دھونی کو کیچ دے دیدیا۔ انہوں نے 82 گیند کھیلی اور صرف ایک چوکا لگایا ۔ دھونی کا ونڈے میں یہ 300 واں شکار تھا ۔ وہ یہ کامیابی حاصل کرنے والے دنیا کے چوتھے اور ہندوستان کے پہلے وکٹ کیپر بن گئے ۔ٹیلر دوسرے پاورمیں آؤٹ ہونے والے واحد بیٹسمین تھے ۔ برینڈن میک کولم ( 30 ) اور اینڈرسن نے ان پانچ اوورز میں جملہ 41 رن شامل کرنے میں اہم کردار نبھایا ۔ کیوی ٹیم اس کے بعد جب پے در پے بنانے کی صورت میں نظر آرہی تھی تب دھونی نے 42 ویں اوور میں میک کولم کا خوبصورت کیچ لے لیا ۔

TOPPOPULARRECENT