Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / کوہِ نور سے متعلق حکومت کا ’’یو ٹرن‘‘ ، واپس لانے کی کوششیں

کوہِ نور سے متعلق حکومت کا ’’یو ٹرن‘‘ ، واپس لانے کی کوششیں

نئی دہلی۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج رات ’’کوہِ نور‘‘ مسئلہ پر اپنا موقف پوری طرح بدل دیا اور کہا کہ اس قیمتی ہیرے کو واپس لانے کیلئے تمام تر کوششیں کی جائیں گی۔ ایک دن قبل حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا یہ موقف پیش کیا تھا کہ یہ ہیرا برطانوی حکمرانوں نے چوری نہیں کیا اور اسے زبردستی نہیں لے گئے بلکہ سابقہ پنجاب حکمرانوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالے کیا تھا۔ حکومت نے آج ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا کہ میڈیا میں جو کچھ پیش کیا جارہا ہے، اس کے برعکس حکومت نے عدالت کو اب تک اپنی رائے نہیں دی۔ عدالت مفادِ عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کررہی ہے جس میں 200 ملین ڈالر سے زائد قیمت کے کوہِ نور ہیرے کو برطانیہ سے واپس لانے کیلئے حکومت کو کارروائی کی ہدایت دینے کی خواہش کی گئی ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس مسئلہ پر میڈیا کی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔ حکومت نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ کوہِ نور ہیرے کو واپس لانے کیلئے موثر انداز میں کوششیں کی جائیں گی۔ بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے میں حقائق پر مبنی موقف عدالت میں زیردوراں ہے اور مفادِ عامہ کی درخواست کو ابھی قبول کیا جانا باقی ہے۔ سالیسیٹر جنرل کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ حکومت ِ ہند کی رائے حاصل کرے اور انہوں نے اب تک حکومت کی رائے سے عدالت کو مطلع نہیں کیا ہے۔ سالیسیٹر جنرل نے معزز عدالت کو صرف ہیرے کی تاریخ کے بارے میں بتایا اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے دستیاب مواد کی بنیاد پر صرف زبانی بیان دیا ہے،

لہٰذا اسے حکومت کا موقف نہیں سمجھا جانا چاہئے کیونکہ عدالت کو حکومت نے اب تک اپنا موقف نہیں بتایا اور جو کچھ میڈیا میں کہا گیا وہ غلط ترجمانی ہے۔حکومت ہند کو توقع ہے کہ کوہِ نور ہیرا واپس لانے کے معاملے میں کوئی قابل قبول نتیجہ پر پہنچا جاسکے گا کیونکہ ہمارے ملک کی تاریخ میں اس ہیرے کی نمایاں اہمیت ہے۔ سالیسیٹر جنرل نے صرف کوہِ نور کے موقف کے بارے میں بتایا تھا اور اس میں ہندوستان کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی 1956ء کی رائے شامل ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اس قیمتی ہیرے پر دعویٰ کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی جب وزیراعظم بنے تو ان کی کوششوں کی وجہ سے تین قیمتی اشیاء کو واپس لایا جاسکا جن کا ہندوستان کی تاریخ سے تعلق ہے۔ جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اکتوبر 2015ء میں دسویں صدی کی دُرگا مورتی  واپس کردی جس کا 1990ء میں سرقہ کیا گیا تھا اور 2012ء میں یہ جرمنی کے ایک میوزیم میں پائی گئی۔ اپریل 2015ء میں وزیراعظم کینیڈا اسٹیفن ہارپر نے طوطی کی شکل میں خاتون کا مجسمہ واپس کیا جس کی تاریخ تقریباً 900 سال قدیم ہے۔ اسی طرح وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی ایباٹ نے 2014ء میں ہندوستان کے دورہ کے موقع پر ہندو دیوی دیوتاؤں کے نادر مجسمے واپس کئے جو آسٹریلیا کی آرٹ گیلریز میں رکھے گئے تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT