Sunday , June 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / کُـفـر

کُـفـر

٭ (شرع میں ) ایمان کی ضد کا نام کفر ہے ۔ یعنی جن چیزوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنا واجب ہے ان کا انکار کرنا کفر اور انکار کرنے والا کافر کہلاتا ہے ۔ ( خواہ سب چیزوں کا انکار کرے یا کسی ایک چیز کا ‘خواہ زبان سے انکار کا کوئی لفظ نکالے یا دل سے یقین نہ رکھے ) ٭ کفر نہایت بری چیز ہے اس کا مرتکب (کافر) ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ۔

٭ (شرع میں ) ایمان کی ضد کا نام کفر ہے ۔ یعنی جن چیزوں کی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنا واجب ہے ان کا انکار کرنا کفر اور انکار کرنے والا کافر کہلاتا ہے ۔ ( خواہ سب چیزوں کا انکار کرے یا کسی ایک چیز کا ‘خواہ زبان سے انکار کا کوئی لفظ نکالے یا دل سے یقین نہ رکھے )
٭ کفر نہایت بری چیز ہے اس کا مرتکب (کافر) ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ۔
٭ انسان کو نعمت ایمان حاصل ہونے کے بعد اس کا شکر بجا لانا اس کے لوازم (اعمال صالحہ ) ادا کرتے رہنا اور اسکے زوال سے ڈرتے رہنا چاہئے ۔ پس ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہمیشہ کفر کے اقوال وافعال سے بچتا رہے اور یاد رکھے کہ کلمات کفر کا قصداً زبان سے نکالنا (خواہ مذاق و دل لگی ہی سے کیوں نہ ہو ) آدمی کو کافر بنا دیتا ہے ۔ اگر احیاناً کوئی کلمہ کفر نادانستہ زبان سے نکل جائے تو اور بات ہے۔ اس صورت میں فوراً توبہ کرلینی چاہئے ۔
٭ کلماتِ کفر جن سے آدمی کافر ہوجاتا ہے بہت ہیں لیکن یہاں بطور نمونہ چند کلمات بیان کئے جاتے ہیں ۔ ان سے اور ان کے مثل دوسرے کلمات سے احتراز لازم ہے ۔
٭ اللہ جل شانہ کی جناب پاک میں بے ادبی کرنا یا برا بھلا کہنا ۔
٭ پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کی شان میں بے ادبی کرنا ۔
٭ رسول کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جناب مقدس میں گستاخی کرنا ( مثلاً آپ کے چہرہ مبارک میں یا اوصاف شریفہ سے کسی وصف میں یا آپ کے احکام سے کسی حکم میں کوئی عیب نکالنا ) ۔
٭ قرآن شریف کی کسی آیت کا انکار کرنا یا اس کے ساتھ بے ادبی کرنا ۔ { نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصۂ عقائد }
مرسل : ابوزہیر
بانی جامعہ کے اقوال
٭ وہ لوگ بڑے ناخلف ہیں جن کے دل میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی وقعت نہیں۔
٭ مدار، ثواب و عقاب کا دل کی کیفیات پر ہے اچھا کام بدنیتی سے کیا جائے تو بُرا ہوجاتاہے جیسے ریا کی عبادت اور بُرا کام نیک نیتی سے کیا جائے تو اچھا ہوجاتاہے جیسے اصلاح بین الناس کے خیال سے جھوٹ کہنا۔
٭ دین کی کامیابی عقل کو تباہ کرکے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی کرنے میں رکھی ہے۔
{مقاصدالاسلام حصہ ۱۰}

TOPPOPULARRECENT