Friday , November 24 2017
Home / مضامین / کُفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

کُفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

ظفر آغا
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ! جی ہاں آخر ہندو پاک نے ایک دوسرے سے گفتگو نہ کرنے کی جو قسم کھائی تھی وہ سشما سوراج نے اسلام آباد جاکر توڑ دی ۔ ممبئی میں پاکستانی دہشت گرد حملے کے بعد نہ جانے کتنی بار منموہن سنگھ اور مودی حکومت نے دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو کرنے کی ٹھانی ۔ خبریں تو یہاں تک ہیں کہ پرویز مشرف اور منموہن سنگھ کے درمیان معاملات تقریباً طے بھی ہوگئے تھے پھر یکایک نہ جانے کیا ہوا کہ 26/11 یعنی ممبئی حملہ ہوگیا اور بنتی بات بگڑ گئی ۔ اسی طرح نریندر مودی نے وزارت عظمی کا حلف لیتے وقت اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو دہلی مدعو کرکے دونوں ممالک کے درمیان امن چاہنے والوں کی امیدوں میں چار چاند لگادیئے تھے لیکن اس کے بجائے کہ دونوں ممالک کے وفد ایک دوسرے سے بات کرتے مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے کچھ ہی عرصے بعد سرحد کے دونوں جانب گولیوں کی بارش شروع ہوگئی اور بس پھر امید ٹوٹ گئی ۔

لیکن صاحب ! ہند و پاک عجیب ملک ہیں ۔ یہ دونوں نہ تو جنگ کے بغیر رہ سکتے ہیں اور نہ ہی امن کے بنا جی سکتے ہیں ۔ اس دور جدید میں شاید ہی کوئی دو ملک ایسے ہوں جو 60 برسوں کے اندر چار جنگیں لڑچکے ہوں ۔ لیکن جنگ ختم ہوتی نہیں کہ پھر ہندو پاک امن کے بہانے ڈھونڈنے لگتے ہیں ۔ کبھی کرکٹ کے بہانے تو کبھی غزلوں کے سہارے کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے اور بات چیت شروع ہوجاتی ہے ۔ ارے صاحب جنگوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان شملہ اور لاہور جیسے دو اہم سمجھوتے ہوچکے ہیں ، لیکن مکمل امن ہے کہ ہو کر نہیں دیتا ہے ۔ ہر سمجھوتے کے بعد پھر کوئی بہانہ پیدا ہوجاتا ہے اور بنتی بات بگڑ جاتی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دونوں ممالک میں ایک امن لابی ہے اور ایک جنگ لابی ۔ دونوں ہی ممالک کے اندر بھی ان دونوں لابیوں کے درمیان مستقل رسہ کشی چلتی رہتی ہے ۔ ان دونوں لابیوں میں سے جو لابی جب جہاں حاوی ہوجاتی ہے تب ویسا ہی ہوتا ہے ۔ اس وقت ہند و پاک میں جو صورتحال ہے اس سے یہ عیاں ہے کہ دونوں جانب امن لابی حاوی ہے ۔ لیکن اس بات کی کیا گیارنٹی کہ کل کو کسی ایک ملک میں جنگ لابی حاوی نہ ہوجائے !
بھائی جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو وہاں جنگ لابی کوئی اور نہیں بلکہ فوج ہے ۔ میاں نواز شریف تو جب سے اقتدار میں آئے ہیں تب سے وہ امن کے لئے کوشاں ہیں ۔ وہ یہ بات خود سمجھتے ہیں کہ اگر ہندو پاک کے درمیان مستقل امن قائم ہوجائے تو پاکستان میں فوج کا دبدبہ کمزور ہوجائے گا اور جمہوری قائد کا قد بڑھ جائے گا جو نواز شریف کے حق میں ہوگا ۔ اس لئے میاں صاحب تو امن کو تیار ہیں لیکن پاکستانی فوج کو تو یہ معلوم ہے کہ ہندوستان سے امن میں اس کا قد گھٹ جائے گا ۔ تو پھر بھلا پاکستانی فوج کیونکر امن کے لئے تیار ہوگی ۔ سیاسی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کے سیکورٹی جنرل جنجوعہ اصل میں فوج کے نمائندے ہیں ۔ تب ہی سشما سوراج کو پاکستان بھیجنے سے قبل مودی نے جنجوعہ اور اپنے سیکورٹی مشیر اجیت دوول کے درمیان بات چیت کا ایک راؤنڈ کروا کر یہ بھانپنے کی کوشش کرلی کہ فوج کس حد تک سنجیدہ ہے ۔ فی الحال تو یہ نظر آرہا ہے کہ پاکستانی فوج بھی سنجیدہ ہے ۔ تب ہی مودی نے سشما کو اسلام آباد جانے کی اجازت دے دی اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو شروع ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔

اب سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان وہ کون سے تنازعات ہیں جو امن کے لئے خطرہ ہیں ۔ مسئلہ تو اصل میں وہی ہے ۔ تو وہ تنازعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے  اور اسی مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کو تنگ کرنے کے لئے پاکستان نے دہشت گردی کی حکمت عملی استعمال کرنی شروع کردی ہے  ۔اس لئے اگر کوئی پائیدار امن چاہئے تو دونوں ممالک کو کشمیر پر لچک پیدا کرنی ہوگی جس کے لئے ابھی تک دونوں ممالک پوری طرح تیار نہیں ہیں ۔ لیکن پھر بھی مشرف ۔ منموہن سنگھ کے مشیروں نے اس سلسلہ میں ایک فارمولا طے کیا تھا اور وہ فارمولا کچھ یوں تھا کہ جس کے پاس کشمیر کا جو حصہ ہے وہ ملک وہ حصہ اپنے پاس رکھے اور لائن آف کنٹرول کو دونوں ممالک کے درمیان مستقل سرحد منظور کرلے ۔ دونوں کشمیروں کے درمیان آنے جانے اور تجارت کو بغیر کسی رکاوٹ کے اجازت دے دی جائے ۔ ساتھ ہی دونوں جانب فوجیں آہستہ آہستہ ہٹالی جائیں ۔ یہ وہ چار نکاتی فارمولہ تھا جس کا خاکہ مشرف ۔ منموہن ایلچیوں نے تیار کیا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فارمولے کو تھوڑے رد و بدل کے ساتھ پاکستانی فوج واقعی تسلیم کرے گی ؟

سچ پوچھئے تو مجھ کو اس بات پر یقین نہیں آتا کہ پاکستانی فوج کسی بھی فارمولے کو دل سے تسلیم کرلے ۔ کیونکہ پاکستانی جنرلوں کو یہ معلوم ہے کہ ہند و پاک امن پاکستانی فوج کا ملک کے اقتدار پر اثر آہستہ آہستہ ختم کردے گا ۔ ہم ہندوستانی خواہ لاکھ یہ کہیں کہ مسئلہ کشمیر میں ہم کسی ثالثی کو شریک نہیں کریں گے لیکن پس پردہ ہر بار بات چیت سے قبل امریکہ ثالثی کا رول ادا کرتا ہے ۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سشما سوراج کے دورہ اسلام آباد سے قبل یوں ہی یکایک امریکہ کے دورہ پر نہیں چلے گئے تھے ۔ جنرل صاحب کو امریکہ نے اچھی طرح سمجھایا ہوگا کہ اگر آپ نہیں مانتے تو آپ کی امداد بند ہوسکتی ہے ۔ بس اس دھمکی کے بعد سارے راستے کھلتے چلے گئے اور گفتگو کا سلسلہ شروع ہونے کی تیاری بھی شروع ہوگئی ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ پاکستانی فوج کو کتنا اور کب تک دباسکتا ہے ۔ یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ چین (جس کے تعلقات اس وقت پاکستانی فوج سے بہت اچھے ہیں) بھی پاکستانی فوج کو بہکا سکتا ہے ۔ اس لئے گفتگو کے راستے تو ضرور کھلے ہیں ، لیکن ابھی بھی پائیدار امن کے راستے میں بہت سے پیچ ہیں ۔ جب تک وہ پیچ نہیں کھلتے ہندو پاک امن و جنگ کے درمیان جھولتے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT