Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / کٹھوا گینگ ریپ کیس کا سپریم کورٹ نے نوٹ لیا، نوٹسیں جاری

کٹھوا گینگ ریپ کیس کا سپریم کورٹ نے نوٹ لیا، نوٹسیں جاری

انصاف یقینی بنائینگے : راجناتھ۔ وزیراعظم خاموشی توڑیں:راہول ، عمر

نئی دہلی ؍ سرینگر 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ارکان بار کونسل کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر کے کٹھوا گینگ ریپ اور قتل کیس میں عدالتی کارروائی میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور اس طرح عدالت نے مظلومین کی طرف سے پیش ہونے والے کونسل کو روکنے کی کوشش کا نوٹ لیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے بار کونسل آف انڈیا، اسٹیٹ بار کونسل، جموں ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن اور کٹھوا ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن سے 19 اپریل تک اپنا ردعمل داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ فاضل عدالت نے اس کیس کا ازخود نوٹ لینے سے اتفاق کیا جبکہ کئی وکلاء جنھوں نے عدالت کے روبرو اِس معاملے کا ذکر کیا تھا وہ اِس واقعہ کے تعلق سے مواد کے ساتھ آئے۔ قبل ازیں دن میں عدالت عظمیٰ نے ایک وکیل سے کہاکہ جموں خطہ میں پیش آئے 8 سالہ لڑکی کے گینگ ریپ اور قتل سے متعلق کٹھوا اور جموں و کشمیر بار اسوسی ایشنس کی جانب سے ہڑتال کی اپیل کا عدالتی نقطہ نظر کے ساتھ مواد باقاعدگی سے داخل کیا جائے۔ جموں و کشمیر کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ شعیب عالم نے کہاکہ پولیس نے چارج شیٹ گزشتہ روز ہی مجسٹریٹ کے پاس داخل کی ہے۔ شعیب عالم جنھیں سی جے آئی کورٹ کو طلب کیا گیا، اُنھوں نے فاضل عدالت کے بعض وکلاء کے مطالبات کے مطابق سی بی آئی تحقیقات کرانے کی مخالفت کی اور کہاکہ اسٹیٹ کرائم برانچ اِس معاملہ کی جامع تحقیقات کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پہلے سے ہی طے شدہ قانون ہے کہ چارج شیٹ کسی عدالت میں داخل کردیئے جانے کے بعد اُس معاملہ کی تحقیقات کو سی بی آئی سے رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ شعیب عالم نے کہاکہ پولیس ٹیم کو وکلاء نے دھکم پیل کا نشانہ بنایا اور اُسے کٹھوا کی سی جے ایم کورٹ کے روبرو چارج شیٹ داخل کرنے سے روکا۔ اِس کے بعد پولیس کو اِس کیس کے ملزم اور متعلقہ چارج شیٹ کے ادخال کے لئے مجسٹریٹ کی قیامگاہ کو جانا پڑا۔ نابالغ آصفہ رواں سال 10 جنوری کو جموں و کشمیر میں کٹھوا کے قریب موضع میں واقع اپنے مکان کے پاس سے لاپتہ ہوگئی تھی اور ایک ہفتہ بعد اُسی علاقہ میں اُس کی نعش برآمد ہوئی۔ اِس دوران مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ کٹھوا ریپ کیس کے متاثرہ خاندان سے انصاف ہونا چاہئے۔ اُنھوں نے میڈیا والوں کو بتایا کہ وہ 8 سالہ لڑکی کی فیملی سے مناسب انصاف کو یقینی بنانے کے حق میں ہیں۔ دریں اثناء صدر کانگریس راہول گاندھی اور سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے آج سرینگر سے اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم نریندر مودی سے کٹھوا ریپ کیس پر اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب وزیراعظم نے اُن سے متعلق کوئی اہم مسئلہ پر لب کشائی نہ کی ہو لیکن وہ دیگر سے متعلق اہم مسائل پر پوری طرح خاموش ہیں۔ اُنھوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ اِس لڑکی اور اُس کے خاندان پر بہت ظلم ہوا ہے، اِس لئے وزیراعظم کو یہ معاملے میں ہرگز خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ جموں پولیس کی کرائم برانچ نے کیس کی تحقیقات کے بعد 7 افراد کے خلاف اصل چارج شیٹ اور ایک نابالغ ملزم کے خلاف علیحدہ چارج شیٹ رواں ہفتے کے اوائل ضلع کٹھوا کی عدالت میں داخل کی ہے۔ چارج شیٹ میں تمام تفصیلات بیان کی گئیں کہ کس طرح نابالغ لڑکی کا ایک عبادتگاہ کے اندرون متواتر ریپ کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ اُسے قتل کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT