Wednesday , May 23 2018
Home / Top Stories / کٹھوعہ عصمت ریزی کیس

کٹھوعہ عصمت ریزی کیس

وکیلوں کے احتجاج کو جموں ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن کی عدم تائید
نئی دہلی ۔19اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ کٹھوعہ اجتماعی آبروریزی اور قتل کیس کے سلسلہ میں وکیلوں کے احتجاج کو اس کی تائید حاصل نہیں ہے ۔ بار کونسل آف انڈیا کے مطابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس دیپک مصرا کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کے صدر ایک سابق ہائیکورٹ جج ہوں گے اور یہ ٹیم کٹھوعہ کا دورہ کرے گی تاکہ وہ وہاں کے وکیلوں کے احتجاج کا جائزہ لے سکے ۔ اس دوران کٹھوعہ بار اسوسی ایشن نے بنچ جو جسٹس اے ایم کھانویلکراور ڈی وائی چندر جوڈ پر مشتمل ہے کہا کہ وہ 12اپریل کو ہی احتجاج سے دستبردار ہوچکے ہیں ۔ کٹھوعہ میں وکیلوں کے احتجاج کے پیش نظر مظلوم لڑکی کے والد کی جانب سے مقرر وکیل مسٹر شعیب عالم نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی ہے کہ ان کے مقدمہ کو کٹھوعہ سے چندی گڑھ منتقل کیا جائے تاکہ مظلوم کو انصاف مل سکے ۔ بنچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے معاملات میں عدم مداخلت کے پیش نظر جموں ہائیکورٹ بار اسوسی ایشن نے کہا کہ بی سی آئی اور دوسرے 24 اپریل تک ایک حلف نامہ داخل کریں جس میں آئندہ ہفتہ ہونے والی سماعت کی تفصیلات مہیا کریں ۔ کٹھوعہ اجتماعی ریزی اور قتل کیس میں وکلاء کی مداخلت کا سخت نوٹ لیتے ہوئے تحت کی عدالت نے خود سے ایک کیس درج کرلیا تاکہ انصاف میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائے اور خاطیوں کو قرار واقعی سزا مل سکے اور معزز عدالت نے کہا کہ وکیلوں کی کسی بھی تنظیم کو اختیار نہیں کہ وہ خاطیوں یا مقتولہ کے وکیلوں کیلئے کوئی رکاوٹ پیدا کریں ۔ کمسن مقتولہ 10جنوری کو اپنے گھر روزانہ گاؤں کے قریبی جنگل سے لاپتہ ہوگئی تھی ‘ اس کے ایک ہفتہ بعد اس کی نعش اسی جنگل میں پائی گئی ۔ کرائم برانچ پولیس جو اس کیس کی انکوائری کررہی ہے سات افراد کے خلاف ایک چارج شیٹ اور علحدہ چارج شیٹ نابالغ لڑکے کے خلاف کٹھوعہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس ہفتہ داخل کرچکی ہے ۔اس چارج شیٹ میں رونگھٹے کھڑا کردینے والے حقائق منظر عام پر آئے ہیں کہ کس طرح لڑکی کا اغوا کیا گیا اور اس کے قتل سے قبل اس کو ایک مذہبی مقام پر رکھ کر اس کے ساتھ نہ صرف اجتماعی عصمت ریزی کی گئی بلکہ اس کو نشیلی ادویات بھی دی گئی ۔ اس واقعہ کے بعد سے جموں میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ۔ بار اسوسی ایشن نے خاطیوں کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ ڈوگرا قبیلہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ وکیلوں کی جانب سے احتجاج اور عدالت تک مارچ منظم کیا گیا جہاں پر چارج شیٹ داخل کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT