Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / کٹھوعہ واقعہ کیخلاف غم وغصے کی لہر برقرار، کشمیری حصوں میں جھڑپیں

کٹھوعہ واقعہ کیخلاف غم وغصے کی لہر برقرار، کشمیری حصوں میں جھڑپیں

An Kashmiri college student clashes with Security forces outside a college during a protest against recent killings in Indian administered Kashmir, in Srinagar on April 5,2018.Express Photo By Shuaib Masoodi 04-04-2018

سرینگر ، 21اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل واقعہ کے خلاف وادی کے کچھ تعلیمی اداروں میں ہفتہ کو بھی احتجاجی طالب علموں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھرپیں ہوئیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور اور وسطی کشمیر کے قصبہ چاڈورہ میں کٹھوعہ واقعہ کے ملوثین کو پھانسی دینے کے مطالبے کو لیکر احتجاج کرنے والے طالب علموں کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھرپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں کچھ طالب علموں کے معمولی طور پر زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ اس دوران وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں ہفتہ کو کم از کم دو درجن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حالیہ پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر متعدد تعلیمی اداروں کو ہفتہ کے روز احتیاطی طور پر بند رکھا گیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور میں بدھ کی صبح درجنوں طالب علموں سڑکوں پر نکل آئے اور کٹھوعہ واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے لگے ۔ احتجاجی طلباء جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ، قصورواروں کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ احتجاجی طالب علموں نے مارچ نکالنے کی کوشش کی تاہم جب سیکورٹی فورسز نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی تو احتجاجی طلباء مشتعل ہوئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے ۔ سیکورٹی فورسز نے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے متعدد گولے داغے ۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق قصبہ چاڈورہ میں طالب علموں نے کٹھوعہ واقعہ کے خلاف شدید احتجاج کیا اور سیکورٹی فورسز نے احتجاجی طالب علموں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے متعدد گولے داغے ۔ جھڑپوں میں ایک طالبہ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ واضح رہے کہ کٹھوعہ واقعہ کے خلاف وادی کے تعلیمی اداروں میں گذشتہ قریب دس دنوں سے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ کو مجبوراً بعض تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کی سرگرمیاں معطل رکھنی پڑ رہی ہیں۔ ادھر سری نگر کے تاریخی لال چوک میں ہفتہ کو دوکانداروں نے کٹھوعہ واقعہ کے خلاف ایک گھنٹے تک ہڑتال کی اور احتجاجی دھرنا دیا۔ مصروف ترین ریذیڈنسٹی روڑ اور مولانا آزاد روڑ پر واقع دوکانداروں نے اپنی دوکانیں سہ پہر 3 سے 4 بجے تک بند رکھیں اور کٹھوعہ واقعات کے قصوروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ دوکانداروں کی طرف سے ہڑتال کے دوران احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا۔ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نزدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT