Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / کچرا کی عدم نکاسی سے فضاء میں تعفن، شہریوں کی صحت پر مضر اثرات

کچرا کی عدم نکاسی سے فضاء میں تعفن، شہریوں کی صحت پر مضر اثرات

حیدرآباد 12 فبروری ۔ جی ایچ ایم سی ورکروں کی ہڑتال کے نتیجہ میں سارے شہر میں جابجا کچرے کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ تعفن کے باعث عوام کا سڑکوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور جی ایچ ایم سی اِن بلدی ورکروں کے جائز مطالبات ماننے سے انکار کرتے ہوئے ’’شہر کا کچرا‘‘ کررہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف عل

حیدرآباد 12 فبروری ۔ جی ایچ ایم سی ورکروں کی ہڑتال کے نتیجہ میں سارے شہر میں جابجا کچرے کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ تعفن کے باعث عوام کا سڑکوں سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور جی ایچ ایم سی اِن بلدی ورکروں کے جائز مطالبات ماننے سے انکار کرتے ہوئے ’’شہر کا کچرا‘‘ کررہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں کا دورہ پر پتہ چلا کہ کچرا کوڑے دانوں سے نکل کر سڑکوں پر پھیل گیا ہے۔ گزشتہ چار یوم سے کچرا کی نکاسی نہ ہونے کے باعث سارے شہر میں تعفن پھیلا ہوا ہے اور شہر خاص طور پر پرانے شہر کی مختلف بستیوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ عوام عوامی نمائندوں بالخصوص بلدی کارپوریٹرس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حکام پر برہم ہیں۔ ان کے خیال میں ان عوامی نمائندوں کو چاہئے کہ وہ بلدی ملازمین کی ہڑتال ختم کروانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ واضح رہے کہ شہر میں یومیہ اوسطاً 4000 میٹرک ٹن کچرے کی نکاسی عمل میں آتی ہے اور یہ کام جی ایچ ایم سی کے تقریباً 25 ہزار ورکرس انجام دیتے ہیں۔ ان ہڑتالی ملازمین کے مطالبات میں جہاں تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ شامل ہے وہیں کنٹراکٹ کی بنیاد پر کام کرنے والے ورکروں کی خدمات کو مستقل بنانا، کچرے کی نکاسی کیلئے استعمال کی جارہی گاڑیاں جوکہ قدیم ہوگئی ہیں، ان کی جگہ نئی گاڑیوں کی فراہمی، کچرے کی نکاسی کے لئے زیراستعمال آہنی کوڑے دانوں پر ڈھکنوں کی تنصیب، ملازمین کیلئے انشورنس اور طبی سہولتوں کا انتظام اور کچرے کی نکاسی کے دوران مختلف جراثیم اور وائرس کی زد میں آنے سے بچاؤ کیلئے ریڈیم جیاکٹس، دستانوں، بوٹس وغیرہ فراہم کرنا شامل ہے۔

ہڑتالی ملازمین کی یونینوں کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایم سی کو سالانہ ایک ہزار کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس (محصول جائیداد) حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر بلدیہ اپنے ملازمین کی بہبود کیلئے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کے لئے 100 کروڑ روپئے خرچ نہیں کرتی ہے تو پھر فائدہ کیا ہے۔ ان یونینوں کے لیڈروں کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں بلدی ورکروں کی تنخواہیں 6700 روپئے ہے جبکہ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اقل ترین تنخواہ 16700 روپئے کردی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چار یوم کے دوران شہر میں 12000 ٹن کچرا جمع ہوگیا ہے۔ اگر آئندہ48 گھنٹوں میں حکومت بلدی ورکروں کے مطالبات ماننے میں ناکام ہوتی ہے تو پھر شہر کی سڑکوں اور کوڑے دانوں میں 20 ہزار ٹن کچرا جمع ہوجائے گا۔ ان حالات میں شہریوں بالخصوص معصوم بچوں اور ضعیف مرد و خواتین کے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ اگر شہر کے ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا ہو تو آپ کو بار بار کچرے کے ڈھیر پر سے ہوکر گزرنا پڑے گا۔ اس طرح فضاء میں تعفن پھیلا ہوا ہے۔ کچرے کی نکاسی کے لئے ہڑتالی ملازمین کے مطالبات ماننے کے بجائے وزیر بلدی نظم و نسق مہدر ریڈی، میئر اور کمشنر بلدیہ مسٹر سومیش کمار برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ وقت ملازمین پر برہمی کا نہیں بلکہ شہریوں کو امکانی وباؤں سے بچانے کا ہے۔

شہر کے کئی ایک مقامات کے کوڑے دانوں کے باہر مرے ہوئے پائے گئے جس سے تعفن میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اسکولوں اور مکانات کے قریب واقع کوڑے دانوں میں کچرا بھر جانے سے وہاں کے مکین کافی پریشان ہیں۔ لوگ اپنی ناک اور منہ پر ہاتھ رکھے گزرنے پر مجبور ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کو شہریوں کی پریشانیوں کا کوئی خیال نہیں بلکہ وہ ہڑتالی ملازمین کے خلاف ESMA قانون کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بہرحال حکومت کا شہریوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے فوری اقدامات کرنا ضروری ہے ورنہ کوئی وباء پھوٹ پڑجائے تو اس کے لئے حکومت ہی ذمہ دار ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT