Friday , September 21 2018
Home / Mera Column / کچھ باتیںانعاموںکی

کچھ باتیںانعاموںکی

میرا کالم مجتبیٰ حسین
(کچھ عرصہ پہلے دوحہ قطر کی تنظیم ’’بزمِ صدف انٹرنیشنل‘‘ نے مجھے اپنا عالمی انعام دینے کا اعلان کیا تھا اور مجھ سے ایوارڈ کو حاصل کرنے کی غرض سے 29 ڈسمبر کو پٹنہ میں منعقد ہونے والی ایک تہنیتی تقریب میں شرکت کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چنانچہ مقررہ تاریخ کو میں پٹنہ کی فضاؤں میں تو پہنچ گیا لیکن پٹنہ میں موسم اتنا خراب تھا کہ طیارہ وہاں کے ہوائی اڈہ پر اُتر نہ سکا بلکہ کولکتہ چلا گیا۔ بحالتِ مجبوری مجھے طیارہ میں بیٹھے بیٹھے ہی کولکتہ سے فون پر تقریب کے سامعین کو مخاطب کرنا پڑا اور میں نے سامعین سے کہا کہ جس طرح غائبانہ نمازِ جنازہ ادا ہوتی ہے، اسی طرح اس محفل کو غائبانہ ایوارڈ تقریب سمجھیں۔ قدرت کبھی کبھی میرے ساتھ ایسا ہی عملی مذاق بھی کرتی ہے۔ حسب ذیل تحریر اسی موقع کیلئے لکھی گئی تھی جو تقریب میں پڑھی نہیں جاسکی )۔ مجتبیٰ حسین
معزز خواتین وحضرات ! جوں جوں میں اپنی تاریخ ِپیدائش سے بہت دْور اور اپنی تاریخ ِوفات سے قریب ترہوتاجارہاہوں مجھے شدت سے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ میری عمر کی نقدی اب قریب الختم ہے اور مجھے اْدھارکی حاجت ہے۔یوں سمجھیے کہ اب میں “ڈیلی ویج”کے اْصول پرزندہ رہ کر روز کی زندگی روزجیتاچلاجارہاہوں۔ بہت پہلے داؔغ دہلوی نے ایک شعر کہا تھا   ؎
ہوش وحواس ،تاب وتواں داغ جاچکے
اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
مگر میرا معاملہ یہ ہے کہ میرے تاب وتواں تو کب کے جا چکے ہیں البتہ میرے ہوش وحواس اب بھی صحیح وسالم ہیں۔یوں سمجھیے کہ میرا بڑْھاپااپنے شباب پر ہے اورمجھ میں اس سے زیادہ بوڑھاہونے کی دوردور تک کوئی گنجائش نظرنہیں آتی۔ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتا ہوں اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی  ہے۔
حضرات! اس سے پہلے کہ میں بزمِ صدف انٹرنیشنل دوحہ قطر کے اربابِ مجاز کی جانب سے مجھے ملنے والے انعام کا تہہ دل سے شکریہ اداکروںمیںیہاںاپنے بزرگ دوست ملک زادہ منظوراحمدمرحوم کی مشہورخودنوشت ’’رقصِ شرر‘‘ کاحوالہ دینا چاہونگا جس میں انھوں نے 2000 ء میں میرے ساتھ پیش آئے ایک واقعہ کا ذکر کیا  ہے جسے آپ اْن ہی کی زبانی سماعت فرمائیے۔
اس خاکسارپرایک وقت ایسابھی بیت چکاہے جب انواع واقسام کے ایوارڈدینے والوںکے ہاتھوںناچیزکے دونوںہاتھ تھکنے لگے تھے۔ یہ بھی ایک ستم ظریفی ہے کہ میری مزاح نگاری پر سے بائیس برسوں تک کاعرصہ بیت جانے کے باوجودکسی اْردو تنظیم نے مجھے انعام دینے کے قابل نہیں سمجھاتھا۔ تاہم 1980 میںاْڑیازبان کے ادیبوںکی تنظیم سرس ساہتیہ سمیتی نے مجھے ’’ہاسیہ رتن‘‘یعنی (گوہرِمزاح)کے اعزازسے نہ صرف نوازابلکہ کٹک میںدوروزہ جشن منعقدکرکے اْڑیازبان میںمیرے مضامین کی ضخیم کتاب بھی شائع کی۔
مجھے یہ کہتے ہوئے فخرمحسوس ہوتاہے کہ میںنے اپنی زندگی میں اْردو کاپہلاانعام جوپہلاغالب انعام برائے اْردوطنزومزح بھی تھا‘ وزیراعظم ہندوستان شریمتی اندراگاندھی کے مبارک ہاتھوںسے حاصل کیا۔یہ 1984کی بات ہے۔ اس کے بعدیوںسمجھیے کہ مجھ پراْردووالوںکی طرف سے انعامات اوراعزازات کی بوچھاڑسی لگ گئی۔ملکی انعامات واعزازات کے علاوہ مجھے سعودی عرب، مسقط، دوبئی، کناڈا،برطانیہ،امریکہ اورپاکستان سے بھی بیسیوںانعامات ملے۔ تاہم 2000 میںجب مجھے ہندوستانی نڑادامریکی مسلمانوںکی تنظیم (American Federation of Muslims of Indian Origin)کی جانب سے رات کے دوبجے فون پریہ اطلاع ملی کہ اس تنظیم نے مجھے 2006کیلئے میرتقی میرایوارڈدینے کافیصلہ کیاہے تومیںنے گہری نیندسے جاگ کرہڑبڑاتے ہوئے پوچھا’’یہ میرتقی میرصاحب کون ہیں؟۔گرین کارڈہولڈر ہیں یا باضابطہ امریکی شہری ہیں؟۔ انجینرہیںیاڈاکٹر ہیں؟‘‘۔
جواب آیا’’یہ وہی میرتقی میرہیںجنھیںٹْک روتے روتے سوجانے کی پرانی عادت تھی۔یہ الگ بات ہے کہ آپ ٹْک ہنستے ہنستے سوجانے کے عادی ہیں‘‘۔یادش بخیر! ایسی ہی اتفاقی ہڑبڑاہٹ اوربوکھلاہٹ مجھ پراْس وقت طاری ہوگئی تھی جب2007میںحکومت ہندنے ناچیزکوپدم شری کے اعزازسے نوازاتھا۔یقین مانیے دنیابھرسے مبارکبادیوںکے سینکڑوںفون وصول ہونے لگے اورناچیزکی زبان شکریہ اداکرتے کرتے سوکھ گئی۔ایسے میںمیرے ایک بدخواہ اورحاسدنے جب فون پرمجھے گالیاںدینی شروع کیں توتب بھی میںیہی کہتا رہ گیا ’’آپ کا بہت بہت شکریہ۔آپ کی عنایتوںاورذرّہ نوازی کے لئے تہہ دل سے شکرگزارہوں‘‘۔بہرحال فون اْٹھاتے اْٹھاتے جب میںعاجزآگیاتومیںنے اپنی اہلیہ سے کہاکہ اب وہ فون اْٹھائیںتاکہ میںکچھ دیرآرام کرسکوں۔مگرپہلے ہی فون کال پرکسی نے ہماری بیگم سے پوچھ لیا’’کیاپدم شری گھرپرہیں؟‘‘۔
محترمہ نے کہا’’جی ہیںتوسہی مگرذراآرام فرمارہے ہیں‘‘
دوسری طرف سے آوازآئی’’آپ کون بول رہی ہیں؟‘‘۔
اس پرمیری اہلیہ نے بے ساختہ کہا ’’میںشریمتی پدم شری بول رہی ہوں‘‘۔
اس پر میںنے اْن کے ہاتھ سے ریسیورکوچھینتے ہوئے کہا ’’محترمہ!بوکھلاہٹ میںآپ بھی مزاح نگا ربنتی چلی جارہی ہیں‘‘۔
آج جب میںپیچھے ْمڑکردیکھتاہوںتواحساس ہوتاہے کہ انعامات دینے والوںنے ماضی میںمجھے انعام دینے کے معاملہ میںاتنی عجلت اورجلدبازی دکھائی کہ انعامات کاحصول اب میرے حق میںگھاٹے کاسودامعلوم ہوتاہے۔چنانچہ 1984 میںمجھے جوپہلاغالب انعام ملاتھاتواْس کی مالیت اْن دنوںدس ہزارتھی جب کہ آج اس کی مالیت پچھترہزارکی ہے-1993میںجب مجھے آندھراپردیش اْردو اکیڈمی کاکل ہند مخدوم محی الدین ایوارڈملاتھاتواْس کی مالیت اْن دنوںپندرہ ہزارتھی جب کہ آج یہ انعام سوالاکھ کاہے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش،کرناٹک، ہریانہ، مہاراشٹرا، پنجاب اوردہلی کی اْردواکیڈیمیوںنے طنز ومزاح کے فروغ کے لئے جوانعامات مجھے دئے تھے اْن کی مالیت اْن دنوںفی کس پندرہ ہزارتھی مگرآج ان سب کی مالیت پچاس ہزارروپئے ہوگئی ہے۔یوںلگتاہے جیسے اِن اداروں نے مجھے قبل ازوقت انعامات دے کرایک گہری سازش رچی تھی تاکہ میںتونگراورمالدارنہ بن سکوں۔
انعامات یادآنے لگے ہیں تواب مجھے اپنے بزرگ دوست آنجہانی تاراسنگھ کامل کی یاد آرہی ہے جوپنجابی زبان کے بہت بڑے شاعر تھے۔انھیںجب حکومت پنجاب نے اْن کی مجموعی خدمات کے اعتراف میںاپنے سب سے بڑے انعام سے نوازاتومیںنے تاراسنگھ کامل کومبارکباددی۔اس پرانھوںنے آنکھ مارکرہنستے ہوئے کہا’’میاںمجتبیٰ!اس میںمبارکباددینے کی کیاضرورت ہے۔ تم توجانتے ہوکہ اس طرح کے ایوارڈکس طرح حاصل کئے جاتے ہیں‘‘۔
ایک زمانہ تھاجب ایوارڈوںکے معاملہ میںصرف دوفریقوںکے ہاتھوںکی اہمیت ہواکرتی تھی۔ایک ہاتھ ایوارڈدیتاتھا اوردوسراہاتھ اس ایوارڈ کوقبول کرتاتھا۔لیکن اب اس میںایک تیسراہاتھ بھی نمودارہوگیاہے جو ایوارڈ دلاتا ہے۔ اب اہمیت ایوارڈدینے اورلینے والے کی نہیںرہ گئی ہے بلکہ ایوارڈ دلانے والے کاہاتھ ہی مرکزی اہمیت اختیارکرگیاہے۔ میرے ایک معصوم دوست نے برملایہ اعتراف کیاتھاکہ اس نے پچاس ہزارروپیے کاایک ایوارڈ حاصل کرنے کی غرض سے جملہ پچھترہزارروپئے خرچ کئے تھے۔آپ کویقینا پتہ ہوگاکہ بعض اداروںکے انعام اتنے بے توقیراورکم سوادہوچکے ہیںکہ جس کسی کویہ انعام ملتاہے وہ انعام یافتہ کم اورسزایافتہ زیادہ نظرآنے لگتاہے۔ خداکالاکھ لاکھ احسان ہے کہ عمرکے پچاسی برس گزارنے کے باوجودمیںنے کسی ایوراڈکے حصول کے لئے نہ توکسی کے آگے اپنا ہاتھ پھیلایااورنہ ہی کسی تیسرے ہاتھ کی خدمات حاصل کیں۔
خواتین وحضرات ! میںکسی مصلحت پسندی کے بغیرببانگ دہل یہ اعلان کرنا چاہتاہوںکہ یوںتوساری اْردودنیامیںمیرے بے شمارمدّاح اوربہی خواہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن میرے مدّاحوںکی اکثریت بہارمیںزیادہ آباد ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایساگزرتاہوجب بہارسے میرے پاس کسی نہ کسی مدّاح کافون نہ آیاہو۔اپنے بہاری دوستوںاورکرم فرماوںکے نام گنانے لگوںتوقصہ طولانی ہوجائے گا۔یوںبھی یہ معاملہ حسابِ دوستاںدردل والا ہے۔ یہی نہیں 2011 میں جب مجھے وزٹینگ پروفیسربننے کا اعزازحاصل ہوا تواندازہ ہواکہ قدرت نے بہارکے مایہ نازسپوت اوربہارکے پروفیسر سیدمحمدحسنین کے فرزندپدم شری احتشام حسنین کو محض اس لئے حیدرآبادسنٹرل یونیورسٹی کاوائس چانسلرمقرر کیاکہ ایک دن وہ مجھے اپنی یونیورسٹی میں بالآخروزٹینگ پروفیسرمقرر کردیں۔مجھ جیسے نرے گریجویٹ کے لئے یہ ایک بہت بڑااعزازتھا۔
بہرحال پچھلے دنوںمیںحسبِ معمول اپنے سفرِآخرت کی تیاریوںمیںمشغول تھاکہ پردۂ غیب سے میرے ٹیلی فون پرآوازآئی ’’میں پٹنہ سے صفدرامام قادری بول رہاہوں۔آپ کویہ خوش خبری سنانی ہے کہ بزم ِصدف انٹرنیشنل ایوارڈکی انعامی کمیٹی نے آپ کو2017کا اپنا عالمی انعام دینے کا فیصلہ کیاہے جس کی مالیت ایک لاکھ روپئے ہوگی۔ میںنے جواباً کہا’’قبول کیامیںنے‘‘۔اس کے فوراًبعدایوارڈکمیٹی کے کنوینر پروفیسر زاہدالحق‘ جومیرے بہت پرانے ناقابل علاج مدّاح اوربہی خواہ ہیں ‘کی غیبی آوازآئی۔’’جناب مجھے آپ کی صحت کی خرابی کاعلم ہے۔ لہذا میں خود 29 ڈسمبر کوآپ کولے کرپٹنہ آؤں گااورپھر31ڈسمبرکوحیدرآبادبھی واپس لے جاونگا‘‘۔
دیکھاآپ نے حضور! یاتومیںکچھ دیرپہلے اپنے سفرِآخرت کی تیاریوںکے بارے میںغورکررہاتھاکہ اچانک پٹنہ کے سفرکے بارے میںسوچنے کامرحلہ آگیا۔ میرے ایک بہاری دوست نے بہت پہلے کہاتھا’’مجتبیٰ حسین !زمانہ تمھیںجینے نہیں دیگا اوربہاری تمھیںمرنے نہیں دیںگے‘‘۔میںبزم صدف انٹرنیشنل کے اربابِ مجاز شہاب الدین احمد،پروفیسرصفدرامام قادری،پروفیسرزاہدالحق اوررفیق دیرنہ ڈاکٹر ظفرکمالی کے علاوہ انعامی کمیٹی کے معزز ارکان پروفیسر مشتاق احمدنوری، پروفیسر ارتضیٰ کریم،پروفیسرمحمودالاسلام (بنگلہ دیش)اوربہارکے ادب دوستوں کا تہہ دل سے ممنون ہوں جنھوںنے مجھ ناچیز پر ہمیشہ اپنی محبتیں نچھاورکیں۔
خواتین وحضرات!جیساکہ آپ جانتے ہیںاپنے ادبی سفرمیںمجھے بہت سے انعامات مل چکے ہیں۔کئی انعامات تومیری مجموعی خدمات کے صلہ میں بھی ملے ہیں۔ کیایہ ممکن ہے کہ اگلی بارجب مجھے کوئی ایوارڈملے تووہ میری ’’مجموعی خدمات‘‘ پرنہ ہو بلکہ میرے’’ مجموعی انعامات‘‘پربھی ہواورکیاہی اچھاہوکہ ایسے انعام کے پیچھے بھی کسی بہاری کرم فرماکاہی ہاتھ ہو(آمین)رہے نام اللہ کا۔
TOPPOPULARRECENT