Tuesday , October 23 2018
Home / مضامین / کچھ ہم ہی جانتے ہیں تیری ادا، تیرا چلن

کچھ ہم ہی جانتے ہیں تیری ادا، تیرا چلن

 

رشیدالدین
گجرات کی سیاسی لڑائی کا پہلا مرحلہ طوفانی مہم اور الزامات کی بوچھار میں رائے دہی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کے لئے بی جے پی اور کانگریس نے انتخابی مہم کو تیز کردیا ہے اور روزانہ ایک دوسرے کے خلاف سیاسی وار کئے جارہے ہیں۔ 14 ڈسمبر کو دوسرے مرحلہ کی رائے دہی مقرر ہے اور 18 ڈسمبر کو ریاست کے سیاسی مستقبل پر عوامی فیصلہ منظر عام پر آجائے گا۔ گجرات کی تاریخ میں شائد یہ پہلا موقع ہے ، جب انتخابی مہم میں وزیراعظم اور ساری مرکزی کابینہ کو جھونک دیا گیا ۔ بی جے پی اپنے قلعہ کو کسی صورت ہارنا نہیں چاہتی۔ 22 برسوں سے گجرات پر بی جے پی کا راج ہے لیکن اس مرتبہ کانگریس سے سخت چیلنج درپیش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ گجرات میں اپنی ٹیم کے ساتھ عملاً کیمپ کئے ہوئے ہیں۔ بی جے پی 150 نشستوں کے نشانہ کے ساتھ میدان میں ہے لیکن سیاسی مبصرین اور اوپنین پول کے نتائج کے اعتبار سے بی جے پی سادہ اکثریت کے ساتھ اقتدار میں برقرار رہے گی جبکہ کانگریس کی موجودہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ گجرات کی انتخابی مہم کو بی جے پی نے مذہبی رنگ دیدیا ہے۔ ترقی کے بجائے ہندوتوا کو انتخابی موضوع بنایا گیا۔ فرقہ وارانہ نوعیت کا کوئی حساس مسئلہ ایسا نہیں جسے بی جے پی نے ہوا نہ دی ہو۔ کانگریس نے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور گزشتہ 5 برسوں میں وعدوں کی تکمیل کو انتخابی مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہندوتوا بمقابلہ جی ایس ٹی الیکشن کو آخری ایام میں مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ آخر کار کانگریس نے بھی نرم ہندوتوا کے ذریعہ کٹر ہندوتوا کا جواب دینے کی ٹھان لی ہے۔ راہول گاندھی نے گجرات میں 20 سے زائد مندروں کے درشن کئے، انہیں انتخابی مہم کے دوران وضاحت پر مجبور ہونا پڑا کہ وہ ہندو ہیں۔ مندروں کے لگاتار درشن کے باوجود راہول گاندھی کے ہندو ہونے پر سوال برقرار ہے۔ پہلے مرحلہ میں نریندر مودی اپنی ٹیم کے ساتھ سرگرم تھے جبکہ کانگریس میں راہول گاندھی تنہا بہ تقدیر انتخابی مہم کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ پارٹی کے سینئر قائدین نے راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگادیا۔ ایسے وقت جبکہ وہ پارٹی صدارت کیلئے تاج پوشی کے قریب ہیں ، گجرات میں ان کا پہلا امتحان ہے۔ راہول کو صدارت کی ذمہ داری کانگریس کی مجبوری اور موجودہ صورتحال میں وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن اس فیصلہ سے بعض سینئر قائدین ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ وہ قائدین ہیں جن کی نظریں صدارتی عہدہ پر تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انتخابی مہم سے کئی سینئر قائدین غائب ہیں۔ نائب صدر کی حیثیت سے انتخابات میں کانگریس کے بہتر مظاہرہ کو کئی ریاستوں میں راہول گاندھی توقع کے مطابق کرنے میں ناکام رہے۔ اترپردیش سمیت دیگر ریاستوں میں وہ پارٹی کو توقع کے مطابق کامیابی نہیں دلا سکے۔ حال ہی میں پنجاب میں اقتدار کی واپسی نے راہول کے امیج کو بڑھانے کا کام کیا اور گجرات کا اہم امتحان ہے۔ دوسری طرف مودی اور امیت شاہ کی ریاست میں 22 سالہ اقتدار کا خاتمہ آسان نہیں اور راہول گاندھی بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پٹیل برادری کی تائید اقتدار تک پہنچنے کا زینہ نہیں بن سکتی ۔ گجرات بچانے کیلئے بی جے پی کچھ بھی کرسکتی ہے۔ انتخابی دھاندلیاں ، ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر ، سرکاری مشنری کا بیجا استعمال، الیکشن عہدیداروں پر اثر انداز ہونا ، الغرض ہر طرح کے حربے استعمال کئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ مودی۔امیت شاہ جوڑی کی عزت کا سوال ہے۔ انتخابی مشینوں کا کھیل یو پی اور دیگر علاقوں میں دیکھنے کو ملا لیکن الیکشن کمیشن ماننے کیلئے تیار نہیں ۔ عام آدمی پارٹی نے دہلی کی اسمبلی میں مشینوں میں دھاندلی عملی مظاہرہ پیش کیا۔ اترپردیش کے مجالس مقامی چناؤ میں بعض پولنگ بوتھ پر مشینوں میں بی جے پی فکسنگ کو عوام نے بے نقاب کیا ۔ کیا عجب ہے کہ گجرات میں بھی یہی تکنیک اپنائی جائے اور جو بھی بٹن دبائیں ، ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں جائیں۔ اگر انتخابات بیلٹ پیپر پر ہوتے ہیں تو حقیقی نتائج منظر عام پر آئیں گے۔ دنیا میں تمام ترقی یافتہ ممالک میں آج بھی بیلٹ پیپر کے ذریعہ الیکشن آتا ہے کیونکہ یہ مشین میں دھاندلی بآسانی ممکن ہے ۔ ہندوستان دیگر معاملات میں مغربی ممالک کی نقل ضرور کرتا ہے لیکن الیکشن کے معاملہ میں اسے صرف مشینوں پر بھروسہ ہے۔ یوں بھی انتخابات آج کل دھاندلیوں ، طاقت اور دولت کے استعمال کے علاوہ سرکاری مشنری کے ذریعہ جیتنے کا رجحان ہے۔ کانگریس پارٹی کمزور تنظیمی ڈھانچہ کے ذریعہ گجرات میں بی جے پی کی دھاندلیوں کا مقابلہ کس حد تک کر پائے گی؟ کانگریس کے پاس ورک فورس نہیں جو دھاندلیوں کو روک سکے۔ ہر بوتھ پر ایجنٹ بھی مشکل سے دستیاب ہوں گے۔ ایسے میں صرف راہول گاندھی کی تقاریر سے کامیابی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ بی جے پی کی ہر چال اور دھاندلی کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے کیڈر کی کانگریس میں کمی ہے ۔ اس صورتحال کا پورا فائدہ بی جے پی اٹھاسکتی ہے۔
اترپردیش میں ہندوتوا ایجنڈہ کے کامیاب تجربہ کو گجرات میں دہرانے کیلئے یوگی ادتیہ ناتھ کو یو پی ماڈل کے طور پر گھمایا جارہا ہے۔ گجرات ماڈل جو ہمیشہ ترقی کے اظہار کیلئے ملک بھر میں پیش کیا گیا، آج وہی ریاست ہندوتوا ایجنڈہ پر واپسی کیلئے مجبور دکھائی دے رہی ہے۔ مقصد صرف ایک ہے اور وہ انتخابات میں کامیابی ۔ وزیراعظم سے لیکر ایک معمولی مقرر تک ہر کسی نے فرقہ وارانہ حساس مسائل کو چھیڑ کر ہندوؤں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے۔ گجرات کی انتخابی مہم اترپردیش سے چلائی جارہی ہے ۔ رام مندر کی تعمیر کے مسئلہ پر وی ایچ پی اور دوسری بھگوا تنظیموں نے عدالت کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تعمیر کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ یہ اشتعال انگیزی دراصل گجرات مہم کا حصہ ہے۔ گجرات کی ترقی کے بجائے طلاق ثلاثہ ، لو جہاد ، رام مندر ، یکساں سیول کوڈ ، حتیٰ کہ مغل بادشاہوں کو بھی مہم میں بخشا نہیں کیا گیا۔ گجرات میں کئی مغل اور دیگر حکمرانوں کی روح پہنچ گئی ہوگی کیونکہ بابر ، اکبر ، جہانگیر ، شاہ جہاں ، اورنگ زیب کے علاوہ علاء الدین خلجی اور محمد بن تغلق بھی قائدین کی زبان پر رہے۔ پہلے مرحلہ کی مہم کے آخری دن وزیراعظم نریندر مودی کو کانگریس کے لیڈر منی شنکر ایر کے ایک ریمارک کا سہارا لیتے ہوئے عوام کے درمیان خود کو معصوم ثابت کرنے کا موقع ملا۔ منی شنکر ایر نے جو نہرو اور گاندھی خاندان سے کافی قربت رکھتے ہیں ، مودی کی جانب سے اس خاندان کی توہین اور الز ام تراشی سے برہم ہوکر ایک ایسا جملہ ادا کیا جو معنویت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ لفظ ’’نیچ‘‘ کو مودی نے نہ صرف گجرات کی توہین بلکہ گجراتیوں کو نیچ طبقہ قرار دینے سے جوڑتے ہوئے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کانگریس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے منی شنکر ایر کو معطل کردیا ہے۔ کانگریس کا یہ اقدام بی جے پی کے پروپگنڈہ سے مرعوب اور ڈر کا نتیجہ دکھائی دے رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کانگریس۔بی جے پی پروپگنڈہ کا مقابلہ کرتی ۔ سیاست دانوں کا مزاج دراصل حسیناؤں کی طرح ہوچکا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے حسن و جمال کی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ تنقید انہیں ہرگز برداشت نہیں جبکہ تنقید اور نکتہ چینی جمہوریت کا خاصہ اور لوازما ہے۔ انتخابات میں تو اس طرح کے ریمارکس ہر دور میں کئے جاتے رہے ہیں ۔ ان کے بغیر انتخابات کا لطف بھی نہیں آتا لیکن مودی نے چالاکی سے منی شنکر ایر کے ریمارک کو دوسرا رخ دیدیا ۔ جمہوریت میں اس طرح کی تنقیدوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا جاتا ہے۔ منی شنکر ایر جو ایک دانشور ہیں ، انہوں نے اس بات کی وضاحت کردی کہ وہ ہندی میں کمزور ہے۔ اس کے باوجود ان کے ریمارک کو خوب اچھالا گیا۔ مودی بریگیڈ نے انتخابی فائدہ کیلئے چاپلوسی کی حد کردی ہے۔ دہلی میں کام کاج چھوڑ کر گجرات میں مودی کے دامن پر لگے داغ دھونے میں مصروف ہیں اور منی شنکر ایر کی آڑ میں مودی کی چاپلوسی کی دوڑ لگ چکی ہے۔ کیا واقعی منی شنکر ایر کا ریمارک اس قدر قابل اعتراض ہے کہ اس پر بی جے پی واویلا مچائے۔ کانگریسی قائد نے نہرو اور گاندھی خاندان کے باوقار وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا، لہذا ایسی شخصیت کا مودی کے خلاف ریمارک فطری ردعمل ہے۔ مودی خود کو جس انداز میں معصوم پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیا حقیقت میں وہ ہمدردی کے لائق ہیں؟ ملک کے عوام گجرات میں 3000 مسلمانوں کے قتل عام کو نہیں بھولے اور مودی نے آج تک اس پر اظہار افسوس تک نہیں کیا۔ یہی مودی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو ’’کتے کا بچہ‘‘ کہا تھا ، اس وقت کسی بی جے پی قائد نے اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی مسلمانوں سے ہمدردی جتائی۔ آج صرف ایک ریمارک پر آسمان سر پر اٹھالیا گیا ہے ۔ یہ وہی مودی ہیں، گجرات فسادات کے بعد امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔اس وقت مودی اور بی جے پی قائدین کی عزت نفس کہاں گئی اور آج اسی امریکہ کی خوشنودی کا یہ عالم ہے کہ امریکی صدر کی بیٹی کے استقبال کیلئے مودی دہلی سے حیدرآباد پہنچ گئے۔ شہود عالم آفاقی نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
کچھ ہم ہی جانتے ہیں تیری ادا، تیرا چلن
ائے زمانے تو کسی کا نہیں ہونے والا

Top Stories

TOPPOPULARRECENT