Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / کھتولی میں پٹریوں کی درستگی کیلئے اسٹیشن ماسٹر نے اجازت طلب کی تھی

کھتولی میں پٹریوں کی درستگی کیلئے اسٹیشن ماسٹر نے اجازت طلب کی تھی

دو مرتبہ درخواست کے باوجود حکام کے انکار کا انکشاف ، سخت کارروائی کا انتباہ،ٹرینوں کی آمد و رفت بحال
مظفرنگر ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے آج دعویٰ کیا کہ کھتولی کے اسٹیشن ماسٹر نے دہلی میں واقع ریلوے کنٹرول روم سے کم سے کم دو مرتبہ درخواست کی تھی کہ ریلوے پٹریوں کی درستگی کیلئے اس روٹ پر ٹریفک کی آمدورفت کو روک دیا جائے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں پٹریوں کی درستگی کے کام میں مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا رہا تھا۔ ریلوے پٹریوں کی درستگی اور دیکھ بھال کے کام کیلئے گاڑیوں کی نقل و حرکت کو روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قسم کی پابندی کی اجازت سکشن کنٹرولر کی طرف سے دی جاتی ہے جو اس واقعہ کے معاملہ میں دہلی ڈیویژنل ریجنل منیجر کے دفتر کے تحت ہوتی ہے۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’اسٹیشن ماسٹر نے ’’ٹریفک بلاک‘‘ کیلئے کنٹرولر سے درخواست کی تھی لیکن انکار کردیا گیا۔ یہ ایک بڑی اور سنگین لاپرواہی تھی‘‘۔ ریلوے سیفٹی کمشنر سیلیش کمار پاٹھک نے جو 19 اگست کو اٹکل ایکسپریس کے پٹریوں سے اترنے کے واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔ آج اس مقام کا معائنہ کیا اور متعلقہ عہدیداروں سے بات چیت کی۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ پاٹھک کو بھی ’’ٹریفک بلاک‘‘ کی اجازت نہ دیئے جانے کے واقعہ کا علم ہوا ہے اور وہ متعلقہ عہدیداروں کے خلاف کارروائی پر غور کررہے ہیں۔ پاٹھک نے کہا کہ وہ ریلوے بورڈ کو اپنی رپورٹ پیش کررہے ہیں۔ خاطیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’یہ ریلوے تاریخ میں سب ے بڑی کارروائی ہوگی۔ مملکتی وزیر ریلوے منوج سنہا نے کہا کہ اس حادثہ کے ذمہ داروں کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات جاری ہیں اور خاطیوں کے خلاف ایسی سخت کارروائی کی جائے گی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں مل سکتی۔ شمالی ریلویز نے کہاہے کہ ٹرین کے پٹریوں سے اُترجانے کے بعد کتھاولی میں معطل شدہ ریل ٹرافک آج دوبارہ بحال کرلی گئی جس کے بعد وہاں سے پہلی ٹرین رات 1:21 منٹ پر روانہ ہوئی ۔ شمالی ریلویز نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ ’’54542 امبالہ۔ میرٹھ سٹی پاسنجر ٹرین رات 1 بجکر 21 منٹ پر کتھاولی سے روانہ ہوئی ‘‘ ۔ واضح رہے کہ ہفتہ کی شام اس مقام پر اُٹھکل ایکسپریس کے 13 کوچ پٹری سے اُتر گئے تھے جس کے نتیجہ میں 22 افراد ہلاک اور دیگر 156زخمی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں میرٹھ ۔ مظفرنگر ۔ سہارنپور ریل سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کردی گئی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد ریلوے کے تین اعلیٰ عہدیداروں کو رخصت پر روانہ کردیا گیا تھا ۔

 

TOPPOPULARRECENT