Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / کھڑی فصلوں کی تباہی سے 365 کروڑ روپئے کا نقصان

کھڑی فصلوں کی تباہی سے 365 کروڑ روپئے کا نقصان

جموں ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اب جب کہ سرینگر میں سیلاب کی وجہ سے زیر آب آئے علاقوں میں پانی کی سطح کم ہورہی ہے وہیں دوسری طرف زراعتی سیکٹر سے ملنے والی خبریں المناک ہیں کیوں کہ سیلاب نے جن کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے اس کا تخمینہ 365 کروڑ روپئے لگایا گیا ہے ۔ فصلیں 13000 ہیکڑس اراضی پر محیط تھیں ۔ مکئی کی فصلوں کو 248 کروڑ روپئے ک

جموں ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : اب جب کہ سرینگر میں سیلاب کی وجہ سے زیر آب آئے علاقوں میں پانی کی سطح کم ہورہی ہے وہیں دوسری طرف زراعتی سیکٹر سے ملنے والی خبریں المناک ہیں کیوں کہ سیلاب نے جن کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے اس کا تخمینہ 365 کروڑ روپئے لگایا گیا ہے ۔ فصلیں 13000 ہیکڑس اراضی پر محیط تھیں ۔ مکئی کی فصلوں کو 248 کروڑ روپئے کا چاول و دھان کی فصلوں کو 48 کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں مختلف ترکاریوں کی فصلیں بھی سیلاب میں تباہ ہوئی ہیں جن کا تخمینہ 40 کروڑ روپئے اور دالوں کے علاوہ زعفران کی فصل بھی نقصانات سے دوچار ہوئی ہے ۔

ڈائرکٹر اگریکلچر جموں ایس ایس جاموال نے میڈیا کو بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے جموں خطہ میں فصلوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا تخمینہ 365 کروڑ روپئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کی نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی گئی ہے وہ حکومت کے حوالے کی جائے گی جو حکومت کے لیے یقینا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جموں و کشمیر سیلاب کے متاثرین کے لیے ہندوستان کے ہر علاقہ کے علاوہ عالمی سطح پر بھی امداد روانہ کی جارہی ہے لیکن بعض علاقوں سے امداد نہ ملنے کی شکایتیں موصول ہورہی ہیں ۔ امداد کی تقسیم کا نظام بھی موثر نہیں ہے ۔ بعض انتہائی غریب لوگوں کو اناج کے حصول کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکے کھانے پڑ رہے ہیں اور ان کے ساتھ پولیس بھی تعاون نہیں کررہی ہے ۔ ایک ایسی ریاست جہاں زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہو وہاں عوام کی ضرورتوں کی تکمیل کا کام واقعی ایک چیلنج بن جاتا ہے ۔

دوسرے مقامات سے آنے والی امداد کی تقسیم اگر منصفانہ طور پر ہو تو ہر ایک کو کچھ نہ کچھ اناج ضرور ملے گا ۔ حکومت کے سامنے فی الحال کھڑی فصلوں کے نقصان کی پابجائی کا سوال اُٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی سرمایہ داروں اور تاجروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے متاثرہ عوام کی دامے ، درمے و سخنے امدادکیلئے آگے آئیں ۔ کسانوں کو اب خوف ہونے لگا ہے کہ ان کی فصلوں کی پابجائی کیوں کر ہوگی ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں قرضہ جات کے بوجھ تلے کسانوں کی خود کشی کے واقعات آئے دن منظر عام پر آتے رہتے ہیں لیکن آفت سماوی نے جموں و کشمیر کے کسانوں کے لیے بھی ’ خودکشی ‘ جیسے حالات پیدا کردئیے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT