Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / کہیں یہ بی جے پی اور مقامی جماعت کی منصوبہ بندی تو نہیں؟

کہیں یہ بی جے پی اور مقامی جماعت کی منصوبہ بندی تو نہیں؟

اظہر الدین کا اعلان
دتاتریہ کی مشکلیں آسان ، سکندرآباد سے مضبوط مسلم امیدوار کا مقابلہ فرقہ پرستوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین نے پارٹی ہائی کمان سے آئندہ عام انتخابات میں لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے مقابلہ کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اظہرالدین کی یہ خواہش کیا بی جے پی اور حیدرآباد کی مقامی جماعت کی مشترکہ منصوبہ بندی تو نہیں؟ اظہرالدین جو سابق میں اترپردیش کے مراد آباد سے کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوچکے ہیں، وہ اپنی آبائی ریاست تلنگانہ میں 2019 ء سے سیاسی اننگز کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے ان کے مقابلہ کی اطلاعات کافی گرم تھی۔ پارٹی کے سینئر قائد محمد علی شبیر نے چارمینار کے دامن میں جلسہ عام میں حیدرآباد سے اظہرالدین کا نام پیش کیا تھا ۔ محمد اظہرالدین نے بعد میں وضاحت کردی کہ حیدرآباد لوک سبھا سے مقابلہ ان کی ترجیح نہیں ہے۔ تاہم ہائی کمان کے فیصلہ کو وہ قبول کریں گے۔ اظہرالدین کے مقابلہ سے متعلق اعلان نے حیدرآباد کے سیاسی حلقوں اور خاص طور پر مقامی سیاسی جماعت میں ہلچل پیدا کردی۔ بتایا جاتاہے کہ اظہرالدین کے نام پر بی جے پی اور مقامی جماعت اپنی اپنی نشستوں کو محفوظ کرنے کی فراق میں ہے ۔ اسی منصوبہ کے تحت اظہرالدین کے نام کا سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کے لئے پیش کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے کانگریس پارٹی مسلم امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے تو اس کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ لہذا بی جے پی اور مقامی جماعت اپنی اپنی نشستوں پر بآسانی کامیابی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ افزائی سے متعلق فیصلہ کیوں لیا جارہا ہے ۔ اگر کوئی مضبوط امیدوار سکندرآباد حلقہ سے مقابلہ کرتا ہے تو بی جے پی کی کامیابی آسان ہوجائے گی۔ سکندرآباد لوک سبھا حلقہ کی تاریخ رہی کہ وہاں جب کبھی مسلم امیدوار میدان میں رہے ، بی جے پی کو راست فائدہ ہوا۔ بنڈارو دتاتریہ کی کامیابی میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا اہم رول رہا ہے ۔ سابق میں ٹی آر ایس نے موجودہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو سکندرآباد حلقہ سے میدان میں اتارا تھا۔ حیدرآباد کی مقامی جماعت اپنی لوک سبھا نشست کو بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ حیدرآباد و سکندرآباد سے اگر مسلم امیدوار میدان ہوں تو دونوں نشستیں آپس میں تقسیم ہوسکتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس نے اظہرالدین کو سکندرآباد سے مقابلہ کا مشورہ دیا ہے۔ اظہرالدین کے روابط کانگریس کے علاوہ دیگر جماعتوں سے بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت ان کا نام سکندرآباد حلقہ سے تجویز کیا گیا جس کے لئے یہ استدلال پیش کیا جارہا ہے کہ سکندرآباد میں اقلیتی رائے دہندوں کی قابل لحاظ آبادی ہے اور اکثریتی و اقلیتی طبقات کے ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی ممکن ہے۔ کانگریس ہائی کمان اظہرالدین کی خواہش کی تکمیل کرے گا یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اظہرالدین کے بیان نے بی جے پی کیڈر کے حوصلوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ بنڈارو دتاتریہ جو مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ کافی تگ ودو کرتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ کانگریس سے مسلم امیدوار کی صورت میں انہیں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سکندرآباد سے کسی مضبوط مسلم امیدوار کو میدان میں اتارنا دراصل بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ اگر کانگریس پارٹی کو واقعی تلنگانہ سے کسی مسلم کو لوک سبھا کیلئے منتخب کرنے میں سنجیدگی ہو تو نظام آباد ، کریم نگر یا ورنگل لوک سبھا حلقوں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں اقلیتی رائے دہندوں کی آبادی فیصلہ کن موقف میں ہے۔ اظہرالدین کی سکندرآباد حلقہ سے مقابلہ کی خواہش نے گریٹر حیدرآباد کانگریس پارٹی میں اختلافات کو ہوا دیدی ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور گریٹر حیدرآباد کے صدر انجن کمار یادو نے اظہرالدین کو چیلنج کردیا کہ وہ حیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کر کے دکھائیں۔ پارٹی کے بعض گوشے سکندرآباد سے اظہرالدین کی امیدواری کے حق میں ہے۔ کانگریس ہائی کمان کو چاہئے کہ وہ سکندرآباد کے بارے میں کوئی بھی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے فرقہ پرستوں کی مدد ہوتی ہو۔

TOPPOPULARRECENT