Friday , April 27 2018
Home / Top Stories / کیامیں ہندو نہیں ہوں؟کیامیرے لئے اسی طرح کادستور نہیں ہے؟اترپردیش کی دلت دولہوں کا سوال

کیامیں ہندو نہیں ہوں؟کیامیرے لئے اسی طرح کادستور نہیں ہے؟اترپردیش کی دلت دولہوں کا سوال

While the Dalits want to hold the procession (baraat) through the village, the dominant Thakurs are against it-Express Photo by Gajendra Yadav,26/03/2018

مغربی اترپردیش کے ہتارہس ضلع میں بسائی باباس گاؤں سے تعلق رکھنے والے کچھ دلت نوجوان پچھلے کچھ مہینوں سے حکومت کے تمام عہدیداروں کو لیٹر لکھ کر ٹھاکروں کے ذریعہ اثر گاؤں میں اپنی دولہنو ں کی برات لے جانے کے مدد مانگ رہے ہیں۔
اترپردیش۔ سنجے کمار نے پوچھا ’’کیامیں ہندو نہیں ہوں؟‘‘۔مغربی اترپردیش کے ہتارہس ضلع میں بسائی باباس گاؤں سے تعلق رکھنے والے کچھ دلت نوجوان پچھلے کچھ مہینوں سے حکومت کے تمام عہدیداروں مقام پولیس انسپکٹر سے لے کر ریاست کے ڈی جی پی تک‘ چیف منسٹر سے لے کر ایس سی /ایس ٹی کمیشن تک مقامی روزناموں سے لیکر میڈیا اداروں تک رجوع ہوئے اور سوشیل میڈیا پر ویڈیو بھی جاری کرتے ہوئے ٹھاکروں کے ذریعہ اثر گاؤں میں اپنی دولہنو ں کی برات لے جانے کے مدد مانگ رہے ہیں۔

مارچ15کے روز وہ لوگ آلہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔

ایک بلاک ڈیولپمنٹ جونسلر رکن کمار نے پوچھا کہ’’ جب دستور کہتا ہے کہ ہم سب مساوی ہیں او رچیف منسٹریوگی ادتیہ ناتھ کہتے ہیں ہم سب ہندو ہیں اور وہ ایک ہندوتوا پارٹی کے سربراہ ہے ‘ تو پھر میں اس طرح کی صورتحال کاسامنا کیوں کررہا ہوں؟‘‘۔

شادی محض بیس دن بعد ہے اور اب تک کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتہ کاس گنج ضلع مجسٹریٹ آر پی سنگھ نے سپریڈنٹ آف پولیس پیوش سرایواستو کے ہمراہ دلہن شیتل کے گاؤں نظام آباد جوکہ کاس گنج کا پڑوسی گاؤں ہے دور ہ کیاتھا اور برات لے جانے کی راستے کا بھی تعین کیاتھا۔

بالآخر سنگھ نے ٹھاکروں کے علاقے سے بارات لے جانے سے اس لئے منع کردیا کیونکہ وہاں پر تنگ گلیاں اور بہتے نالے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے دیگر ذرائع کی بھی پچھلے بیس دنوں میں تلاش کی۔لہذا انہوں نے شیتل کے گھر والوں کو مشورہ دیا کہ دلت شادی کاجلوس گاؤں کی عام سڑک سے لے جایاجائے اور ٹھاکروں کو مذکورہ سڑک کو صاف رکھنے کا بھروسہ بھی دلایا۔

پولیس نے تقریبا گیار ہ جاتاوس اور 24ٹھاکرمسلئے سے کوئی تنازع پیش نہ ائے اس لئے بانڈ پر دستخط بھی کرائی۔ٹھاکروں نے تمام قسم کی مدد کا یقین دلایا۔

مگر شیتل کے گھر والے جو نظام آباد کے مضافات میں مقیم ہیں اور دیگر چار جاتوس نے لڑائی کی۔جاتواس بی ایس پی کا ووٹ بینک مگر جس گاؤں میں وہ رہتے ہیں اس کی نوفیصدآبادی ٹھاکروں پر مشتمل ہے ۔ جبکہ شیتل کے گھروالوں میں زیادہ تر لوگ بی ایس پی سے جڑے ہیں۔

جواب میں ٹھاکروں نے مارچ کے دوسرے ہفتہ میں جاتواس کے کھیتوں کے پانی کا کنکشن منقعطع کردیا اور سو روپئے کے عوض پانی کی سربراہی کی ۔ ٹھاکروں کی شیتل کے اسکول سرٹیفکیٹ بھی برسرعام کرتے ہوئے کہاکہ وہ 17سال دس ماہ کی ہے۔

کمار کا کہنا ہے کہ اس کی شادی دوماہ بعد ہونے والی ہے جب شیتل 18سال کی ہوجائے گی۔ مذکورہ خاندانوں پر ٹھاکروں کی بربریت کا سلسلہ کافی عرصہ بعد ختم ہوا اور کچھ شرائط کی بنا پر انہیں دوبارہ پانی کی سربراہی کی گئی۔

ٹھاکر سماج سے تعلق رکھنے والے سنجے سنگھ نے کہاکہ دلت ہمیشہ جھگڑے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہیں حد مقرر کئے جانے کے بعد بھی اپنی حد سے باہر نکل کر کام کررہے ہیں۔بی جے پی رکن اسمبلی دیویندر سنگھ کو ایک ٹھاکر ہے نے کہاکہ کمار کو ’’ مشور ہ‘‘ کے لئے ہمارے پاس آنا چاہئے تھا۔

مذکورہ لڑکا لیڈری کررہا ہے۔ میں اس کی شادی حکومت کی امداد سے کرانا چاہارہا تھااجتماعی شادیں و میں۔ اگر تم کسی کا راستے میں خلل ڈالیں گے تو وہ لڑائی کا سبب بنے گا‘‘۔

شیتل کا کہنا ہے کہ اس نے مدد کے لئے دلت جہدکار وں اور دائیں بازو گروپس کی مدد کے لئے دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔نرم انداز میں اس نے کہاکہ ’’ ہم خوفزدہ ہیں لڑائی نہیں کرسکتے‘‘

TOPPOPULARRECENT