Tuesday , December 11 2018

کیانظامیہ جنرل ہاسپٹل کی تزئین نو بھی بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ جائیگی ؟

ایک ماہ سے تجدید کاری کا کام معطل، فنڈس کی اجرائی کے باوجود بل کی ادائیگی سے گریز،ذمہ دارکون؟

ایک ماہ سے تجدید کاری کا کام معطل، فنڈس کی اجرائی کے باوجود بل کی ادائیگی سے گریز،ذمہ دارکون؟

حیدرآباد 20مارچ(سیاست نیوز) نظامیہ جنرل ہاسپٹل کی خستہ حالی کے حوالے سے برسوں نمائندگی کے بعد تقریباً تین سال قبل سابق چیف منسٹر کرن کمارریڈ ی نے مذکورہ دواخانے کی تزئین نو کیلئے جب درکارفنڈس جاری کرنے کا اعلان کیا تھا تو یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ نصف صدی سے زائد قدیم اس دواخانے کی نہ صرف شکل وشباہت پر ایک بارپھر رونق بحال ہو جا ئگی بلکہ طب یونانی کے حوالے سے حکومتی سطح پرپائے جانے والے معاندانہ رویہ اور سوتیلے پن میں بھی خوشگوار تبدیلی آجائیگی…مگر دوسال سے زائدعرصہ گذرجانے کے بعدبھی امیدوں کی یہ کرن حقیقت کا روپ اختیارنہ کرسکی ۔اگرچہ چیف منسٹر نے اپنے وعدے کے مطابق اس دواخانے کی تزئین نو کے لئے چارکروڑ روپے (4.20کروڑ) کے فنڈس کومنظوری بھی دیدی جسمیں سے تقریباً 3کروڑ روپے آندھر ا پردیش ہیلتھ اینڈ میڈیکل انفرااسٹرکچر ڈیو لپمنٹ کارپو ر یشن (اے پی ایچ ایم آئی ڈی سی)کے حوالے کئے گئے تھے جبکہ مزید 1.20کروڑ روپے منظورکیا جانا باقی تھا۔ مگر فنڈس جاری کردئے جانے کے باوجود تزئین نوکے کاموں کے آغازمیں ایک سال کا عرصہ گذرگیا اورپھر 24جنوری 2012سے تزئین نوکے کاموںکا آغاز ہوا،ذرائع کے مطابق تزئین نو کیلئے ’’شیترا ‘‘ نامی کمپنی کو کنٹراکٹ دیدیا گیا ۔معاہدے کے مطابق، اس دواخانے کی تزئین نوکی تکمیل اپریل 2014تک کردینا ہے۔اب جبکہ معاہدے کے مطابق صرف چندہفتے باقی ہیں ،ابھی تک نصف کام بھی مکمل نہیں ہوپایاہے۔ با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قدرطویل عرصہ گذرجانے کے باوجود کام کی عدم تکمیل کی اہم وجہہ متعلقہ کنٹراکٹر کوبل کی عدم ادائیگی ہے ،چونکہ کنٹراکٹرکا کہنا ہے کہ تاحال اس نے تقریباً80 لاکھ روپے کا کام انجام دے چکا ہے

مگرمتعلقہ محکمہ سے متعددنمائندگیوںکے باوجود تاحا ل بل کی ادائیگی نہیں کی جارہی ہے ،جسکی وجہہ سے وہ مزید کام انجام دینے میں معذرت کا اظہارکررہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی سرکاری فنڈس کی اجرائی ،متعلقہ ـذمہ داروںتک رقم کی رسائی اوراسکے حصول کے درمیان بدعنوانی کا جو روایتی معاملہ درپیش آتاہے ،وہی معاملہ یہاں پربھی درپیش ہے،تاہم اس دعوے کی معتبرذرائع سے توثیق نہیں ہوسکی ۔سوال یہ ہے کہ تزئین نو کے کاموںکی معطلی میں اگربل کی عدم ادائیگی ہی اہم وجہہ ہے تو متعلقہ رکن اسمبلی ،مقامی سماجی تنظیمیں اورمتعلقہ اسوسی ایشنس آخر کیا کررہی ہیں؟ یہ لوگ متلقہ محکمہ پردباؤ ڈالتے ہوئے اس تاریخی عمارت کی تزئین نو کے کاموں کی تکمیل میں سنجیدہ دلچسپی کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتے؟یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ جو معاملات عمومی طور پرمسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں وہاں سرکاری محکمہ اور بیوروکریسی میں روایتی متعصبانہ پالیسی ضرور پائی جاتی ہے،اسی دواخانے کی مثال لے لیجئے ، یہاںسب سے اہم مسئلہ پیر ا میڈیکل اسٹاف کی سخت کمی کاہے جہاں،مختلف زمرہ جات کے تقریباً 65تا75 جائد اد یں مخلوعہ ہیں جنہیں پرکرنے کیلئے برسوس سے نمائندگی کی جارہی ہے مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا، اسی طرح کارپینٹر ،ٹیلر ،دھوبی ،صاف صفائی اوردیگر زمرہ جات کی جائدا دیں برسوںسے مخلوعہ ہیں مگر انہیں پر کر نے پرکبھی سنجیدہ توجہہ نہیں دیجاتی ۔یہاں یومیہ ہزار تا دیڑھ ہزار مریض رجوع ہوتے ہیں اور 250 بستروں پر مشتمل اس دواخانے میں مریضوں کیلئے مطلوبہ بیڈس بھی کم پڑ جا تے ہیں ۔مگراسکے باوجودمخلوعہ جائدادوںکو پرکرنے کے بجائے متعلقہ محکمہ ہمشہ ٹا ل مٹول کا رویہ اختیار کرتاجارہا ہے جس سے نہ صرف مریضوںکو مناسب علاج ومعالجہ فراہم کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے بلکہ مریضوںکی بڑھتی تعداد سے موجود اسٹاف پر کام کا دباؤ بھی بڑھتا جارہا ہے ۔ ایسے حالات میں حکومت نے کم ازکم تزئین نو کیلئے جو فنڈس جاری کئے ہیں ، اگر اسکا بھی صحیح استعمال ہم نہیں کرواپاتے ہیںتو ہم کس منہ سے صرف حکومت کو اس کا ذمہ دارقرار دے سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT