Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کیا آدھار صرف لوگوں کو ٹریک کرنے اور ویریفکیشن کیلئے ہے؟

کیا آدھار صرف لوگوں کو ٹریک کرنے اور ویریفکیشن کیلئے ہے؟

 

نئی دہلی ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) آدھار کارڈ کی لازمیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کی جارہی ہے۔ اس کیلئے پانچ ججوں کی آئینی بنچ تشکیل دی گئی ہے، جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن شامل ہیں۔ پانچ ججوں کی یہ بنچ اس بات کی سماعت کررہی ہیکہ کیا آدھار پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ خیال رہیکہ اس سے پہلے 9 ججوں کی آئینی بنچ نے کہا تھا کہ پرائیویسی ایک بنیادی حق ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سوال کیا کہ کیا آدھار صرف ویریفیکیشن اور ٹریکنگ کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ آدھار محفوظ ہے، کیا حکومت بتاسکتی ہے کہ بایومیٹرک کا استعمال سوشیل ویلفیر اسکیموں کے لکیج کو روکنے کیلئے کیا جائے گا۔

ادھر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس دیپک مشرا نے سوال کیا کہ کیا آدھار بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا گیا تھا، اس کے جواب میں آدھار کی لازمیت کے خلاف عرضی گذاروں کے وکیل شیام دیوان نے کہا ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ ادھر اٹارنی جنرل کے وینو گوپال نے مرکزی حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ جن لوگوں کے پاس آدھار نہیں ہے، اسے بڑھایا جارہا ہے۔ اب اسے 31 ڈسمبر 2017ء سے بڑھا کر 31 مارچ 2018ء کردیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہیکہ گذشتہ سال 15 ڈسمبر کو آئینی بنچ نے بینک کھاتوں اور موبائیل نمبر سمیت دیگر سرویسیز اور اسکیموں کے ساتھ آدھار نمبر کو جوڑنے کی میعاد 31 مارچ 2018ء تک بڑھادی تھی۔ عرضی گذاروں نے آدھار کے ڈاٹالیک اور ڈاٹا پروٹیکشن پر سوال اٹھائے تھے، اس کے بعد مرکزی حکومت نے آدھار سے لنک کرنے کی ڈیڈ لائن 31 ڈسمبر واپس لے لی تھی۔

آدھار کا لزوم عوام کو بے بس کرنے
حکومت کا ہتھیار : راہول گاندھی
نئی دہلی ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج این ڈی اے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ آدھار اسکیم کے ذریعہ یہ حکومت شہریوں کو بے بس کرنا چاہتی ہے۔ آدھار کو لازمی قرار دیتے ہوئے حکومت نے اسے ہتھیار بنا لیا ہے۔ یوپی اے کا آدھار شہریوں کو بااختیار بنانے کا رضاکارانہ ہتھیار تھا جبکہ این ڈی اے کا آدھار شہریوں کو بے بس کرنے والا لازمی ہتھیار بن گیا ہے۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر پیام پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کانگریس حکومت نے ہی آدھار کو متعارف کیا تھا۔ اس کی اپوزیشن نے مخالفت کی تھی۔ حکومت کا موقف تھا کہ آدھار کا لزوم ضروری ہے کیونکہ ریاستی اسپانسر کردہ بہبودی اسکیمات کے فوائد عوام تک پہنچنی چاہئے۔ راہول گاندھی نے حکومت کی جانب سے اس ڈیٹا کے بیجا استعمال کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا۔

TOPPOPULARRECENT