Tuesday , October 16 2018
Home / مضامین / کیا اب مسجدوں کی دیواروں کو بھی زعفرانی رنگ کردے گی یوگی حکومت؟

کیا اب مسجدوں کی دیواروں کو بھی زعفرانی رنگ کردے گی یوگی حکومت؟

محمد احتشام الدین
جب سے لفظوں کو عدل بدل کرنے والے یہ زعفرانی پارٹی کے لیڈر اقتدار میں آئے ہیں کبھی گالی تو کبھی تھالی لئے پھرتے ہیں۔ جب الیکشن کا وقت آتا ہے تو ان کے ہاتھوں میں تھالی ہوتی ہے۔ جو ووٹ کے لئے بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ زبان میں لہجے میں نرمی اور ہر ذات، مذہب، فرقہ کے لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ملک کے نوجوانوں کو کروڑوں روپئے خرچ کرکے روزگار کے لئے نئے نئے پراجکٹس پر کام کرنے، روزگار دلانے کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں اُس وقت ہوتی ہیں جب ووٹ کے لئے ہاتھ میں تھالی لئے پھرتے ہیں۔ گاؤں گاؤں، شہر شہر، ریاست ریاست، دیش کی معصوم عوام چاہے وہ پڑھی لکھی ہو یا اَن پڑھ۔ وہ ان کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں۔ اور جب وہ عوام کو دھوکہ دے کر اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں تو ان کی مثال اُن لینڈ گرابرس سے دی جاسکتی ہے جو غریب عوام کی زمینات کی پلاٹنگ کرکے لاکھوں روپئے انھیں دلائیں گے کا وعدہ کرتے ہیں اور پھر ان غریبوں کی پُرکھوں کی جائیدادوں کو کروڑوں میں بیچ کر ان غریبوں کو بغیر چنے کا بھٹا ہاتھ میں تھماکر چلے جاتے ہیں یا بھاگ جاتے ہیں۔ اب زعفرانی پارٹی والے یا بی جے پی کے زیراقتدار حکومتوں کا بھی یہی حال ہے۔ اقتدار حاصل ہونے سے پہلے ہاتھ میں تھالی اور اقتدار پر فائز ہوجانے کے بعد منہ پر گالی والا انداز ہوجاتا ہے۔ آج اترپردیش کا کیا حال ہے۔ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔ یوگی کا کیا حال ہے وہ اقتدار حاصل کرنے سے پہلے ہی مسلمانوں سے گالی والے انداز میں بات کرتے تھے بُرا بھلا کہتے تھے۔ بھارت کے مسلمانوں کو دیش دشمن کہا کرتے تھے۔ اب تو وہ یو پی کے جب سے چیف منسٹر بنے ہیں مسلمانوں کی تباہی کے نئے نئے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ مندروں کے رنگ زعفرانی کردے وہاں کی وقف بورڈ کی عمارت کو تو وہ زعفرانی کر ہی چکے ہیں آئندہ کا پروگرام خدا جانے کیا ہوگا اب یہ کہتے ہوئے کہ زعفرانی رنگ کے کپڑے پہننا، زعفرانی کُرسی ٹیبل استعمال کرنا، کرسی پر زعفرانی توال ڈالنا، بلڈنگ کو زعفرانی رنگ میں رنگنا یہ کوئی بُری بات نہیں ہے یہ ہماری ریت ہے رواج ہے اگر مسجدوں کی دیواروں کو بھی زعفرانی رنگ کردیں تو مسلمانوں کو اس میں خفا ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ دینی مدارس کے بچوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ بات اخباروں اور بعض ایماندار ٹی وی چیانلس پر اس کی چرچہ بھی ہوئی ہے نہ جانے کب یوگی سرکار یہ بھی حکم جاری کردے کہ دینی مدارس کے بچے بھی اپنی دینی تعلیم شروع کرنے سے پہلے ’’جنا گنا منا‘‘ کھڑے ہوکر گائیں۔ پھر بیٹھ کر جو پڑھنا ہے پڑھ لیں۔ یوگی حکومت کی زبردستی سے فرقہ پرستی و فرقہ وارانہ کم ظرفی سے یوپی کی بی جے پی کی یوگی حکومت 3 طلاق کے مسئلہ کا ویسے تو شروع ہی سے غلط استعمال کررہی ہے۔ تین طلاق کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں کامیابی پر ٹی وی شوز پر برقعوں میں مطلقائیں ایک دوسرے کو مٹھائی کھلا رہی ہیں۔ کیا کوئی اس بات کی گیارنٹی دے سکتا ہے کہ وہ برقعوں میں بس مسلم عورتیں یا مطلقہ ہی تھیں کیا بُرقعوں میں یہ جوش جذبہ غیر مسلم عورتیں نہیں کرسکتیں۔ کہیں اب یہ تین طلاق کا مسئلہ اور اس کی کامیابی کے بعد زعفرانی پارٹی یا بی جے پی کے لٹیرے اور وسیم رضوی جیسے حکومت کے غلام ان مطلقہ عورتوں کا غلط استعمال شروع نہ کردیں۔ اُن کے ذہن کو اس طرح سے نہ ورغلائیں کہ اب اُن کا کیا ہوگا۔ کوئی تین بچوں کی ماں، کوئی دو اور کوئی ایک بچے کی۔ سسرال سے تو وہ کٹ چکی ہے۔ ماں باپ اگر غریب ہیں تو اور تین، چار لڑکیاں شادی کے لئے ان کے گھر میں ہیں۔ اب اس مطلقہ کو کیسے سپوٹ کریں گے۔ گورنمنٹ تین طلاق کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں حل کرواکر بہت خوش ہے۔ کیا بی جے پی حکومت ان مطلقاؤں کو کوئی امداد کرے گی ان کے لئے فری سیونگ سنٹرس، فری مشینس، فری کمپیوٹر سنٹرس یا ایسی کوئی اسکیم جن سے یہ خود کماکر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ بچوں کی پرورش کرسکیں۔ زعفرانی پارٹی کے یا بی جے پی کے لٹیرے ذہن رکھنے والے ان مطلقاؤں سے یہی کہیں گے کہ اب تمہارا کون ساتھ دے گا۔ نہ تم شوہر کے رہے نہ سسرال کے۔ تمہارے گھر والے بھی تمہاری پرورش نہیں کرسکتے۔ تمہارے پاس پیسے کہاں ہے کہ تم اپنا اور اپنے بچوں کی پرورش کرسکو۔ ایسے میں یہ مسلم دشمن ایک نئی تجویز ان کے سامنے رکھیں گے کہ تم اپنا مذہب بدل لو۔ ہم تمہاری شادی کسی لکھ پتی سے یا کروڑپتی سے کروادیں گے۔ یہ زعفرانی پارٹی والے سپنوں کے سوداگر کے ساتھ ساتھ لفظوں کے بھی سوداگر ہوتے ہیں۔ اتنی تقریریں رٹی ہوئی ہیں کہ جھوٹ بولنے کا نیا انداز، نیا طریقہ نئے الفاظ کا انبار ہوتا ہے ان کے پاس۔
ابھی تھوڑے دن پہلے آج تک “Aaj Tak” چیانل پر ایک بات آئی تھی کہ دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک “Taj Mahal” مگر اس میں بھی اندر رام لکشمن ہندو دیوی دیوتاؤں کی پتھر پر تراشے ہوئے نقوش ملے ہیں جو ٹی وی پر بتایا جارہا تھا۔ خود بی جے پی کے ایک قدیم جانے مانے لیڈر سبرامنیم سوامی نے بھی اس چیانل کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میں بھی چند سالوں سے کوشش کررہا ہوں کہ وہاں کے اُس تہہ خانہ میں جاکر اُن مورتیوں کو دیکھوں کیا یہ شاہجہاں کی سازش ہے کہ وہاں کوئی مندر تھا اور اُس بادشاہ نے اُسے توڑ کر ’’تاج محل‘‘ بنادیا۔ اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ہو یا کہ یو پی کی زعفرانی پارٹی سب بادشاہوں، شہنشاہوں کے مقبرے اس بہانے سے کہ یہاں پہلے مندر تھا توڑنا چاہتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی کوئی یادگار دیکھنا نہیں چاہتی اور مندر یا دیوی دیوتاؤں کے مجسمے وہاں رکھ کر اُسے سابقہ مندر کے نام سے فنا کرنا چاہتی ہے۔ جب اپوزیشن پارٹیاں ان سے یعنی بی جے پی حکومت یا زعفرانی پارٹی والوں سے اس طرح مسلمانوں کی یادگاروں کو ملیا میٹ کرنے کے بارے میں پوچھیں گے تو اُن کا ایک ہی جواب ہوگا وہ یہ کہ یہ ہم نے نہیں کیا بلکہ پڑوسی ملک سے آئے ہوئے دہشت گردوں نے کیا ہے ہم اس کی جانچ کریں گے اور پھر گرفتار ہونے پر اُنھیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔ یہ ہماری حکومت کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ ہندو مسلمان میں جو برادرانہ تعلقات ہیں اس کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ یہ اُن کا مختصر سا جواب آپ کے دل کی تسکین کے لئے نہیں بلکہ آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لئے ہوتے ہیں۔

ہمارے ملک کی مسلم قیادت چاہے وہ کسی شہر سے تعلق رکھتی ہو یا کسی ریاست سے۔ صرف مائیک پر چیخنے چلّاکر دشمن کے خلاف بول کر مسائل کی حل نہیں نکال سکتے۔ بلکہ آج بھی ہمارے ملک کے مسلم ممبران پارلیمنٹ کی ایک متحدہ کمیٹی ہونی چاہئے۔ چاہے کوئی بھی کسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو مسلم مسائل پر سب کی ایک آواز ہو۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے ایم ایل ایز بھی مسلم مسائل کے لئے ایک جٹ ہوجائیں چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں۔ جب تک ہم اس اتفاق رائے سے آواز نہیں اُٹھائیں گے بلکہ ہر کوئی اپنی اَنا کا مسئلہ بناکر ایک دوسرے سے دور رہیں گے تو کبھی بھی مسلم مسائل کا حل نہیں نکل سکے گا۔ صرف اپنی جذباتی تقریروں سے ’’لوگ نعرے تکبیر اللہ ہو اکبر‘‘ کے نعرے سن کر خوش ہوجائیں گے یا خود کو وہ ایک قدآور شخصیت یا ایک بڑا قائد تصور کرنے کی حد تک ہی محدود ہوکر رہ جائیں گے تو اس سے مسلمانوں کے مسائل صرف نعروں کی گونج کی حد تک محدود ہوکر رہ جائے گا اور ملک میں بس ہم تقسیم ہی ہوکر رہ جائیں گے۔ ہم صرف اپنی ریاستوں کے ہی لیڈر بن کر رہ جائیں گے۔ مسلم مسائل کے لئے بھی اپوزیشن میں بھی جتنے مسلم قائدین ہیں اُن کو ساتھ لے کر چلیں۔ یا کوئی ایسا پلان بنائیں جس سے یہ زعفرانی پارٹی کے نیتاؤں کو بھی دن میں اندھیرا نظر آنے لگے۔ قانون کے دائرے میں رہ کر ، مار پیٹ دنگا فساد مسائل کا حل نہیں ہے۔ اپنی پارٹیوں میں تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی شامل کریں۔ اپنے مشیر بنائیں۔ سارے ہندوستان کے ممبر آف پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بننی چاہئے اگرچیکہ وہ سب الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہوں اگر ہم متحد ہوکر زعفرانی ظالموں کا مقابلہ نہیں کریں گے تو پھر ’’تاج محل‘‘ بھی ’’راج محل‘‘ میں تبدیل ہوجائے گا۔ بی جے پی حکومت کہیں لال قلعہ کو بھی ’’زعفرانی قلعہ‘‘ کا نام نہ دے دے۔ تاریخی مسجدوں کی جگہ مندر نہ بن جائیں۔ ہمارے ملک کے مسلم قائدین ایک ایک کرکے ایک بڑی تنظیم بنالیں اور مسائل کے حل کے لئے جٹ جائیں۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا
ہمارے ملک کے مسلمانوں کے لئے آج ایسے کارواں کی ضرورت ہے وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے ایک ہوجائیں۔

TOPPOPULARRECENT