Friday , June 22 2018
Home / بچوں کا صفحہ / کیا آپ جانتے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں

بنگلہ دیش میں جنگلی ہاتھی پکڑنے کی ترکیبوں کو کھیدا کہتے ہیں۔ کھیدے میں حصہ لینے والے لوگ ہاتھی کی طرف سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ جنگلی ہاتھی بہت طاقتور اور خطرناک جانور ہوتا ہے۔ ہاتھی فطرتاً بہت چالاک اور کینہ پرور ہوتا ہے۔ کسی سے دشمنی ہوجائے تو عمر بھر اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ ہاتھیوں کے غول پانی کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ کسی

بنگلہ دیش میں جنگلی ہاتھی پکڑنے کی ترکیبوں کو کھیدا کہتے ہیں۔ کھیدے میں حصہ لینے والے لوگ ہاتھی کی طرف سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ جنگلی ہاتھی بہت طاقتور اور خطرناک جانور ہوتا ہے۔ ہاتھی فطرتاً بہت چالاک اور کینہ پرور ہوتا ہے۔ کسی سے دشمنی ہوجائے تو عمر بھر اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔ ہاتھیوں کے غول پانی کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ کسی ایسے علاقے میں جہاں آبی ذخائر موجود ہوں اور جنگلی ہاتھیوں کے جھنڈ پائے جاتے ہیں، وہاں ایک بڑا سا گڑھا کھودا جاتا ہے۔ گڑھے کی چھت کو درختوں کی کمزور ٹہنیوں سے چھپاکر اس پر مٹی کی تہ بچھادی جاتی ہے تاکہ ہاتھی کو شبہ نہ ہونے پائے کہ جھاڑیوں کے نیچے ایک گڑھا اسے پھانسنے کیلئے بنایا گیا ہے۔

گڑھا تیار کرنے کے بعد بہت سارے لوگ مل کر ڈھول اور کنستر زور زور سے بجاتے ہیں تاکہ ہاتھیوں کا کوئی جھنڈ اندھادھند اس گڑھے کی طرف دوڑے۔ تیز آواز سے گھبراکر کچھ جوان ہاتھی اس گڑھے کی جانب دوڑتے ہیں۔ کسی ایک ہاتھی کا پاؤں گڑھے کی کمزور چھت پر پڑتا ہے۔ کمزور ٹہنیوں کی یہ چھت ہاتھی کا وزن برداشت نہیں کرپاتی اور ٹوٹ جاتی ہے اور ہاتھی اس گڑھے میں گر کر بدحواس اور بے بس ہوجاتا ہے۔ گرے ہوئے ہاتھی کے گرد مضبوط رسا باندھ کر اسے گڑھے سے باہر کھینچ لیا جاتا ہے۔ اب جنگلی ہاتھی کی تربیت شروع ہوتی ہے۔ اسے آدمیوں سے مانوس کرایا جاتا ہے۔ بھوکا رکھا جاتا ہے۔ کوئی بات سیکھ جانے پر اسے من پسند کھانا اور ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ دس، پندرہ مہینے کی تربیت کے بعد ہاتھی کا جنگلی پن دور ہونے لگتا ہے اور وہ اپنے آقا کا حکم ماننے لگتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT