Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / کیا بی جے پی نے اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ہے ؟

کیا بی جے پی نے اپنے پیر پر کلہاڑی مار لی ہے ؟

عقیل احمد
کیا وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا اعلان انتخابات کا سامنا کرنے والی ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کیلئے اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا ؟۔ حالانکہ بی جے پی کے تقریبا تمام قائدین اس کارروائی کو کالے دھن پر سرجیکل حملے قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے ہیں لیکن نجی محفلوں میں یہی قائدین مجوزہ یو پی اسمبلی انتخابات میں اس کے اثرات کے تعلق سے فکر و تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے اس انتہائی راز میں رکھے گئے فیصلے کا 8 نومبر کی رات اعلان کئے جانے کے بعد سے یو پی کے بی جے پی قائدین اس فیصلے کے منفی و مثبت پہلووں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں اور کئی قائدین کا احساس ہے کہ اس کے نتیجہ میں عوام کے ایک بڑے طبقہ کو غلط پیام گیا ہے ۔ ریاستی ایگزیکیٹیو کمیٹی کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ اس فیصلے کو حالانکہ انقلابی قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی جا رہی ہے لیکن ہمارا حقیقی ڈر یہ ہے کہ عوام کو جو تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے گا ۔ بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر نہ ختم ہونے والی طویل قطاروں ‘ کئی افراد کی اموات کی خبروں ‘ بینکوں میں ہونے والی جھڑپوں اور نئی کرنسی کی قلت کی وجہ سے شادیوں کی منسوخی وہ مسائل ہیں جن پر پارٹی کے ماہرین غور کر رہے ہیں جنہیں اب یہ اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ کم لاگتی نوٹوں کی سربراہی میں مزید تاخیر اور اے ٹی ایم مشینوں میں نئی کرنسی ڈالنے میں ہونے والی تاخیر بی جے پی کیلئے 2017 کے یو پی اسمبلی انتخابات میں مہینگی پڑسکتی ہے ۔ اب تک بی جے پی کا احساس تھا کہ وہ اترپردیش میں کامیابی حاصل کرنے کی راہ میں سب سے آگے ہے ۔ پارٹی کیلئے تشویش کی بات یہ ہے کہ ریاست میں کسان اور غریب عوام اپنی کرنسی نئی نوٹوں سے بدلنے میں کئی طرح کی کوشش اور جدوجہد کے باوجود ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر برسر اقتدار جماعت سماجوادی پارٹی کو امید ہے کہ بی جے پی کسانوں کو راحت فراہم کرنے میں ناکام ہوتی جا رہی ہے ۔ اس ناکامی کو وہ عوام میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کر رہی ہے ۔ کسانوں کے پاس اب عملا کوئی پیسہ نہیں ہے ۔ وہ ربیع کی فصل کیلئے بیج اور کھاد خریدنے تک کے موقف میں نہیں ہیں۔ ان کے پاس اب بازار میں چلنے والی کرنسی نہیں ہے ۔ کئی کسانوں نے سر عام نریندر مودی پر تنقیدیں شروع کردی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ وہ مودی کو پسندیدگی کی سند دیا کرتے تھے ۔ یو پی کے چیف منسٹر اکھیلیش سنگھ یادو اور سماجوادی پارٹی کے ریاستی سربراہ شیوپال یادو نے وزیر اعظم پر تنقیدیں کی ہیں کہ انہوں نے کسانوں کیلئے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ کسانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے خریف کی سیزن میں اچھی پیداوار کی ہے اور اب وہ اپنی کمائی رکھنے کے باوجود ربیع کی فصل کیلئے کچھ بھی کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری وجئے بہادر پاٹھک نے اعتراف کیا کہ غریب اور مڈل کلاس طبقہ کو حکومت کے فیصلے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ بہت جلد ان کیلئے صورتحال قابو میں آجائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ بیشتر افراد اگر حکومت کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں تو مطمئن ضرور ہیں۔ عوام میں ظاہر کئے جانے والے خیالات اور فیصلے کی مدافعت کرنے سے قطع نظر روزآنہ کی اساس پر مرکزی قیادت کو رپورٹس روانہ کی جا رہی ہیں تاکہ وہ حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دے سکے ۔ اب جو صورتحال ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے اور پارٹی کو امید ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے جو مشکلات پارٹی کو پیش آسکتی ہیں وہ فیصلے کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے کم ہوجائیں گی ۔ پارٹی کے بعض قائدین اور ارکان پارلیمنٹ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کانگریس رکن اسمبلی آرادھنا مشرا کا کہنا ہے کہ غریب اور پسماندہ طبقات کو بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے نتیجہ میں سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ چھوٹے تاجرین اور کاروباری افراد کے علاوہ ملک کے محنت کش افراد کو بیک وقت کرپٹ قرار دیدیا گیا ہے ۔

چیف منسٹر کے ایک قریبی رفیق ادئے ویر سنگھ کا کہنا ہے کہ کالا دھن رکھنے والے افراد حکومت کے اس فیصلے کے باوجود کوئی راہ تلاش کرلیں گے لیکن غریب عوام اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بی جے پی اس بڑھتی ہوئی برہمی اور ناراضگی سے حالانکہ واقف ہے اور اس نے اپنے پارٹی ورکرس کو بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں کے باہر عوام کی مدد کیلئے متعین بھی کردیا ہے ۔ یہ لوگ عوام کو پانی ‘ چائے اور اسناکس وغیرہ فراہم تو کر رہے ہیں لیکن عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے ۔ ان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عوام میں مل جائیں اور ان کے کان میں یہ بات ڈالتے رہیں کہ مودی نے یہ بہت اچھا کام کیا ہے اس سے کالا دھن ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے لکھنو میں 24 ڈسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کی جو ریلی منعقد ہونے والی تھی اسے ملتوی کردیا گیا ہے اور اب یہ ریلی جنوری میں کسی وقت منعقد ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT