Sunday , April 22 2018
Home / مضامین / کیا تم مسلماں ہو جو گائے کا گوشت کھاتے ہو؟

کیا تم مسلماں ہو جو گائے کا گوشت کھاتے ہو؟

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری خیراللہ بیگ
گاؤ دہشت گردی کل تک شمالی ہند کی ریاستوں میں مسلمانوں کی جان لے رہی تھی اب جنوبی ہند کا رُخ کرتے ہوئے تلنگانہ میں گاؤ دہشت گردوں نے دہشت پھیلانا شروع کردیا ہے۔ تلنگانہ کے موضع چنا کنڈکر کویداوری بھونگیر میں آر ایس ایس اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے گاؤ دہشت گردوں کے گروپ نے مبینہ طور پر 11 دلتوںکو نشانہ بنایا ان پر حملہ کرتے ہوئے سوال کیاکہ کیا تم لوگ مسلمان ہو جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ مادیگا طبقہ سے تعلق رکھنے والے ولیج ایلڈرس ایک مقام پر جمع ہوکر گائے ذبیحہ کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ جو ان کی روایت ہے لیکن گاؤ دہشت گرد وہاں پہونچ گئے اور دلتوں پر لاٹھیوں، کلہاڑیوں سے حملہ کیا۔ ایک دلت نے بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہم گائے کو ذبح کرنے والے ہی تھے کہ اچانک موٹر گاڑیوں کی روشنی ہماری آنکھوں پر پڑی ہم نے کہاکہ پولیس آئی ہے لیکن 20 تا 30 گاؤ دہشت گردوں نے ہم پر حملہ کیا اور یہ کہتے ہوئے کہ تم لوگ کیا مسلمان ہو جو گائے کا گوشت کھا رہے ہو۔ ہم جان بچاکر بھاگ نکلے۔ اندھیرے میں اُن لوگوں نے ہم میں سے چند کو پکڑ کر زدوکوب کیا۔ اس کے بعد دلتوں کے مکانوں کو تباہ کردیا گیا اور اس کی دودھ دینے والی گائے کا سرقہ کرلیا گیا۔ اس دیہات کے دلتوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی گائے کمزور یا ضعیف ہوجائے تو اسے ذبح کرتے ہیں اور جشن مناتے ہیں لیکن یہ لوگ ہم کو مسلمانوں کی جیسی حرکت کررہے ہیں کا الزام عائد کرتے ہوئے نشانہ بنارہے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حملہ ہمارے عقیدہ کے خلاف ہے۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم اپنی روایت اور تہواروں کو ترک کردیں۔ گاؤ دہشت گردوں نے تلنگانہ میں اپنا پہلا حملہ کردیا ہے۔ آنے والے اسمبلی و عام انتخابات سے قبل سنگھ پریوار کے لوگ تلنگانہ میں دہشت پھیلاکر خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ عمل اس طرح جیسا کہ اس واقعہ سے سبق ملتا ہے۔ ایک کھیت مزدور کے بیٹے کو زمین دار کے بچے نے مار ڈالا۔ مزدور نے گاؤں کی پنچایت میں انصاف کے لئے صدائے احتجاج بلند کیا۔

پنچایت کے لوگوں نے خاص کر سرپنچ نے کھیت مزدور کو سمجھایا کہ جو ہوا سو ہوا اب تیرا بیٹا واپس نہیں آسکتا تو اس واقعہ کو بھول جا کیوں کہ زمیندار کے بیٹے کو سزا دینے کی ہمت کس میں ہے؟ میں تجھے خون بہا کے اچھے پیسے دلوادیتا ہوں۔ اگر تو نے ہاں نہیں کی تو پھر زمیندار تیرے دوسرے بیٹے کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ سرپنچ کی بات سن کر مزدور غریب پریشان ہوگیا اور اس کی بات پر رضامندی ظاہر کی۔ کچھ ماہ بعد زمیندار کے بیٹے نے گولی کے بیٹے کی جان لے لی۔ سرپنچ نے پھر پنچایت کے دوران گولی کو سمجھایا جس کے بعد بیچارہ گولی رو دھوکر خاموش ہوگیا۔ زمیندار کے بیٹے کی دہشت پھیلتے جارہی تھی کچھ ماہ بعد زمیندار کے بیٹے نے سرپنچ کے بیٹے کو مار ڈالا … اب گاؤ دہشت گردوں کی حرکتوں پر اگر ایک طبقہ خاموش ہے تو کل کیا ہوگا۔ ہر کوئی مذکورہ بالا واقعہ کی روشنی میں بہتر سمجھ سکتا ہے۔ مرکز کی مودی زیرقیادت بی جے پی حکومت ان دنوں جو کچھ کھیل تماشے کررہی ہے، کل کو اگر پلٹ کر وار ہونے لگے تو اسے گاؤ دہشت گردوں کی جانب سے مچائی جارہی تباہ کن صورتحال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جب بی جے پی کے لیڈر کی ریاست کے دورہ کا طبل بجتا ہے توا س سرزمین پر اس کے قدم پڑنے سے پہلے ہی اس شہر کے چہرے پر گاؤ دہشت گردوں کے خوف کی ہوائیاں اُڑنے لگتی ہیں۔ ان گاؤ دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے بی جے پی قائدین کی اگلی چال کیا ہوگی اس کے بارے میں ریاستی حکومتیں وثوق سے نہیں بتاسکتی اور اگلے لمحے وہ کیا کر بیٹھیں۔

تلنگانہ میں بی جے پی کے قدم جمانے کے دن تیزی سے قریب آرہے ہیں۔ کرناٹک میں آئندہ ماہ مئی میں انتخابات کے لئے مہم چلانے والی پارٹیاں بی جے پی کو اس ریاست میں ہرگز کامیاب نہ ہونے دینے کی قسم کھائی ہے۔ کرناٹک کی حکمراں کانگریس پارٹی نے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ اس طرح تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو بھی دوبارہ اقتدار کی آرزو ہے مگر وہ اس آرزو کو بی جے پی کے سہارے سے پورا کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے یہ بہت بڑی بھول ہوگی کیوں کہ سابق میں چندرابابو نائیڈو نے بھی سیکولر ووٹ لے کر اچانک بی جے پی کے تلوے چاٹنے لگے تھے اس کے بعد ان کا حشر کیا ہوا ہر کوئی واقف ہے۔ مگر چندرشیکھر راؤ کا موقف ہنوز غیر واضح ہے۔ وہ تلنگانہ کو سیکولر ریاست کے طور پر برقرار رکھنے کی ہرممکنہ کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں خاص کر وہ اپنے انتخابی وعدوں جیسے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے عہد پر قائم رہنے کا ہر موقع پر اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے انڈیا ٹوڈے کے کانکلیو میں بھی مسلمانوں کو تحفظات دینے کے لئے پارلیمنٹ تک لڑائی لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کے تعلق سے پھیلائی گئی غلط فہمیاں ہیں۔ سابق کانگریس حکومت کے ایک مسلم وزیر نے مسلمانوں کے تحفظات کے مسئلہ کو کریمی لیئر اور غریب میں تقسیم کردیا تھا۔ شیخ، سید، مغل اور دیگر طبقات کو تحفظات سے محروم کردیا تھا۔ اب ٹی آر ایس سربراہ بھی کسی اور عنوان سے مسلمانوں کو تحفظات سے محروم کردینے کی کوشش کررہے ہیں۔ 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ مرکزی حکمراں پارٹی کے لئے ناقابل ہضم ہے۔ اپنے جاننے والے اور ملنے والے آج کل بہت سارے سوال پوچھتے ہیں کہ آخر تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کب دیئے جائیں گے۔ یہ تحفظات ٹی آر ایس کی حکومت کے جاریہ دور میں ملیں گے یا آئندہ انتخابات کے بعد وعدہ کھٹائی میں ڈال دیا جائے گا۔ کیا تلنگانہ کی سیکولر سرزمین کو بی جے پی سے اتحاد کرکے زعفرانی رنگ سے رنگنے کی کوشش کی جائے گی؟ کیوں کہ یہ زعفرانی ٹولہ جہاں بھی جارہا ہے وہاں کی سرزمین، عمارتوں اور در و دیوار کو زعفرانی بنارہا ہے۔ تلنگانہ کا گلابی منظر زعفرانی رنگ سے بدلنے کی ناپاک کوشش کو ناکام بنانے آئے سیکولر تلنگانہ رائے دہندہ ہی کچھ ہمت دکھا سکتا ہے۔ موضع چنا کنڈاکورو یلدادری بھونگیری میں دلتوں پر حملے کا واقعہ ایک شروعات ہے۔ مادیگا طبقہ نے اس حملے کے خلاف احتجاج کیا مگر کوئی ردعمل اور کارروائی نہیں کی گئی۔ اس حملے کے خلاف دلتوں نے احتجاج کیا۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے آزاد رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے احساس ظاہر کیاکہ تلنگانہ ریاست اب پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہوگئی ہے جہاں انسانی حقوق کا کوئی احترام نہیں کیا جاتا ہے۔ جگنیش میوانی یہاں مادیگا ریزرویشن پوراٹا سمیتی لیڈر مندا کرشنا مادیگا کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ ان کے علاوہ تلگو فلموں کے متنازعہ ناقد مہیش کھیتی نے اب دلتوں کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ گویا تلنگانہ میں کے سی آر کو دلتوں کے تعلق سے زبردست چیالنجس کا سامنا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی میٹھی گولی دی ہے مگر دلت انھیں موقع نہیں دیں گے کہ وہ مسلمانوں کی طرح دلتوں کو بے وقوف بناکر اپنا سیاسی موقف مضبوط کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT