Monday , November 19 2018
Home / عرب دنیا / کیا جمال خشوگی کا قتل دیانتدار اور حق پرست صحافیوں کیلئے انتباہ؟

کیا جمال خشوگی کا قتل دیانتدار اور حق پرست صحافیوں کیلئے انتباہ؟

ریاض۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کیا صحافی جمال خشوگی کا قتل دیگر حق پرست اور دیانت دار صحافیوں کو شاہی خاندان کی سرگرمیوں کا افشاء کرنے حوصلہ مند ثابت ہوگا؟ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ جمال خشوگی کا قتل ’’لہو پکارے گا آستیں کا‘‘ کے مصداق شاہی خاندان کیلئے مستقبل قریب میں مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ جمال خشوگی بادشاہت یا شاہی خاندان کے مخالف نہیں تھے لیکن صرف چند غیرقانونی، غیرمنصفانہ اور غیراخلاقی فیصلوں پر انہوں نے اپنی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا تھا جیسا کہ ایک دیانت دار اور حق پرست صحافی کو کرنا چاہئے تاہم انتہائی وحشیانہ انداز میں خشوگی کا قتل کرکے ان کی نعش کو مبینہ طور پر ضائع کردینا انسانیت کو شرمسار کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے دو فرزندوں نے اگر سعودی حکومت سے اپنے والد کی نعش حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے چل کر حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ نعش اگر ہوگی تو حوالے کی جائے گی اور اگر اس کا وجود ہی نہیں ہے تو دونوں فرزندان کیا حکمت عملی اختیار کریں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

TOPPOPULARRECENT