Tuesday , November 21 2017
Home / اے پی ڈائری / کیا حکمران صرف احتجاج اور دھرنوں کی زبان سمجھتے ہیں

کیا حکمران صرف احتجاج اور دھرنوں کی زبان سمجھتے ہیں

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری        خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کے قیام کے وقت جو قانون بنایا گیا تھا اس کے تحت تلنگانہ کے لئے ایک علحدہ ہائی کورٹ کے قیام کی بات رکھی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی تقسیم میں تاخیر کے مسئلہ نے بہت بڑا تنازعہ اور کشیدگی کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے  مرکز پر الزام عائد کیا کہ وہ صرف آندھرا پردیش کی حمایت کررہا ہے کیونکہ مرکز کی بی جے پی حکومت کا آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی پارٹی کے ساتھ اتحاد ہے۔ چیف منسٹر نے ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی پر مرکزی وزیر قانون ڈی وی سدانند گوڑ نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ خود چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی طرح رویہ اختیار کررہے ہیں، کجریوال بھی ہر بات پر قومی دارالحکومت میں دھرنے کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ مرکز کا کہنا ہے کہ ہم اپنی طرف سے ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں۔ اس مسئلہ پر مرکز کو ہی مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ عدالت میں مفاد عامہ کی درخواست زیر التواء ہے۔ سدانند گوڑ نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ اے پی ری آرگنائزیشن ایکٹ 2014 کا مکمل مطالعہ کریں اور تلنگانہ ہائی کورٹ کے دستور کے مسئلہ کو سمجھیں۔

ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر مرکز کا کہنا ہے کہ  یہ مسئلہ مرکز کے اختیار میں نہیں ہے ہر بات کیلئے مرکز کو دمہ دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے۔ تلنگانہ ہمیشہ بحرانوں کی زد میں رہا ہے۔ قیام تلنگانہ سے پہلے اور بعد میں یہاں سیاسی اور داخلی استحکام کا مسئلہ نہیں تھا مگر انتظامی حالات نازک ہوتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اب تلنگانہ ہائی کورٹ کا مسئلہ ساری قانونی مشنری کو ٹھپ کرکے رکھا ہے۔ اس مرتبہ جو بحران پیدا ہوسکتا ہے وہ حکومت کے ساتھ ساتھ کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بحران کے آثار کا پتہ چلانے کے لئے حالیہ واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ چیف منسٹر کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کچھ قائدین نے انفرادی طور پر اپنا محاذ بنالیا ہے لیکن آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں 10سال تک معاہدہ ہوا ہے کہ دارالحکومت حیدرآباد دونوں ریاستوں کی مشترکہ راجدھانی رہے گی۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر مسٹر کے سی آر کے کئی منصوبے ادھورے رہے ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت کا تخلیہ کرانے کے بعد حیدرآباد میں بڑے کامپلکس بنانے کا خواب دیکھنے والے کے سی آر کو اب اپنے منصوبوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔

حیدرآباد جب تک دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا تب تک کوئی بڑا تعمیراتی منصوبہ پورا نہیں کیا جاسکے گا 2024 تک حیدرآباد پر آندھرا پردیش حکومت کا اتنا ہی حق ہوگا جتنا تلنگانہ کی حکومت کا ہے۔ آندھرا پردیش کے تمام سرکاری کام حیدرآباد سے ہی انجام دیئے جائیں گے۔ آندھرا پردیش کا نظم و نسق امراوتی منتقل کرنے کے عمل کے پورا ہونے تک دیر ہوسکتی ہے مگر چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو نے جلد سے جلد منتقلی کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ آندھرا پردیش سکریٹریٹ کے ذمہ داران چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد تمام دفاتر کو امراوتی منتقل کیا جائے۔ امراوتی منتقلی کے باوجود حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے حیدرآباد میں اس کو الاٹ کردہ آفس کی جگہ تلنگانہ حکومت کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور حیدرآباد کی تمام ان جگہوں پر آندھرا پردیش کے آفس برقرار رہیں گے جہاں اس وقت ہیں۔سال 2024 کے بعد ہی آندھرا پردیش کے تمام اثاثہ جات امراوتی منتقل کرلئے جائیں گے اور یہ علاقہ تلنگانہ حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں موجود 142 ریاستی ملکیت کے اداروں کے اثاثہ جات اور دیگر اُمور کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ اب تک صرف 80اداروں کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکی ہیں۔ حکومت آندھرا پردیش نے تلنگانہ میں موجود 142 اداروں کے ذمہ داروں کو مکتوبات لکھ کر تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ  میں اثاثہ جات کی تقسیم عمل میں لائی جاسکے۔ لیکن اب تک صرف 60اداروں کے ہم منصب عہدیداروں کی کوتاہی اور تنگ نظری کی شکایت کی ہے۔آندھرا پردیش کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اداروں کی تقسیم کے مسئلہ پر تلنگانہ چیف سکریٹری اپنی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آندھرا کو کوئی بھی معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔

ایک طرف تلنگانہ حکومت ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر زور دے کر دھرنے اور احتجاج کی دھمکی دے رہی ہے تو دوسری طرف آندھراپردیش حکومت نے اس کے حصے کے اثاثہ جات کی تقسیم کی ہدایت دی تھی جبکہ تلنگانہ کے اثاثہ جات کی تقسیم کو اس کے علاقائی بنیاد پر کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب یہ مطالبہ بھی نظرانداز کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے آندھرا پردیش حکومت کے تخلیہ کے بعد ایک نیا سکریٹریٹ بنانے کا بھی منصوبہ بنایا تھا اور اس کے لئے قطعی نقشہ بھی تیار کرلیا گیا تھا، آرکیٹکٹ حفیظ کنٹراکٹر نے نئے سکریٹریٹ کا نقشہ بنایا ہے۔ حکومت نے اس سکریٹریٹ کی تعمیر کے لئے 200کروڑ روپئے کا فنڈ بھی مختص کیا تھا لیکن اب اس مسئلہ پر تاخیر ہوگی۔ وجہ یہی ہے کہ حکومت آندھرا پردیش اپنا علحدہ دارالحکومت بنانے کی تیاریوں کے باوجود آئندہ 2024 تک حیدرآباد چھوڑنے تیار نہیں ہے، وہ حیدرآباد کو مشترکہ دارالحکومت کے طور پر آخر تک استعمال کرنا چاہتی ہے۔ اس لئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے کئی ڈریم پراجکٹس ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں، اس سے مایوس چیف منسٹر نے ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر مرکز کی جانب سے تاخیر کے خلاف دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا دینے کی دھمکی دی۔
آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن ایکٹ کے مطابق دیانتداری سے عمل نہیں کیا جارہے ہے اس لئے تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست نظر ثانی داخل کی ہے کہ تلنگانہ کو اس کی آبادی کی بنیاد پر18ویں شیڈول کے مطابق اثاثہ جات میں حصہ مل سکے۔ ہائی کورٹ اور عدالتوں میں ججس کے تقررات کا مسئلہ بھی نازک بن گیا ہے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے حکومت آندھرا پردیش پر الزام عائد کیا کہ وہ درپردہ طور پر تلنگانہ پر اپنا حق جتانے کی کوشش کررہی ہے۔ تحت کی عدالتوں میں ججس کے تقررات کے لئے اپنے آندھرائی ججس کو ترجیح دی جارہی ہے۔ تلنگانہ کی عدالتوں میں بھی335ججس کو جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے گئے ان میں95جوڈیشیل آفسیرس کا وطن آندھرا ہے بلکہ اتنا ہی نہیں مرکز نے آندھرا پردیش کی حکومت کے اشاروں پر جونیر اور سینئر سیول ججس کی 100مخلوعہ جائیدادوں پر آندھرائی ججس کو تقرر کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ آندھرا پردیش میں ججس کی جائیدادیں خالی ہیں تو وہاں کے باشندوں کو وہیں پر تقرر کیا جاسکتا ہے لیکن یہ لوگ حیدرآباد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان آندھرائی ججس کو اپنی ریاست کے عوام کی خدمت کرنی چاہیئے اس کے بجائے وہ تلنگانہ کے کسی بھی ضلع میں تقرر کرانے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ ہائی کورٹ کی تقسیم کا مسئلہ زیر التواء ہے مگر ججس کے تقررات ہورہے ہیں۔ اس طرح حکومت تلنگانہ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ اس سلسلہ میں سازش رچی جارہی ہے۔

آندھرائی نژاد ایسے ججس جن کے وظیفہ کے دن قریب آرہے ہیں انہیں آندھرا پردیش کی عدالتوں کو منتقل کیا جارہا ہے اور جن ججس کی سرویس لمبی ہے انہیں تلنگانہ میں خدمت کا موقع دیا جارہا ہے۔ اس پر تلنگانہ کی قیادت آندھرائی قیادت کو مورد الزام ٹھہرارہی ہے کہ یہ آندھرائی لابی تلنگانہ کے قیام کے باوجود اپنے غلبہ اور تسلط کو تلنگانہ کے عوام پر مسلط کرنے کی کوشش ترک نہیں کی ہے۔ ملازمتوں اور ججس کے تقررات کے معاملہ میں تلنگانہ کے خلاف سازش نہ صرف کلاس فور ایمپلائز سے ہورہی ہے بلکہ جوڈیشیل آفیسرس تک یہ سازش رچی جارہی ہے۔ سراسر اس سلسلہ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی سے کام لیا جارہا ہے۔ اس طرح 22آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کو بھی تلنگانہ ہی میں رکھا گیا ہے جن پر تحقیری مقدمات ہیں۔ اب عدالتوں میں بھی تلنگانہ کے حق میں انصاف نہیں ہوگا تو پھر کہاں جائیں گے۔ آندھرا پردیش کی حکومت ہائی کورٹ کی تقسیم کے عمل میں کھلی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اگرچیکہ حکومت تلنگانہ نے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت کو چھوڑنے پر نئی عمارت دینے کی پیشکش بھی کی تھی اور امراوتی میں اپنا ہائی کورٹ بنانے تک اس نئی عمارت میں آندھراپردیش ہائی کورٹ کام کرسکتا تھا، لیکن یہ مسئلہ سنی اَن سنی کی نذر ہوگیا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT