Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کیا حکومت سے مایوس نوجوان شراب نوشی کا شکار ہو رہے ہیں؟

کیا حکومت سے مایوس نوجوان شراب نوشی کا شکار ہو رہے ہیں؟

شراب کی فروخت میں ایک سال میں 3 ہزار کروڑ سے زائد کا اضافہ ‘ ریکارڈ آمدنی
حیدرآباد 9 اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں شراب کا کاروبار عروج پر پہونچ چکا ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد سے شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں ہزاروں کروڑ کا اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ حکومت کی مایوس کن پالیسیوں اور جھوٹے وعدوں نے نوجوانوں کو شراب نوشی کا عادی بنادیا ہے۔ اگر گزشتہ دو مالیاتی سالوں کا ریکارڈ کا تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ محض ایک سال میں تین ہزار کروڑ روپئے کی شراب کی فروخت میں اضافہ ہوا ۔ ریکارڈ کے بموجب مالیاتی سال 2016-17 ء میں ریاست میں 14 ہزار 185 کروڑ کی شراب فروخت کی گئی تھی جبکہ مالیاتی سال 2017-18 ء میں 17 ہزار 597 کروڑ روپئے کی شراب فروخت کی گئی اور آئندہ برسوں میں شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ کا امکان ہے۔ عہدیداروں کا یہ دعویٰ ہے کہ ریاست بھر میں سستی شراب (گڑمبہ) پر امتناع عائد کے نتیجہ میں شراب کی فروخت میں بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبکاری و نشہ بندی نے غیرقانونی فروخت کئے جانے والے شراب کے ریاکٹس کو بے نقاب کرکے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے بالخصوص ایرپورٹ ڈیوٹی کی عدم ادائیگی کے بعد اُسے شہر منتقل کرکے دوگنی قیمت پر فروخت کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ محکمہ آبکاری کی جانب سے غیر قانونی شراب کی فروخت کے خلاف سخت موقف کے نتیجہ میں آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبکاری عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ سال شراب کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں شراب کی آمدنی کے ہندسوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور شراب کی فروخت سے آمدنی اُن کی توقعات کے مطابق ہے۔ حکومت کی جانب سے گڑمبے پر امتناع سے میں شراب نوشی پر مجبور ہوگئے ہیں جبکہ گڑمبے کی فروخت میں کمی کے بعد بیلٹ شاپس کو اجازت دی گئی تھی۔ وائن شاپس اور بار و ریسٹورنٹ میں اضافہ ہوا اور شراب کی دوکانیں کھولنے جو قوانین ہیں اُس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے جبکہ اسکولس، کالجس، مذہبی مقامات کے قریب بھی کئی وائن شاپس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اور اِن شاپس سے متصل کھلی جگہوں پر بھی شراب نوشی کی اجازت دی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT