Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / کیا خواتین کو ووٹ دینے شوہر ، بیٹے یا آجر سے اجازت لینی پڑتی ہے ؟ ٹرمپ

کیا خواتین کو ووٹ دینے شوہر ، بیٹے یا آجر سے اجازت لینی پڑتی ہے ؟ ٹرمپ

ممبئی کے ایک کانکلیو میں سابق وزیر خارجہ ہلاری کلنٹن کے خطاب پر زبردست تنقید یں
ڈیموکریٹس ، عام امریکی ورکرس سے قربت نہیں رکھتے
میں تو سیاست میں نووارد ہوں لیکن ہلاری تو تجربہ کار ہیں ، نیشنل ری پبلیکن کانگریشنل ڈنر پر ٹرمپ کا خطاب

واشنگٹن۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سابق وزیر خارجہ اور 2016ء کے صدارتی انتخابات میں ان کی ڈیموکریٹک حریف ہلاری کلنٹن کو ان (ہلاری) کے حالیہ دورۂ ہند کے دوران ٹرمپ کے ووٹرس کے خلاف متنازعہ بیان دینے پر شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ڈیموکریٹس کا ’’امریکہ کے روزانہ کام کرنے والے عام ورکرس‘‘ سے کوئی ربط نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ہلاری کلنٹن نے اپنی ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ 2016ء میں ری پبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے کیلئے امریکی خواتین کو اپنے شوہروں، بیٹوں اور اپنے مرد آجرین سے اجازت لینی پڑی تھی۔ اپنے ریمارکس میں ہلاری نے یہ بھی کہا تھا کہ جنہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی تائید کی تھی، وہ شاید اس لئے کی تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ امریکی سیاہ فام عوام کو ان کے حقوق دیئے جائیں، امریکی خواتین کو ملازمتیں ملیں اور ہندوستانی نژاد امریکی شہری حقیقی امریکی شہریوں سے زیادہ کامیاب ہوں۔ ہلاری کلنٹن نے ممبئی میں منعقدہ ایک کانکلیو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ متعصب اور نسلی سوچ رکھنے والے ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ امریکہ میں بھی ایسا طبقہ ہے جو خواتین کواعلیٰ عہدوں پر فائز نہیں دیکھ سکتا۔ وہ یہ نہیں دیکھ سکتاکہ سیاہ فام عوام کو ان کے حقوق مل جائیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھ سکتا کہ ہندوستانی امریکی شہریوں سے زائد ترقی کریں۔ شاید اسی لئے خواتین کو جب رائے دہی کی ضرورت پیش آئی تو پولنگ بوتھ پہنچنے سے قبل انہوں نے یا تو اپنے شوہروں سے، بیٹوں سے یا پھر اپنے مرد آجرین سے اجازت لی کہ آیا ووٹ ری پبلیکن کو دیا جائے۔ 71 سالہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ہلاری کلنٹن کے ریمارکس کو ایک خراب بیان سے تعبیر کیا جو سننے والوں کے دلوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ انہوں نے نیشنل ری پبلیکن کانگریشنل ڈنر کے موقع پر اپنے ایک مختصر سے خطاب کے دوران مسکراتے ہوئے کہا کہ ہلاری کلنٹن آپ کا بیان ناقابل قبول ہے۔

کیا کوئی ووٹ دینے کیلئے بھی اپنے شوہر، بیٹے یا مرد آجر کی اجازت لیتا ہے؟ ووٹ دینا آپ کا بالکل ہی خانگی معاملہ ہے اور جس وقت آپ پولنگ بوتھ میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہوتے ہیں، اس وقت صرف آپ ہی جانتے ہیں کہ آپ نے ووٹ کس کو دیا ہے۔ آپ کو دیکھنے والا کون ہوتا ہے؟ لہذا ہلاری نے جو بیان دیا ہے، وہ ناقابل فہم ہے اور عقل اسے تسلیم نہیں کرتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کبھی بھی عوام کے قریب نہیں رہے۔ ان کے دکھ درد، ان کے مسائل کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے اپنی شکست سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ 2016ء میں صدارتی انتخابات کے دوران ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنس کی جو انتخابی مہمات چلائی جارہی تھیں، وہ کافی دلچسپ تھیں جہاں ہلاری اور ٹرمپ نے ایک دوسرے پر شخصی حملے بھی کئے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف ایسے ایسے بیانات دیئے تھے جنہیں اگر اب سنا جائے تو سماعت پر بھروسہ نہ رہے۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں ہلاری کی اس تقریر کا بھی حوالہ دیا جو انہوں نے صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف چند ہفتے قبل ایک فنڈریزر ایونٹ میں کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ جب جب ہم کوئی سیاسی بیان دیتے ہیں تو الفاظ کے استعمال میں ہمیں بے حد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مجھ سے زیادہ سیاسی تجربہ ہلاری کو ہے۔ میں تو سیاست میں نووارد ہوں۔ انہوں نے ادعا کیا کہ خود ہلاری کے ڈیموکریٹس ساتھیوں نے بھی ان سے (ہلاری) دوری اختیار کرلی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ خود ہلاری کے ساتھی اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہیں؟ ایسے بیانات کیوں دے رہی ہیں۔ انہیں گھر پر بیٹھنے کو ترجیح دینی چاہئے۔ قبل ازیں ہلاری کلنٹن نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ پر وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس سے کسی مخصوص مرد یا خاتون کی دل آزاری کرنا مقصود نہیں تھا۔ میں جانتی ہوں کہ میں نے جو کچھ بھی کہا ہے کہ، اس سے کچھ لوگ ضرور ناخوش ہیں اور میرے بیان کو توڑ مروڑ کر بھی پیش کررہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ امریکی صدارتی انتخابات میں عالمی سطح پر یہی توقع کی جارہی تھی کہ ہلاری کلنٹن امریکہ کی پہلی خاتون صدر بننے جارہی ہیں لیکن جب نتائج سامنے آئے تو سب حیرت زدہ رہ گئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے پر سب نے تعجب کا اظہار کیا اور اسے انتخابی دھاندلی سے بھی تعبیر کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT