Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کیا راجیہ سبھا ٹکٹ کیلئے بھی مرکز سے منظوری درکار تھی ؟

کیا راجیہ سبھا ٹکٹ کیلئے بھی مرکز سے منظوری درکار تھی ؟

ٹی آر ایس کی ناانصافی پر مسلمانوں میںشدید ناراضگی۔ شیخ عبداللہ سہیل کا بیان

حیدرآباد /12 مارچ ( سیاست نیوز ) صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ راجیہ سبھا کیلئے ٹی آر ایس امیدواروں کے اعلان کے ساتھ ہی مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ اقلیت نوازی کا دعویٰ کرنے والی جماعت نے پھر مسلمانوں سے ناانصافی کی ہے ۔ انتخابی وعدوں میں تحفظات کا مسئلہ برف دان کی نذر ہوگیا ۔ جبکہ راجیہ سبھا کے اختیارات تو وزیر اعلی کو تھے کیونکہ ٹی آر ایس میں مسلم قائدین کی انہیں کمی نظر آئی ۔ کیا مسلمان قائدین باصلاحیت نہیں ہیں ۔ کیوں مسلمانوں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ یہ سوال آج ساری ریاست میں موضوع بحث ۔ بلکہ پارٹی میں موجود مسلم قائدین کی یہ ذمہ داری تھی کہ و متحد ہوکر وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ پر دباؤ ڈالتے کہ راجیہ سبھا کی تین نشستوں میں ایک نشست مسلم طبقہ کو دی جائے کیونکہ اس کیلئے مرکز کی منظوری تو درکار نہیں تھی ۔ ٹی آر ایس کے مسلم قائدین کرسی کی نہیں ملت کی فکر کریں اور یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ ایک سرکاری ملازم چاہے و کلرک کیوں نہ ہو 58 برس ملازمت کرتا ہے برعکس اس کے قیادت مستقل نہیں ہوتی ۔ حالات کے تناظر میں مسلم قائدین پارٹی میں اپنے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے بجائے ملت کے دلوں پر حکومت کرنے کیلئے لب کشائی کریں کیونکہ بقول شاعر
خاموشی بزدل نہ کرڈالے تمیں
جب ضرورت ہو زبان کھولا کرو
جی حضوری اور غلامی چھوڑکر
قوم کے حق میں بھی کچھ بولا کرو
حصول تلنگانہ کی تحریک کے اوراق گواہ ہیں کہ تلنگانہ کیلئے طلباء برادری وکلا برادری صحافت سماج ہر طبقہ اپنے اپنے انداز سے جدوجہد میں شامل تھا ۔ آج مسلمانوں کو تحفظات کے ذریعہ ملازمتوں کی صفوں میں مسلمانں کا اضافہ ہوگا ۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا ۔ مرکزی حکومت کو ڈھال بناکر مسلمانوں کی پسماندگی کو جوں کا توں رکھ دیا گیا ۔ کم از کم ٹی آر ایس میں شامل کسی حرکیاتی مسلم قائد کو راجیہ سبھا کیلئے منتخب کیا جاتا تو مسلمان یقیناً ٹی آر ایس کی اقلیت نوازی کی ستائش کرتے لیکن یہ واضح ہوگیا ہے کہ چندرا شیکھر راؤ مسلمانوں کی ترقی کیلئے کس قدر سنجیدہ ہیں ۔ معصوم مسلمانوں نے 12 فیصد تحفظات کی امید پر انہیں اقتدار کی منزل کا راستہ بنایا ، ریاست میں نوجوان صحافی بے لوث انداز میں 12 فیصد تحفظات کیلئے شدت سے مہم چلائی جن کے نہ تو کوئی سیاسی عزائم تھے نہ کوئی غرض ‘اقلیتوں کو خوش کرنے حکومت نے عامر علی خان کی تحریک کے دباؤ میں بل کو مرکزی حکومت کے حوالے کردیا سب جانتے تھے کہ یہ بل کا انجام کیا ہے ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ آج انتہائی اہم راجیہ سبھا نشستوں سے مسلم کو نظر انداز کردینا وزیر اعلی کی مسلمانوں سے زبانی ہمدردی آشکار ہوتی ہے ۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ساری ریاست جانتی ہے کہ مسلمانوں نے بھی حصول تلنگانہ کیلئے کیا نہیں کیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم نمک ہوگئے ہیں ذائقہ کیلئے استعمال کیا جانے لگا ۔ رمضان میں دعوت افطار ہمارا مقدر بن گیا ہے جبکہ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد چندر شیکھر راؤ نے ایک اور وعدہ کیا تھا کہ ریاست میں راشٹرا سمیتی کے اقتدار کے ساتھ ہی کابینہ میں مسلم وزراء کم از کم تین ہوں گے ۔ افسوس کے ان کی جماعت نے صرف اور صرف ایک واحد رکن اسمبلی محمد شکیل عامر بودھن سے منتخبہوئے لیکن حکومت کی معیاد ختم ہونے کو ہے وزراء کی تعداد میں اضافہ نہ ہوسکا ۔ معراج فیض آبادی مرحوم نے شائد تلنگانہ کے مسلمانوں کی حالت زار پر اپنے جذبات کا یوں اظہار کیا تھا ۔
ہم بھی تعمیر تلنگانہ میں ہیں برابر کے شریک
در و دیوار اگر تم ہو تو بنیاد ہیں ہم
اور ہم کو اس دور ترقی نے دیا کیا معراج
کل بھی برباد تھے اور آج بھی برباد ہیں ہم

TOPPOPULARRECENT