Tuesday , December 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

آج کے موجودہ دور میں ہمارے مسلم معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کو فرقوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کو نشانِ ملامت بنارہے ہیں ۔فلاں شخص کہتا ہے کہ یہ فرقہ کی جماعت غلط ہے  فلاں کہتا ہے یہ فرقہ کی جماعت غلط ہے وغیرہ وغیرہ … !ہم ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے کہیں اسلام کو تو بدنام نہیں کررہے ہیں ؟۔ ہمارے اس غلط عمل سے ہماری آنے والی نسلیں گمراہی کی طرف چلی جائیں گی اور ان کو یہ سمجھ میں نہیں آئیگا کہ آخرکار ہم کس فرقہ کو سچا سمجھ کر اپنائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو نعوذباﷲ وہ دوسرے مذہب کو اپنا نہ لے ۔ اس سے پہلے ایسا کچھ ہو ، آئیے ہم سب مل کر یہ کوشش کریں کہ ہم کس کے اُمتی ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئے ۔ آج اس فرقوں کی لڑائی کی وجہ سے غیرقومیں ہمیں اندرونی طریقوں سے کمزور کرتی چلی جارہی ہیں اور ہم کو دشمن کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اور ساری دنیا میں ہمیں ’’دہشت گرد‘‘ کے نام سے پکارا جارہا ہے ۔ کیا یہ نام ’’دہشت گرد‘‘ ہم مسلمانوں کو اچھا لگے گا کہ کوئی دوسری قومیں ہمیں اس طرح بدنام کریں۔ نہیں تو ہم پھر ایسا کیوں کرکے بدنام ہورہے ہیں ۔ ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا کہ تم میں جو کوئی میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا ۔ ایسی صورت میں تم پر لازم ہے کہ تم میرے طریقے کو میرے بعد میرے خلفائے راشدین کے طریقے کو اختیار کرو جو کہ صحیح راستے پر ہیں۔ ان کے طریقے کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو اور دین میں نئی نئی باتوں کے پیدا کرنے سے بچو کیونکہ دین میں ہر نئی پیدا کی جانے والی بات بدعت ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اب ہم سب اس حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ہوجائیں۔ اس دنیا میں ایک فرقہ اور ایک ہی جماعت ہوگی ’’صحابہ کرام اورخلفائے راشدین کی جماعت ‘‘جو ہمیں صحیح راستہ پر لے جائیں گی اور ہمارے لئے جنت میں جانے کا ذریعہ بھی بنے گی ۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو کہنے سننے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین )

TOPPOPULARRECENT