Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / کیا مخالف کانگریس اتحاد میں ٹی آر ایس ، مجلس اور بی جے پی ساتھ رہیں گے ؟

کیا مخالف کانگریس اتحاد میں ٹی آر ایس ، مجلس اور بی جے پی ساتھ رہیں گے ؟

حیدرآباد ۔22۔ نومبر (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے انتخابات کے بیک وقت انعقاد کی تجویز کے پس منظر میں آئندہ سال تلنگانہ میں نئی سیاسی صف بندی کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں ۔ برسر اقتدار ٹی آر ایس کو اقتدار پر دوبارہ قبضہ کیلئے کسی مضبوط حلیف کی تلاش ہے جبکہ دیگر چھوٹی جماعتیں ٹی آر ایس کا ہاتھ تھام کر اپنی نشستوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے آئندہ انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں اور پروفیسر کودنڈا رام کی زیر قیادت تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کا واضح طور پر اشارہ دیا ہے جبکہ بی جے پی نے اپنے مستقبل کے منصوبہ کے سلسلہ میں ٹی آر ایس سے دوستی کے امکانات کو کھلا رکھا ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کی قربت کا اندازہ کل بی جے پی ارکان اسمبلی کے حلقوں میں ریاستی وزراء کے دورہ سے ہوا۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن اور اسمبلی میں پارٹی فلور لیڈر کشن ریڈی کے انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کیلئے ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ ، این نرسمہا ریڈی اور ٹی سرینواس یادو نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورہ کے بعد بی جے پی اور ٹی آر ایس کے کیڈر میں یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں کہ آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں گی۔ اگر یہ اندازے حقیقت میں تبدیل ہوجائیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حیدرآباد کی مقامی جماعت مجلس کا کیا ہوگا جو گزشتہ تین برسوں میں حکومت کے ہر اقدام کی تائید کرتے ہوئے مضبوط حلیف کی حیثیت سے اپنی دعویداری پیش کر رہی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے بعض مواقع پر اعتراف کیا کہ مجلس ان کی حلیف جماعت ہے۔ سیاست میں کب کیا ہوجائے اور کونسی پارٹی کس کروٹ بیٹھے اس کا قبل از وقت اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں بی جے پی اور ٹی آر ایس کی قربت کے امکانات بھی مسترد نہیں کئے جاسکتے۔ بی جے پی قائدین کے ریاستی وزراء کے دورے کے علاوہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں بی جے پی کا رویہ بھی ان قیاس آرائیوں کو تقویت پہنچا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی ضرورت بن سکتی ہے۔ بی جے پی ارکان نے عوامی مسائل پر حکومت کو اسمبلی میں گھیرنے کی کوشش ضرور کی لیکن زیادہ تر اس کا رویہ حکومت کے حق میں رہا لیکن مقامی جماعت کے فلور لیڈر اور ارکان نے اپنا زیادہ تر وقت چیف منسٹر اور حکومت کی مداح سرائی میں صرف کیا۔ اب ٹی آر ایس کے لئے یہ طئے کرنا آسان نہیں ہوگا کہ وہ آئندہ انتخابات میں اسے اپنی چھتری میں شامل کرے۔ ٹی آر ایس یقینی طور پر دونوں میں اسی پارٹی کو ترجیح دے گی جس سے اسے زیادہ فائدہ ہوگا۔ مقامی جماعت کے مقابلہ بی جے پی سے ٹی آر ایس کو زیادہ امیدیں ہیں کیونکہ وہ مرکز میں برسر اقتدار ہے۔ مختلف پراجکٹس کی منظوریوں اور فلاحی اسکیمات کے لئے مرکزی فنڈس کے حصول کیلئے ان دنوں ٹی آر ایس کو دشواریوں کا سامنا ہے، لہذا وہ دوستی کا ہاتھ بڑھاکر مرکز سے اپنے مسائل کو بآسانی حل کرسکتی ہے۔ جہاں تک مجلس کا تعلق ہے ، اسے انتخابات تک مسلمانوں میں حکومت کی بھجن منڈلی کی طرح استعمال کیا جائے گا اور پھر اس حال میں چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ ٹی آر ایس کی مخالفت کے موقف میں نہ رہے ۔ جو پارٹی چار سال تک حکومت اور چیف منسٹر کی تعریفوں کے پل باندھتی رہی ، اس کے لئے اچانک موقف تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مقامی جماعت کیلئے کانگریس پارٹی سے دوستی بھی آسان نہیں کیونکہ گزشتہ تین برسوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان خلیج کافی حد تک بڑھ چکی ہے اور کانگریس پا رٹی مجلس کو دوبارہ منہ لگانے تیار نہیں۔ ان حالات میں مجلس کیلئے واحد راستہ درپردہ طور پر ٹی آر ایس سے مفاہمت کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اگر ریاست گیر سطح پر بی جے پی اور ٹی آر ایس انتخابی مفاہمت کرتے ہیں تو مجلس پرانے شہر کے حلقہ جات کے حد تک ٹی آر ایس سے خفیہ مفاہمت کرسکتی ہے۔ یوں بھی ہمیشہ مقامی جماعت نے اپنے حلقوں میں کامیابی کیلئے تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ خفیہ مفاہمت کی ہے اور کمزور امیدواروں کو میدان میں اتارنے کیلئے مجبور کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو یقینی بنایا۔ کانگریس کی جس شدت کے ساتھ مجلس مخالفت کر رہی ہے ۔ کہیں وہ مخالف کانگریس اتحاد میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے ساتھ شامل نہ ہوجائے۔ سیاست میں صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت پڑنے پر مخالف کانگریس اتحاد میں مجلس کی شمولیت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مجلس کے کیڈر کو آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے موقف کے بارے میں کئی اندیشے لاحق ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں مقامی جماعت نے اپنے اسمبلی حلقوں میں عوامی تائید اور مقبولیت کو بڑی حد تک کھودیا ہے۔ ایسے میں مجلس کیلئے ٹی آر ایس کا ہاتھ تھامنا سیاسی مجبوری کے سواء کچھ نہیں رہے گا ، بھلے ہی بی جے پی بھی محاذ میں شامل کیوں نہ ہو۔ مخالف کانگریس محاذ میں مجلس کی شمولیت پر بی جے پی کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ دیگر ریاستوں میں وہ بی جے پی کی مختلف انداز میں مدد کرسکتی ہے۔ تلنگانہ میں بھی مسلم قابل لحاظ آبادی والے علاقوں میں امیدوار کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی اور ٹی آر ایس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے بعض سینئر قائدین نے ٹی آر ایس سے قربت کی مخالفت کی ، ان کا ماننا ہے کہ بی جے پی اپنی طاقت کے بل پر تلنگانہ میں حیرت انگیز نتائج لاسکتی ہے۔ سابق مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ بی جے پی قائدین کا ریاستی وزراء کے ساتھ اپنے اسمبلی حلقہ جات میں دورہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ترقیاتی کاموں کیلئے کسی بھی رکن اسمبلی کو حکومت کا تعاون حاصل کرنے ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT