Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / کیا مودی بھول گئے کہ وہ وزیراعظم ہیں، چدمبرم کا استفسار

کیا مودی بھول گئے کہ وہ وزیراعظم ہیں، چدمبرم کا استفسار

ملک میں 42 ماہ بعد بھی ’’اچھے دن‘‘ کا وعدہ پورا نہیں ہوا، بیروزگاری، سرمایہ کاری جیسے مسائل پر چپ کیوں ہیں

نئی دہلی۔ 28 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے آج وزیراعظم پر شدید تنقید کی اور کہا کہ انتخابات مسٹر مودی کے تعلق سے نہیں ہوتے، یہ انتخابات فرد واحد کے اردگرد نہیں گھومتے بلکہ ’’اچھے دن‘‘ کا جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ 42 ماہ بعد بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار پوسٹس کا سابق وزیر فینانس نے یہ بھی سوال کیا کہ آیا مودی بھول گئے کہ وہ وزیراعظم بھی ہیں۔ مسٹر مودی کی مہم خود نمائی کے لئے ہے، ان کا ماضی اور گجرات و گجراتیوں کے مبینہ ہیرو بننے پھرنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ وہ ہندوستان کے بھی وزیراعظم ہیں؟ گجرات سے انتخابات صرف مسٹر مودی کے تعلق سے نہیں ہیں۔ نہ ہی یہ فرد واحد کی خود نمائی کا میدان بننے ہوئے ہیں۔ یہ انتخابات ان سے سوال کررہے ہیں کہ آخر ان کا اچھے دن کا وعدہ کب پورا ہوگا جو 42 ماہ بعد بھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اپنی تنقیدوں اور نکتہ چینی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چدمبرم نے کہا کہ وزیراعظم نے بیروزگاری، سرمایہ کاری کے فقدان جیسے مسائل کے بارے میں بات نہیں کی ہے اور نہ ہی وہ اپنی خرابیوں اور حکومت کی ناکامیوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ ملک کی معیشت تباہ ہورہی ہے۔ قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ ان تمام کے باوجود وہ خود کو جوابدہی کے قابل ہی نہیں سمجھ رہے ہیں اور یہ تلخ حقائق ہیں جن سے وہ راہ فرار اختیار کرتے جارہے ہیں۔ چدمبرم کے مطابق مودی یہ بھول گئے ہیں کہ مہاتما گاندھی ہندوستان اور گجرات کے سپوت تھے۔

گاندھی جی تھے اور یہی وہ بابائے قوم کی حیثیت سے جانے والے گاندھی جی نے کانگریس پارٹی کی جدوجہد آزادی کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر منتخب کیا تھا۔ چدمبرم نے زور دے کر کہا کہ جدوجہد آزادی کے لئے ان کی کانگریس سے وابستگی اٹوٹ رہی تھی۔ وزیراعظم اور بی جے پی اب سردار ولبھ بھائی پٹیل کو دیوانہ وار طریقہ سے اپنے نظریات کا حصہ بنا رہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلاشبہ سردار پٹیل نے پی ٹی آئی کی سرپرست آر ایس ایس کو مسترد کردیا تھا اور اس کے انتشار پسندانہ نظریہ کو دھتکار دیا تھا۔ کانگریس نے شدید تنقید کرتے ہوئے مودی نے کل گجرات سے کہا تھا کہ اپوزیشن پارٹی ہندوستانی عوام کی آرزوؤں سے توقعات سے دور ہوتی جارہی ہے اور صرف گمراہ افراد کے ساتھ گٹھ جوڑ کررہی ہے۔ اس طرح وہ قنوطیت کی فضاء پیدا کررہی ہے۔ انتخابات کو نریندر مودی نے بھروسہ مندی، ترقی اور خاندانی سیاست کے درمیان ایک مقابلہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے گجرات کو ہرگز پسند نہیں کی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ وہ ریاست گجرات دیگر ریاستوں سے پیچھے رہے۔ گجرات کے تعلق سے مودی نے کہا کہ گجرات میری آتما ہے، بھارت میرا پرماتما ہے، سرزمین گجرات نے میری پرورش کی ہے۔ گجرات کے پیچھے طاقت و حوصلہ دیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے ریاست میں چار ریالیوں سے خطاب کیا جہاں 9 ڈسمبر اور 14 ڈسمبر کی رائے دہی ہونے والی ہے۔

TOPPOPULARRECENT