Saturday , July 21 2018
Home / مضامین / کیا مودی گجرات ہار سکتے ہیں ؟

کیا مودی گجرات ہار سکتے ہیں ؟

 

ظفر آغا
نریند ر مودی ہندوستان کے ان چند خوش قسمت سیاستدانوں میں سے ہیں جو چناؤ ہا رتے ہی نہیں ہیں۔ محض لالو پرساد یادو وہ واحد سیاست داں ہیں جنہوں نے پچھلے بہار اسمبلی چناؤ میں نتیش کمار سے ہاتھ ملا کر نر یندر مودی کی چناوی بساط الٹ دی تھی۔ لیکن مودی نے جلد ہی نتیش کو توڑ کر لالو کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اپنی شکست کا بدلا لے لیا۔ تب ہی تو مودی سے چناوی جنگ لڑتے ہوئے تمام ہندوستانی سیاستداں گھبراتے ہیں۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ خود مودی کا قلعہ گجرات مودی کے ہاتھوں سے نکلتا نظر آنے لگا ہے۔ جی ہاں ، گجرات میں فی الحال بی جے پی کے جو حالات ہیں ان سے بی جے پی کے لئے گجرات اسمبلی چناؤ کی بازی اگلے ماہ جیت پانا مشکل نظر آرہی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نر یند ر مودی کا چناوی جادو دھومل پڑ چکا ہے۔ مودی کے پاس چناؤ جیتنے کے دو نسخے ہیں۔ اول ، مودی وہ سیاسی کھلاڑی ہیں جو جذبات پر چناؤ جیتنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہندو ذہنوں میں ایک مسلم دشمن کی شبیہ پیدا کر خود کو ہندو محافظ (ہندو انگ رکھشک) کے طور پر پیش کر تے ہیں۔ ’مسلم دشمن ‘ سے گھبرایا ہندو ایک متحد ووٹ بینک کی شکل میں مودی یعنی بی جے پی کو ووٹ ڈالتا ہے اور اس طرح مودی کے حریف منھ تکتے رہ جاتے ہیں اور مودی چناؤ جیت جاتے ہیں۔
مودی کا دوسرا چناوی حربہ ہے ’سپنے‘ یعنی خواب دکھاو اور چناؤ جیتو۔ مودی کی چناوی کمپین کا اہم عنصر ووٹر کو چکاچوند کر دینا ہے۔ وہ وکاس یعنی تر قی کے امین بن کر ابھر تے ہیں۔ مثلاً وہ اسمارٹ سٹی، بلیٹ ٹرین ،ڈیجیٹل دنیا، سوچھ بھارت ، اسٹارٹ اپ وینچر جیسے 21 ویں صدی کے ’کیچ جملوں‘ کا استعمال کر کے ترقی کے سپنوں کا ایک ایسا مایا جال بْنتے ہیں کہ جو لوگوں اور خصوصاً جوانوں کے ذہن پر ایک اثر ڈالتا ہے ان کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ مودی ہی وہ آدمی ہے جو اس کی زندگی بدل سکتا ہے اور بس وہ مودی کو ووٹ دے دیتاہے۔ اس حربے کو کار گر بنانے کے لئے مودی الیکٹرانک ٹیکنا لوجی کا زبر دست استعمال اس طرح کر تے ہیں جیسے اس کا استعمال ایک ’ایڈ کمپین‘ میں ہوتا ہے۔ ایسی کمپین لوگوں کو چکا چوند کر دیتی ہے اور مودی، ووٹر کو ’مسیحا‘ نظر آنے لگتا ہے اور بس چناوی بازی مودی کی ہوتی ہے۔

لیکن اس بار کے گجرات چناؤ میں مودی کے دونوں چناوی حربوں کی دھار دھومل پڑ گئی ہے۔ مودی پچھلے پندرہ برسوں سے گجرات کے ہندوؤں کے ’ ہندو ہردے سمراٹ‘ ہیں اور یہ کر شمہ مسلم دشمن کا حوّا کھڑا کر کے چل رہا تھا۔ گجراتی ہندو کو مسلمان دشمن تب ہی نظر آتا ہے جب کو ئی گو دھرا جیسا واقعہ یا پھر کو ئی اکشر دھام جیسا دہشت گرد ی کا سانحہ پیش آئے۔ بس پھر مودی اپنی لفاظیوں سے نفرت اور ہندو خوف کا بازار گرم کر کے مسیحا بن جاتے ہیں۔ لیکن آج تک گجرات میں نہ کوئی نیا گو دھرا ہوا اور نہ ہی کو ئی اکشر دھام جیسا حادثہ ہوا ہے۔ یعنی ہندو ذہنوں میں فی الحال کو ئی مسلم خوف نہیں ہے۔ جب تک مسلم خوف نہیں ہو گا تب تک متحد ہندو ووٹ بینک بننا تقریباً ممکن نہیں ہے۔ ابھی تک گجرات میں یہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس لئے مودی کا چناؤ جیتنے کا پہلا نسخہ کام نہیں کر رہا ہے۔ اب یا تو کوئی آئی ایس آئی ایس جیسی دہشت گرد تنظیم کو ئی بڑا آپریشن کرے اور یکا یک فضا بدلے اور مسلم دشمنی کے نام پر مودی پھر ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بن جائیں تب تو بات الگ ہے ورنہ گجرات کی بازی مودی کے ہاتھوں سے نکل سکتی ہے۔

مودی کے دوسرے چناوی نسخے یعنی ’ڈیو لپمنٹ ماڈل‘ کی ساحری بھی اس بار نہیں چل رہی ہے۔ مودی کو ملک کا اقتدار سنبھالے تین برس ہو ئے ہیں نہ تو کہیں کو ئی اسمارٹ سٹی نظر آرہی ہے اور نہ ہی کو ئی بلیٹ ٹرین چل رہی ہے۔ بھارت سوچھ ہو نے کے بجائے گندگی اور بیمایوں کا ویسے ہی شکار ہے جیسے صدیوں سے تھا ’ اسٹارٹ اپ‘ تو جانے دیجئے جو پرانی تجارتیں تھیں وہ بھی بند ہو رہی ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ملک کی معیشت کی کمر توڑ دی۔ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہے۔ تر قی کے سپنے چکنا چور ہو گئے اور لوگوں کو مودی کی لفاظی صاف نظر آنے لگی۔
مصیبت یہ ہے کہ گجرات میں اب ہندو با طور ہندو نہیں بلکہ اپنی ذات کی نگاہ سے خود کو دیکھ اور سمجھ رہا ہے۔ پٹیلوں کو لگ رہا ہے کہ مودی کے راج میں نہ صرف گجرات کا اقتدار اس کے ہاتھوں سے نکل گیا بلکہ اس کے نوجوان بغیر روزگار سڑکوں پر آگئے۔تب ہی تو ہاردک پٹیل پا ٹیدار پٹیلوں کے لئے ریزر ویشن مانگ رہا ہے اور پٹیلوں کا ہیرو ہے۔ اسی طرح الپیش کمار پسماندہ ہندوؤں کا ہیرو ہے ادھرجگنیش میوانی دلتوں کی لڑائی لڑ کر دلتوں کو ان کی ذات پر مودی کے خلاف اکٹھا کئے ہوئے ہے۔ یعنی گجراتی ہندو با طور ہندو نہیں بلکہ ذاتوں میں بٹ کر اپنے ذاتی مفاد میں ووٹ ڈالنے کی حکمت عملی بنائے ہو ئے ہے۔ تب ہی تو گجرات میں اس بار راہل گاندھی کا ڈنکا بج رہا ہے ، ابھی تک مودی کا شور نہیں اٹھ سکا ہے۔ پھر ’گجرات ماڈل‘ کی ہوا وہاں کے تاجروں نے نکال دی ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار سے پریشان گجراتی تاجر مودی کے خلاف سڑکوں پر مورچہ نکال کر بی جے پی مخالفت میں آگے آگے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مودی واقعی گجرات ہار جائیں گے!۔ اگر گجرات ہارے تو سمجھیے وہ 2019 میں ہندوستان بھی ہار جائیں گے۔ مودی چناؤ ضرور لڑتے ہیں لیکن بنیادی طور پر ایک تانا شاہ ہیں خود پوری بی جے پی ان سے تنگ ہے۔ اگر گجرات گیا تو مودی کے لئے بی جے پی کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر مشکلیں بڑ ھ جا ئیں گیں اور مودی جلد ہی بادشاہ سے سپاہی نظر آئیں گے۔
مودی کے کردار میں ایک صفت اور ہے۔ وہ جنگ ہارنے میں یقین نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ آخری سانس تک جنگ لڑنے میں یقین رکھتے ہیں۔ گجرات نے مودی کو مودی بنایا۔ اس لئے بھلا وہ گجرات کی جنگ میںایسی آسانی سے کیسے ہار تسلیم کر لیں گے۔ ان حالات میں مودی کو کچھ نا کچھ تو کرنا ضروری ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار کے بعد ’مودی ماڈل‘ کا منتر اب کار گر ہوتا نظر نہیں آتا ہے۔ اب صرف ایک ہی حربہ بچا ہے اور وہ یہ ہے کہ خود ’ ہندو ہردے سمراٹ‘ بنیں۔ لیکن اس کے لئے مسلم دشمنی کا سیلاب درکار ہے۔ اس لئے اب گجرات کا چناؤ ایک خطرناک مر حلے میں پہنچ چکا ہے۔ اپوزیشن اور ہاردک پٹیل جیسوں کو اب اس مرحلے سے نپٹنے کے لئے کو ئی حکمت عملی تیار رکھنی ہو گی۔ ورنہ گجرات کی بساط پھر مودی کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT