Saturday , September 22 2018
Home / مضامین / کیا واقعی ہماری جمہوریت خطرہ میں ہے ؟

کیا واقعی ہماری جمہوریت خطرہ میں ہے ؟

غضنفر علی خان

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو فی الواقعی خطرات لاحق ہیں۔ ہندو راشٹر کے قیام کی کوشش جاری ہیں لیکن کیا ہندو راشٹر قائم ہونے سے ملک میں جمہوریت ختم نہ سہی کم از کم کمزور پڑجائے گی ؟ آج یہ سوالات ملک کے سیکولرازم اور جمہوریت سے تھوڑا سا بھی تعلق خاطر رکھنے والے اذہان میں گونج رہے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات تو خراب تھے ہی اور خرابی کا یہ سلسلہ جاری بھی ہے ، اس پر غضب یہ ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے چار برسر خدمت سینئر اور فرض شناس ججوں نے آواز اٹھائی کہ سپریم کورٹ میں قانونی کارروائیاں ڈھنگ سے نہیں ہورہی ہیں ۔ ان چار ججوں کی بات کو یہ کہہ کر ٹالا نہیں جاسکتا کہ ان کی یہ شکایت کہ چیف جسٹس مشرا اہم مقدمات کی سماعت کی ذمہ داری سپریم کورٹ کے سینئر اور تجربہ کار ججوں کو مبینہ طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کم تجربہ کار اور اپنی پسند کے ججس کو دے رہے ہیں۔ اس تحریر کے مکمل ہونے تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مشرا نے اپنے موقف کا کوئی واضح اور تسلی بخش جواب نہیں دیا اور حکومت یہ کہہ کر مسئلہ کی اہمیت کو کم کر رہی ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کا داخلی مسئلہ ہے۔ گویا حکومت اس الزام کی تردید کر رہی ہے کہ اہم فیصلے صادر کرنے کیلئے کم تجربہ کار ججوں کے بنچ (اجلاس پر) مقدمات کے فیصلے ہورہے ہیں۔ عدلیہ ملک کی جمہوریت کا وہ ادارہ ہے جو دستوری طور پر سیکولرازم کا ضامن ہوتا ہے ۔ اگر یہاں طریقہ کار کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو کیا جمہوریت کو خطرات لاحق نہیں ہوسکتے ؟ اور طریقہ کار کے غلط ہونے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں غیر جانبداری نہیں برتی جارہی ہے ۔ غیر جانبداری اگر نہیں برتی جارہی ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں جانبداری سے کام ہورہا ہے۔ یہی بات ملک کی جمہوریت کیلئے خطرہ ثابت ہورہی ہے ۔ یہ اس لئے بھی درست ہے کہ موجودہ مودی حکومت سیکولرازم کے برعکس ایک مخصوص نظام کو نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت کی نیت پر ہر سمت سے شک ظاہر کیا جارہا ہے ۔ خود برسر اقتدار پارٹی بی جے پی کی قریبی حلیف ’’شیوسینا‘‘ نے اپنے ترجمان مرہٹی اخبار سامنا کے ایک اداریہ ہی ایسے شکوک و شبہات کا برملا اظہار کیا ہے ۔ یہ شکوک کسی اپوزیشن پارٹی یا اس کے کسی ترجمان اخبار نے ظاہر نہیں کئے ہیں بلکہ حکومت کی ایک دیرینہ حلیف شیوسینا نے ظاہر کئے ہیں ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابقہ وزیر فینانس یشونت سنہا نے تو یہاں تک مرکزی وزراء کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اندر کے خوف کو ختم کرتے ہوئے حق گوئی سے کام کریں ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرکزی وزراء پر وزیراعظم مودی کا خوف چھایا ہوا ہے ۔ یہ صورتحال ملک کی جمہوریت اور اس کے مرکزی کابینہ کے لئے نئی نہیں ہے ۔ سابق میں پہلے وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کے دور میں بھی مرکزی وزراء پنڈت جی سے خوفزدہ رہتے تھے ، اپنی زبان نہیں کھولتے تھے ۔ بڑی حد تک پنڈت نہرو کی صاحبزادی اور ملک کی وزیراعظم اندرا گاندھی کا بھی اپنی کابینہ پر بڑا رعب داب تھا لیکن اس وقت کے یہ دونوں وزرائے اعظم کے دبدبے سے جمہوریت اور مرکزی کابینہ کی کارکردگی متاثرنہیںہوئی تھی کیونکہ دونوں ہی شخصیتیں اپنے اپنے انداز میں انتہائی جمہوریت پسند اور ڈیموکریٹک تھے ۔ اپنے دبدبے کا انہوں نے کبھی غلط استعمال نہیں کیا ۔ دونوں کے مقابلہ میں موجودہ وزیراعظم مودی کا بقول یشونت سنہا خوف بالکل الگ طرح کا ہے ۔ سابق وزرائے اعظم کسی ایک محدود نظریہ کے حامل نہیں تھے ۔ وہ سیکولرازم کو ملک کی بقاء کی خاطر مقدم سمجھتے تھے جبکہ مودی اور ان کی پارٹی سیکولرازم جس کا عام فہم مطالب یہ ہے کہ ملک کی حکومت پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں ہوتی، ملک کی حکومت پر کسی مخصوص مذہب کی چھاپ نہیں ہوتی۔ آج تو یہ عالم ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ صاف طور پر کہہ رہے ہیں کہ 2024 ء تک ملک میں ہندو راشٹر یا راج قائم ہوجائے گا ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس ملک میں صرف ہندو کلچر ہی رہے گا جو ایسا نہیں کرسکتے وہ کسی اور ملک کو جاسکتے ہیں۔ اب یہ تمام باتیں اگر ملک کے مستقبل قریب کیلئے خطرات نہیں ہیں تو اور کیا ہیں ؟ اس پر یہ شبہ تک ملک کے عدلیہ کی سب سے اعلیٰ و ارفع عدالت میں غیر جانبداری سے کام نہیں ہورہا ہے، اعتراض اگر درست نہیں تو کیا صحیح ہے جو لوگ 2024 ء تک ہندو راشٹر قائم کرنے کی آج کھلی دھمکی دے رہے ہیں، وہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا تعلق بی جے پی ، آر ایس ایس ، وشوا ہندو پریشد سے ہے ۔ یہی لوگ ہیں جو یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ وہ بار بار مختلف انداز میں ہندو راشٹرا کے قیام کا تذکرہ کرتے ہیں۔ انہیں نہ عدالتیں سزا دیتی ہیں اور نہ حکومت ان کو کوئی لگام لگا رہی ہے ۔ ان کے حوصلے ہر لمحہ بلند ہورہے ہیں ۔ اب اگر ملک میں کون کیا کھائے ، کیا پیئے کا فیصلہ چند انتہا پسند کر رہے ہیں اور ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے تو اس سے بڑا خطرہ سیکولرازم اور جمہوریت کو اور کیا ہوسکتا ۔ ملک کے سابق اٹارنی جنرل نے سب سے زیادہ آزادی کے ساتھ ججوں کی بغاوت کو مثبت انداز میں اٹھایا اور صاف طور پر کہا کہ ’’جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں اور ملک تیزی سے ایمرجنسی جیسے حالات کا شکار ہورہا ہے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں دوبارہ ایمرجنسی لاگو ہوگی لیکن صاف مطلب یہ ہے کہ ملک تیزی کے ساتھ ایمرجنسی سے پہلے کے حالات کا شکار ہورہا ہے۔ جمہوری ادارے کمزور پڑتے جارہ ہیں۔ میڈیا بھی طرفداری کا شکار ہوتا جارہا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا میں بعض چیانلس تو صرف حکومت کی گارہے ہیں۔ عام آدمی کی آواز کمزور ہوتی جارہی ہے ۔ بے حد تیزی اور برق رفتاری سے ہندوستان رائے دہندوں کو فرقہ واریت کا زہر دیا جارہا ہے اور یہ زہر پھیلتا جارہا ہے ۔ 70 سالہ آزادی کی تاریخ میں ہمارا عدلیہ ، ہماری قومی صحافت (الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا) اپنی غیر جانبداری کیلئے ساری دنیا میں تکریم و عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگر آج عدلیہ کے بارے میں یہ بدگمانی پیدا ہورہی ہے کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے تو اس سے زیادہ بدبختی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔ ان امراض کا فوری علاج کیا جانا چاہئے ورنہ یہ بات کہ جمہوریت خطرہ میں ہے ، خدانخواستہ حقیقت میں نہ بدل جائے۔

TOPPOPULARRECENT