Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کیا وزیر اعظم مودی پارٹی اساس پر گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی سے قاصر ہیں ؟

کیا وزیر اعظم مودی پارٹی اساس پر گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی سے قاصر ہیں ؟

بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں ہی حملوں کے واقعات ۔ تشدد پر قابو پانے کی اپیل پر اکتفا ناکافی
حیدرآباد۔17جولائی(سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی نے گاؤرکھشکوں کی دہشت گردی پر قابو پانے کی اپیل کی تو آخر کس سے ؟ ملک کی بیشتر ریاستو ں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اقتدار ہے اور ان ریاستوں میں ہی گاؤرکھشکوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے جن ریاستو ں میں بی جے پی کا اقتدار ہے ۔ملک میں موجودہ حالات کے دوران حکومت کی جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات کہی جانا اور وزیر اعظم کی جانب سے اس مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے ریاستوں کے ذمہ دارو ں کو ہدایات جاری کئے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم کی جانب سے اپیل پر اکتفاء کیا جانے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی مسئلہ کی حساسیت سے واقف ہیں لیکن جماعتی اساس پر کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔گاؤ رکھشک کے نام پر جاری دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بیشتر سنگھی ذہنیت کے حامل ہیں جو ہمیشہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی رہے ہیں۔ بی جے پی کی تائید کرنے والے ملک میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور بی جے کی ریاستی حکومتوں میں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں جس میں گائے کے تحفظ کے نام پر انسان کی قربانی دی جا رہی ہے اور بی جے پی کے وزیر اعظم کیی جانب سے ریاستی حکومتوں کو اس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے کہ وہ گاؤرکھشکوں کی حرکتوں پر قابو پانے کے اقدامات کریں۔ وزیر اعظم نے گذشتہ یوم کل جماعتی اجلاس میں ریاستی حکومت کو قانون شکنی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی تاکید کی لیکن کیا یہ ہدایات واقعی تمام ریاستوں کے لئے تھیں یا پھر ان مخصوص ریاستوں کیلئے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہیں ہے۔وزیر اعظم کا کہنا کہ گائے کو ہندو اپنی ماں جیسا تصور کرتے ہیں لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی گنجائش نہیں ہے خود اس بات کی سمت اشارہ کر رہا ہے کہ وزیر اعظم ان تمام واقعات کی دبے الفاظ میں تائید تو نہیں لیکن ان سے اختلاف بھی نہیں رکھتے۔ ملک میں چند ایک ریاستوں کو چھوڑ کر کئی بڑی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہی حکومت ہے اور وزیر اعظم کو اگر یہ لگتا ہے کہ ان کی پارٹی پر گرفت مضبوط ہے تو وہ اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعلی کو طلب کرتے ہوئے انہیں سخت انتباہ دے سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اب نریندر مودی کی بی جے پی پر ایسی گرفت باقی ہے جو انہیں پارٹی میں ان کی بات ہر کوئی مانے یا پھر ان کی جانب سے دیئے گئے انتباہ پر سنگھ خاموش رہے۔ ماہرین اور ملک کے سیاسی نظام نظام پر گہری نظررکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے راست بی جے پی اور حلیف جماعتوں کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزرائے اعلی کو تنبیہ اس لئے نہیں کی کیونکہ وہ سنگھ سے کسی بھی طرح کی الجھن نہیں چاہتے اسی لئے انہوں نے برائے نام سب کے درمیان عہدہ کا پاس و لحاظ رکھنے کے لئے یہ جملے ادا کئے ہیں لیکن اگر ان کے اس انتباہ اور تاکید کے بعد حالات تبدیل ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنگھ نریندر مودی کے خلاف محاذ کھولنے کی تیاری کرسکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی 11ریاستوں کے علاوہ مابقی ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اکثر گاؤ رکھشکوں کی دہشت گردی کے واقعات بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں پیش آئے ہیں جہاں ان قاتلوں کو بالواسطہ طور پر سرکاری مدد حاصل ہوئی ہے جیسے جنید کے قتل کے علاوہ اخلاق کے قتل کے معاملہ میں تحقیقات کے دوران انکشافات سے ملزمین کو مدد حاصل ہوئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT