Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / کیا پورا ہندوستان 2002 کا گجرات بن جائے گا ؟

کیا پورا ہندوستان 2002 کا گجرات بن جائے گا ؟

 

ظفر آغا

 

 

 

غضب ہوگیا! وہ بہار جہاں پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے کوئی بڑا ہندو مسلم فساد نہیں ہوا تھا ، اسی بہار میں محرم، درگا پوجا اور دسہرے کے موقع پر پچھلے ہفتہ تقریباً 24 مقامات پر فسادات بھڑک اٹھے۔ محض بہارہی نہیں بلکہ پڑوس میں اتر پردیش میں کانپور سمیت تقریباً آدھے درجن مقامات پر محرم کے جلوس کو مسئلہ بناکر ہندو مسلم فساد کروادیا گیا۔ اب ایک بات ثابت ہوچکی ہے کہ فسادات ہوتے نہیں کروائے جاتے ہیں اور فسادات کے پیچھے سیاسی مقاصد ہوتے ہیں۔ اگر آپ 1992میں بابری مسجد گرائے جانے کے بعد ہونے والے فسادات سے لیکر 2002 میں گجرات فساد تک ہونے والے فسادات کا سیاسی تجزیہ کریں تو یہ صاف ظاہر ہوگا کہ ہر بڑے فساد کے بعد بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے۔ مثلاً بابری مسجد گرنے کے بعد جو لوک سبھا چناؤ ہوئے ان میں بی جے پی کے نمبر بڑھ گئے۔ اسی طرح 1993 میں ممبئی فساد کے بعد 1995 میں بی جے پی اور شیوسینا پہلی بار اقتدار میں ملی جلی سرکار بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہی صورتحال 2002 میں گجرات فسادات کے بعد نریندر مودی کے ساتھ ہوئی۔ گجرات فسادات کے بعد مودی نہ صرف مسلسل تین بار گجرات کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے بلکہ وہ سارے ہندوستان کے ہندو ہردے سمراٹ بن کر 2014 میں ملک کے وزیر اعظم بن بیٹھے۔
لب لباب یہ کہ فسادات بی جے پی کے لئے اقتدار حاصل کرنے کا سب سے اہم ہتھیار ہیں۔ لیکن بی جے پی تو ان دنوں اقتدار میں ہے اور مرکز میں مودی کی حکومت ہے۔ یو پی میں یوگی کا ڈنکا بج رہا ہے اور بہار میں نتیش کمار کے ساتھ مخلوط حکومت میں بی جے پی ساجھیدار ہے تو پھر آخر ہندوتوا طاقتوں کو بہار اور اتر پردیش میں فسادات کی کیوں ضرورت پڑگئی؟ اس کا جواب سیاست میں نہیں بلکہ معاشی فرنٹ پر صاف نظر آتا ہے۔ مودی حکومت معاشی فرنٹ پر پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ہندوستان کی معیشت کا کم و بیش دم نکل چکا ہے۔ بقول بی جے پی سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا کے ملک کی جی ڈی پی کی شرح 3.2 فیصد پہنچ چکی ہے جو حکومت کے سرکاری وعدے 5.7فیصد سے بھی کم ہے۔ پھر ملک میں روزگارندارد ہے۔ نوجوانوں کو روزگار سے لگانے کے بجائے روزگار سے جڑے نوجوان نوکریوں سے باہر کئے جارہے ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی ریفارم نے چھوٹے دکاندارہی کیا بڑے سرمایہ داروں کے علاوہ تمام ہندوستانی صنعت و حرفت کا بُرا حال کردیا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں تعالیٰ بندی کے دہانے پر ہیں۔ ملک میں ایکسپورٹ اور ایمپورٹ دونوں ہی گھٹتے جارہے ہیں۔ ادھر زرعی شعبہ کا بھی برا حال ہے اور پھر مکانات اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار تقریباً بند پڑا ہے۔
الغرض ملک کی معیشت بگڑ چکی ہے۔ یاد رکھیئے کہ اگر کسی حکومت کی معیشت بگڑتی ہے تو اس ملک کی سیاست بھی ضرور بگڑ جاتی ہے۔ چنانچہ اس وقت نریندر مودی کی سیاست بھی تیزی سے بگڑتی جارہی ہے اور اس کے آثار بھی اب نمایاں ہیں۔ پچھلے ایک ماہ کے اندر کم از کم نوجوانوں نے تو مودی سے منہ موڑ لیا ہے۔ اگر آپ ستمبر میں مختلف یونیورسٹیز میں ہونے والے طلبہ یونین کے نتائج کا جائزہ لیں تو یہ صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی کی طلباء تنظیم اے بی وی پی ہر جگہ چناؤ ہاری ہے۔ پہلے جے این یو دہلی میں اے بی وی پی کو منہ کی کھانی پڑی۔ پھر اس کے بعد دہلی یونیورسٹی، چندی گڑھ میں پنجاب یونیورسٹی، جئے پور یونیورسٹی، گوہاٹی یونیورسٹی، تریپورہ یونیورسٹی اور پھر آخر میں حیدرآباد یونیورسٹی میں بھی اے بی وی پی کو شکست ہوگئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو نوجوان ابھی کچھ عرصہ قبل تک مودی۔ مودی کہتے نہیں تھکتا تھا وہی نوجوان اب مودی سے منہ موڑ رہا ہے۔صرف یونیورسٹیز ہی نہیں بلکہ چہارسو پچھلے ماہ سے بی جے پی کی انتخابی شکست کی خبریں آرہی ہیں۔ سب سے پہلے دہلی کے ایک حلقہ میں ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو بُری طرح شکست ہوئی، پھر دہلی سے ملے ہریانہ کے گڑ گاؤں ضلع کے میونسپل چناؤ میں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس مضمون کے لکھے جانے سے چند گھنٹوں قبل جئے پور ضمنی میونسپل چناؤ میں بھی بی جے پی کو شکست کا سامنا رہا۔
یعنی معیشت بگڑی تو بی جے پی کی سیاست بھی بگڑگئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ نریندر مودی جو 2022 تک ایک ’’ نئے ہندوستان ‘‘ کا خواب بن رہے ہیں وہ مودی آسانی سے ہندوستان کا اقتدار چھوڑے دیں گے۔ یا پھر وہ سنگھ جو مودی کو اپنے کاندھوں پر سوار کرکے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے لائی ہے وہ سنگھ 2019 کے چناؤ میں آسانی سے اپنی ہار مان لے گی؟ ہرگز نہیں۔ سنگھ نے 1925 میں اپنے قیام کے بعد ہندوستان کوہندو راشٹر بنانے کیلئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے اور مودی راج ان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ وہ اس خواب کو اتنی آسانی سے چکنا چور نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نریندر مودی خود سنگھ کے بھکت ہی نہیں بلکہ خود کو تاریخ میں ہندو راشٹر کے معمار کہلوانے کا خواب رکھتے ہیں لہذا سنگھ اور مودی اقتدار نہیں چھوڑ سکتے۔
اب سوال یہ ہے کہ بگڑی معیشت نے تو سنگھ اور مودی دونوں کی سیاست بگاڑ دی ہے ۔ ان حالات میں اقتدار کو کس طرح بچایا جائے۔ سنگھ اور مودی کے پاس اب صرف ایک ہی کارڈ بچا ہے جو اُن کا بگڑا کھیل بناسکتا ہے اور وہ ہے فرقہ پرستی کا کارڈ ، بہار اور اتر پردیش میں ہوئے حالیہ فسادات اس بات کا اشارہ ہیں کہ سنگھ پریوار مودی کی قیادت میں بڑے پیمانے پرہندو۔ مسلم فسادات کی تیاری کرچکاہے۔ اگر گجرات میں 2000 مسلمانوں کی نسل کشی سے 15سال مودی کا اقتدار برقرار رہ سکتا ہے تو پورے ہندوستان میں ہزاروں کیا ایک لاکھ دو لاکھ مسلمانوں کی جانیں لے کر مرکز میں 15 برس اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھ کر ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے میں بھلا کیا مضائقہ ہوسکتا ہے۔؟
معیشت بگڑ چکی ہے اس لئے مودی کی سیاست بھی بگڑ چکی ہے اور یہ سنگین صورتحال ہے۔ ان حالات میں فرقہ پرستی کا رڈ کا حربہ ہی کام دے سکتا ہے اور مودی و سنگھ پریوار اس حربہ کے پرانے کھلاڑی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان اس خطرہ کو ٹالنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر2019 تک ہندوستان کو درجنوں گجرات جیسے فسادات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT