Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / کیا ڈیوڈ ہیڈلی کے انکشافات سے کوئی فائدہ ہوگا؟

کیا ڈیوڈ ہیڈلی کے انکشافات سے کوئی فائدہ ہوگا؟

غضنفر علی خان
امریکہ میں 35 سال کی سزا قید بھگتنے والے سابقہ پاکستانی شہری داؤد گیلانی عرف ڈیوڈ ہیڈلی نے امریکہ کی عدالت میں جو انکشافات کئے ہیں وہ بظاہر اتنے مضبوط اور پُراثر ہیں کہ پاکستان کو ممبئی حملوں میں ملوث تمام پاکستانیوں کو ہندوستان کے حوالہ کردینا چاہئے۔ لیکن پاکستان نے کبھی معقولیت پسندی سے کام نہیں لیا۔ ہیڈلی نے جو کچھ ویڈیو کانفرنس میں کہا ہے کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ پاکستانی فوج کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی وہاں کی رسوائے زمانہ دہشت پسند تنظیموں کو مالی امداد کے علاوہ ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرتی ہے، کوئی نئی بات نہیں ہے۔ روز اول ہی سے ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان میں دہشت پسند عناصر کو وہاں کی فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ انکشاف کہ ممبئی حملوں کے پیچھے ذکی الرحمن لکھوی کا ہاتھ تھا ،بھی پرانی بات ہے۔ ہندوستانی حلقوں میں اگر ہیڈلی کی کہی ہوئی باتوں پر جوش و خروش پایا جاتا ہے اور یہ اُمید کی جارہی ہے کہ اب پاکستان گھر کے بھیدی (ہیڈلی) کے انکشافات کے بعد عقل کے ناخن لے گا، کسی چٹان میں کنواں کھودنے کی کوشش کے مماثل ہوگا۔ ڈیوڈ ہیڈلی کو ممبئی حملوں میں ’’گواہ معافی یافتہ‘‘ approver بنایا گیا ہے۔ وہ صرف پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ امریکہ کے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے لئے بھی جاسوسی کا کام انجام دیتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت امریکہ نے اس کو سخت سزا دینے کے بجائے 35 سال قید کی سزا دی ہے۔ نہ امریکہ کے لئے ہیڈلی کا اعترافی بیان کوئی سنسنی خیز بات ہے

اور نہ ہندوستان کے لئے اس میں کوئی نیا پن۔ ہاں صرف اتنا ضرور ہوا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک سابقہ پاکستانی شہری نے گواہی دی ہے کہ کس طرح وہاں کی فوج اور اس کا ادارہ آئی ایس آئی ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صرف یہ ثبوت مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور پاکستان کی باقاعدہ فوج ایک دوسرے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ہیڈلی نے صاف کردیا کہ ابھی تک ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ کے فوجی فضائی اڈہ پر جو حملہ ہوئے تھے وہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ لیکن ہندوستان کی جانب سے پیش کردہ ثبوت اور شہادتوں کو ہمیشہ سے پاکستان نے مسترد کردیا۔ برائے نام پاکستان میں ہر دہشت گرد حملہ کے بعد اشک شوئی کے لئے کارروائی ہوتی ہے۔ آج بھی وہ تمام مجرم جن میں حافظ سعید، مسعود اظہر، ذکی الرحمن لکھوی شامل ہیں، پاکستان میں آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں۔ ہندوستان کے خلاف زہریلی تقریریں کررہے ہیں جن کا اثر بھی ظاہر ہورہا ہے۔ پاکستانی نوجوان ان تقاریر سے متاثر ہوکر کسی نہ کسی حد تک گمراہ ہورہے ہیں۔ پاکستانی طالبان اگر ان لیڈروں کی کے پروردہ  نہیں ہیں تو ان سے متاثر ضرور ہیں۔ جس ملک نے ساری دنیا کو مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن کو اپنے علاقہ میں پناہ دی تھی اس ملک (پاکستان) کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے خواہ وہاں کی حکومت کو معلوم ہو یا نہ ہو دہشت پسند طاقتوں، انتہا پسند ذہنوں اور کٹر فکر رکھنے والوں کا پاکستان میں بول بالا ہے۔ پاکستان کی تاریخ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں جب بھی جمہوریت نے قدم جمانے کی کوشش کی تب اس طاقتور فوج نے جمہوری حکومتوں کو ختم کردیا۔ پاکستان میں فوج کا غلبہ ہے

اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا لیکن پاکستانی فوج انتہا پسند عناصر کی سرپرستی بھی کرے گی اس کا اندازہ بہت کم لوگوں کو تھا۔ فوج جو پاکستان میں کچھ بھی کرسکتی ہے آخر کیوں جیش محمد کی پشت پناہی کرتی ہے یہ بات ناقابل فہم ہے۔ آج لشکر طیبہ، جیش محمد جیسی طاقتیں پوری طرح پاکستانی سیاست پر حاوی ہیں تو اس کی ذمہ دار خود وہاں کی فوج ہے۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور وہیں ان کی ہلاکت کا واقعہ تو یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نے ساری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دہشت پسندی کے زندہ علامت بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی۔ ڈیوڈ ہیڈلی تو ایک معمولی کارندہ ہے جو آئی ایس آئی کے ذریعہ پاکستان کی دہشت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ہاتھوں کھلونا بن گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس کی کہی ہوئی باتوں کو صحیح مان کر اگر ہندوستان دوبارہ ایک اور یادداشت پاکستان کو روانہ بھی کرے تو کیا پاکستانی حکومت اس پر کوئی کارروائی کرے گی؟ کیا ہندوستان کی یہ اُمید کبھی پوری ہوگی کہ پاکستان کی کوئی بھی منتخبہ حکومت اپنے ملک سے دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرے گی؟ اتنی طاقتور حکومتوں کا پاکستان میں تشکیل پانا ممکن نہیں ہے۔ فوج اور جمہوری حکومت میں کبھی کوئی فاصلہ نہیں رہا اور نہ اب 68 سال کے بعد اس کی کوئی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں جمہوری حکومت کا حشر کچھ بھی ہو ہم ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے وہاں کے حالات سے بے تعلق نہیں رہ سکتے۔ ہندوستان کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ پاکستان میں جمہوریت برقرار رہتی ہے یا وہاں فوجی ڈکٹیٹر کا راج ہوتا ہے۔ ہمارا تعلق تو صرف اس بات سے ہے کہ دہشت گردی کے سائے ہم پر نہ پڑیں۔ ہمارے اپنے مسائل ہیں جس کی یکسوئی ہماری اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ہماری ترجیحات پر عمل کرنے میں البتہ پاکستان کے حالات رکاوٹ بن جاتے ہیں ورنہ اور بھی پڑوسی ممالک ہیں جن میں کمیونسٹ چین جیسا طاقتور ملک بھی شامل ہے، ہم کو اپنے کسی پڑوسی سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ اگر کسی پڑوسی سے ہمیں کوئی شکایت ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔ وہاں کے داخلی حالات خود وہاں کی حکومتوں کے قابو سے باہر ہیں، کوئی حکومت فوج پر اپنی گرفت نہیں رکھتی۔

ایک ڈیوڈ ہیڈلی ہی کی بات نہیں جانے ایسے کتنے فرد اور کتنے گروہ ہوں گے جو ہندوستان پر دہشت پسندانہ حملوں کی تیاری کرتے ہی رہتے ہوں گے۔ خود ہیڈلی نے بتایا کہ ممبئی حملوں سے قبل دو مرتبہ ہندوستان پر حملہ کرنے کی ان ہی طاقتوں نے کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہیں ہوسکیں۔ حملوں کے ٹارگٹ میں منادر بھی شامل تھے۔ ایسی کوئی بات ہندوستان کے خفیہ ذرائع سے چھپی نہیں ہے۔ اس کے باوجود دہشت پسندی کی وارداتیں ہوتی رہتی ہیں۔ پاکستان ایک ایسا پڑوسی ہے جس کے حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ دہشت گردی وہاں کا ایک ’’رواج‘‘ بن گئی ہے۔ پاکستانی عوام نہیں چاہتے کہ ایسی دہشت اور ایسے خوف کا عالم وہاں ہمیشہ رہے۔ عوام کی تائید کبھی بھی ان دہشت پسندوں کو حاصل نہیں رہی لیکن فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کی وجہ سے عوام بھی کچھ نہیں کرسکتے۔ پاکستان میں جمہوری ادارے بھی فوج کی اس بالادستی کے آگے کمزور پڑگئے ہیں۔ پاکستانی صحافت کبھی اپنے فرائض منصبی انجام دینا چاہتی ہے تو حکومت فوج کے دباؤ میں آکر صحافت کو حق گوئی سے روک دیتی ہے۔ عدلیہ بھی ان کا خاموش تماشائی ہے۔ جس ملک میں چیف جسٹس (چودھری افتخار) کو بیک جنبش قلم عہدہ سے برطرف کردیا جاسکتا ہے ، وہاں عدلیہ کا کیا وقار ہوسکتا ہے۔ اگرچیکہ یہ واقعہ پرانا ہے لیکن چونکہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے اس لئے اس کی مثال ہر جگہ ہر وقت دی جاتی ہے۔ ہیڈلی پاکستان میں دہشت پسندی کے خاتمہ کا کبھی ذریعہ نہیں بن سکتے۔ ان کے اقبال جرم کے بعد بھی پاکستانی فوج کے حکام یہی کہیں گے کہ ہیڈلی گواہ معافی یافتہ ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں امریکہ کبھی کوئی پیشرفت اس لئے نہیں کرسکتا بلکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف امریکی دباؤ میں آکر کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔ ڈیوڈ ہیڈلی کے انکشافات کچھ دن تک اخبارات کی سرخیوں کی زینت ضرور بن سکتے ہیں لیکن ان کا کوئی اثر دہشت گردوں کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی دکھاوے کی کارروائیوں پر نہیں پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT