Thursday , October 18 2018
Home / سیاسیات / کیا کانگریس ‘بی جے پی کے قلعہ ’ڈائمنڈ سٹی ‘ میں نقب لگاپائے گی؟

کیا کانگریس ‘بی جے پی کے قلعہ ’ڈائمنڈ سٹی ‘ میں نقب لگاپائے گی؟

احمدآباد ۔ 7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ریاست گجرات کا ڈائمنڈ سٹی جسے عرف عام میں ہیروں کا شہر کہا جاتا ہے ‘ روایتی طور پر زعفرانی پارٹی بی جے پی کا مضبوط گڑھ رہا ہے ‘ تاہم اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اپنے ہی قلعہ میں دراڑ پڑجانے کا ڈر ستا رہا ہے اور اس بات کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ کانگریس اس بار بی جے پی کے اس مضبوط قلعہ میں نقب لگانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ہیروں کے شہر میں جو کاروباری افراد کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ‘ میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے منفی اثرات کے ساتھ ساتھ پٹیل برادری کی ناراضگی بی جے پی کیلئے اس بار کافی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ سورت شہر ہیروں کے کاروبار‘ ڈائمنڈ کٹینگ ‘ پالیشنگ اور ٹکسٹائلس سے مربوط مختلف کاروبار کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ‘ تاہم نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد یہاں کے کاروباری افراد پوری طرح سے متاثر ہوئے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پچھلے دو سال سے یہ علاقہ پٹیل برادری کے تحفظات کے سلسلہ میں کئے جانے والے احتجاج کا مرکز بھی رہا ہے جہاں پر پٹیل طبقہ کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے ۔ اگرچہ گجرات کا سب سے بڑا احمدآباد ہے تاہم موجودہ وقت میں سورت بڑے بڑے سیاسی قائدین کیلئے سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔

جیسا کہ کانگریس نائب صدر راہول گاندھی پچھلے مہینے دو مرتبہ اس ڈائمنڈ سٹی کا دورہ کرچکے ہیں اور اپنے دورہ کے موقع پر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے متاثر ہونے والے تجارتی برادری سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی اور برسراقتدار آنے کی صورت میں انہیں ان مسائل سے نکالنے کا تیقن بھی دیا ۔ اس کے علاوہ اس موقع پر راہول گاندھی نے بی جے پیکے مضبوط گڑھ ورچھا اور کٹارگم میں بڑی بڑی ریالیوں سے خطاب بھی کیا ۔ اس کے علاوہ 3 ڈسمبر کو کوٹہ ایجی ٹیشن کے روح رواں ہاردک پٹیل کی زیرقیادت ورچھا میں ایک بڑے روڈ شو کا بھی اہتمام کیا گیا تھا ۔ دوسری طرف چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی کی قیادت میں بی جے پی نے اسی شہر کے مجورا علاقہ میں اسی روز روڈ شو کا اہتمام کیا تھا ۔ جب کہ سورت کے مضافاتی علاقہ کٹوڈرا ایک بڑی ریالی سے خطاب کیا ۔ اس طرح یہ علاقہ بڑے بڑے سیاسی قائدین کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ کانگریس کو اس بار اس بات کا یقین ہے کہ وہ بی جے پی سے یہاں کے نشستیں چھین لینے میں کامیاب ہوجائے گی جب کہ دوسری طرف بی جے پی کو اعتماد ہے کہ وہ اپنے حلقہ میں کامیابی کی روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گی ۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی جو صورتحال بیان کررہی ہے زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے اس لئے انہیں مکمل بھروسہ ہے کہ یہاں کے عوام پھر انہیں ہی اقتدار سونپے گی ۔ سورت کے جملہ 12حلقہ اسمبلی میں اس وقت بی جے پی نمائندگی کررہی ہے ۔ تاہم تقریباً آدھے نشستیں ورچھا روڈ ‘ کامریج ‘ کٹارگم ‘کرنج ‘ اولڈپٹ جیسے حلقوں میں پاٹیدار طبقہ کی قابل لحاظ آبادی رہائش پذیر ہے جو موجودہ وقت میں بی جے پی قیادت سے نالاں نظر آرہی ہے ۔ واضح رہے کہ سورت شہر عرصہ دراز سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ رہا ہے ‘ تاہم موجودہ سیاسی منظر نامہ پوری طرح زعفرانی پارٹی کے خلاف جاتا ہوا نظر آرہا ہے اس لئے توقع ہے کہ کانگریس اس بار بی جے پی کے قلعہ میں نقب لگانے میں کامیاب ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT