Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / ’’کیا ہندوستان صرف ہندوؤں کیلئے ہے؟‘‘ بمبئی ہائیکورٹ

’’کیا ہندوستان صرف ہندوؤں کیلئے ہے؟‘‘ بمبئی ہائیکورٹ

انسداد ایڈس شعور بیداری پروگرام میں ہنومان چالیسہ جاپ پر عدالت کا سخت اعتراض
ناگپور ۔ 6 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بمبئی ہائیکورٹ نے ایڈس سے متعلق شعور بیداری پروگرام میں ’’ہنومان چالیسہ‘‘ کے جاپ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ناگپور میونسپل کارپوریشن سے سوال کیا کہ آیا اس (کارپوریشن) کے مطابق ہندوستان صرف ہندوؤں کیلئے ہے؟۔ اس عدالت کی ناگپور بنچ نے مفاد عامہ کی ایک درخواست پر سماعت کے دوران ناگپور میونسپل کارپوریشن (این ایم سی) سے استفسار کیا کہ آیا ہندوستان صرف ہندوؤں کیلئے ہے۔ علاوہ ازیں پودیشور رام مندر ٹرسٹ کے تعاون سے انسداد ایڈس کے ایک شعور بیداری پروگرام میں ہنومان چالیسہ کے جاپ کے منصوبہ پر بھی سخت برہمی و تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ پروگرام کل یہاں کستور چند پارک میں منعقد شدنی ہے۔ جسٹس بھوشن گوائی اور سوپنا جوشی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ ’’صرف ہنومان چالیسہ کا جاپ ہی کیوں کیا جارہا ہے؟۔ قرآن، انجیل اور دیگر مذہبی کتب کیوں نہیں پڑھی جارہی ہیں؟ ایڈس اور ہنومان چالیسہ کے جاپ کے درمیان آخر کیا گٹھ جوڑ ہے؟ اور کیا صرف ہندو ہی ہیں جو ایڈس سے متاثر ہورہے ہیں؟ ہنومان چالیسہ کا جاپ ہی آیا اس مہلک وباء کے خاتمہ کا واحد علاج رہ گیا ہے‘‘۔ ججوں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ ’’اگر لوگ اس پروگرام میں شرکت کیلئے آئیں گے تو وہ انجیل و قرآن کی تلاوت کیلئے بھی آئیں گے‘‘۔ ججوں نے ایک سابق کارپوریٹر جناردھن کی طرف سے دائر کردہ مفاد عامہ کی اس درخواست کی یکسوئی کردی جب این ایم سی میں حکمراں جماعت کے ایک لیڈر اور دونوں پروگراموں کے کنوینر دیاشنکر تیواری نے دونوں پروگراموں کو ایک دوسرے سے غیرمربوط کرنے اور اسٹیج کی تیاری کیلئے ہوئے مصارف کی ادائیگی سے اتفاق کرلیا۔ جج نے انسداد ایڈس پر شعوربیداری پروگرام اور ہنومان چالیسہ کے جاپ کے انعقاد میں کم سے کم ایک گھنٹہ کا وقفہ رکھنے کی ہدایت کی۔

TOPPOPULARRECENT