Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / کیرالا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز آغاز

کیرالا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز آغاز

تھروننتا پورم۔/6مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آج ہنگامہ خیز آغاز ہوا جبکہ سی پی ایم کی زیر قیادت اپوزیشن نے شراب خانوں کے لائیسنس کی اجرائی کیلئے رشوت ستانی کیس میں ماخوذ وزیر فینانس کے ایم منی سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے گورنر کے خطبہ کا بائیکاٹ کردیا۔ وی ایس اچھوتا نندن کی زیر قیادت اپوزیشن ارکان پلے کارڈس

تھروننتا پورم۔/6مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آج ہنگامہ خیز آغاز ہوا جبکہ سی پی ایم کی زیر قیادت اپوزیشن نے شراب خانوں کے لائیسنس کی اجرائی کیلئے رشوت ستانی کیس میں ماخوذ وزیر فینانس کے ایم منی سے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے گورنر کے خطبہ کا بائیکاٹ کردیا۔ وی ایس اچھوتا نندن کی زیر قیادت اپوزیشن ارکان پلے کارڈس اور بیانرس تھامے ہوئے اسمبلی پہنچے اور جب گورنر جسٹس پی ستا شیوم نے خطبہ پڑھنا شروع کیا نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور حکومت اور وزیر فینانس کے ایم منی کے خلاف نعرے بلند کرنے لگے۔ وزیر فینانس منی کے خلاف الزامات کے باوجود استعفی نہ دینے پر احتجاج درج کرواتے ہوئے اچھوتا نندن کی زیر قیادت اپوزیشن نے نعرے بلند کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔ صبح ہنگامہ آرائی اور شور وغل کے دوران بھی گورنر نے اپنا خطبہ جاری رکھا۔ کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف حکومت کی کامیابیوں اور نت نئے پروگرامس پر روشنی ڈالی جبکہ یہ حکومت پانچ سال میں داخل ہوگئی ہے ۔

گورنر نے یہ دعویٰ کیا کہ یو ڈی ایف حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر عمل آوری سے ملک گیر سطح پر کیرالا ترقی یافتہ ریاستوں میں شامل ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کیرالا کی ترقی کا ماڈل عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جبکہ وزینجم بندرگاہ، کنور طیرانگاہ ، کوچین میٹرو اور اسمارٹ سٹی جیسے ترقیاتی پراجکٹس مقررہ مدت میں مکمل کرلئے جائیں گے۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہائی اسکول کی طالبات و لڑکیوں کو تعلیم ہماری ذمہ داری پراجکٹ کے تحت مفت نصابی کتب فراہم کئے جائیں گے۔ گورنر نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں اور ان کی حفاظت ایک خصوصی پروگرام شروع کیا جائے گا۔تاہم انہوں نے پرائم منسٹر رورل روڈ اسکیم کے تحت مرکز کی جانب سے ریاست کو مختص ناکافی فنڈس پر تحفظات کا اظہار کیا اور بتایا کہ ریاست کو مذکورہ اسکیم کے تحت 5000 کروڑ کی ضرورت ہے۔ لیکن دو مرحلوں میں بھی صرف 570 کروڑ جاری کئے گئے جو کہ انتہائی ناکافی فنڈس ہیں۔

TOPPOPULARRECENT