Wednesday , April 25 2018
Home / اداریہ / !کیرالا لو جہاد کیس

!کیرالا لو جہاد کیس

سوچتا ہوں کہ بجھادوں میں یہ کمرے کا دیا
اپنے سایے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے
!کیرالا لو جہاد کیس
ہندوستان میں اب اہم مسائل کو سنگین نہیں سمجھا جارہا ہے ۔ ملک کی معیشت جھکولے کھا رہی ہے ۔ پٹرول کی قیمتیں تیزی سے آسمان کو چھو چکی ہیں ۔ عوام کی توجہ اس جانب سے ہٹانے کے لیے مرکزی حکمراں طاقتیں اور ان کے پٹھو ادارے دیگر علاقائی و غیر اہم موضوعات کو ضروری مسئلہ بناکر پیش کررہے ہیں ۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قومی تحقیقاتی اداروں کو ’ لو جہاد ‘ کے عنوان سے کیرالا کی خاتون کے مسلم نوجوان سے شادی کے مسئلہ کی تحقیقات کے پیچھے مصروف کردیا گیا ۔ این آئی اے کے رویہ پر سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کیرالا کی خاتون ہادیہ کی شادی کے بارے میں اس سے کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی اس مسئلہ پر اپنا وقت ضائع نہ کرے ۔ اس کیس کو ’لو جہاد ‘ کا نام دے کر دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں نے ہندوستانی معاشرہ کو منقسم کر کے رکھدیا ہے ۔ لوجہاد کے زاویہ سے قومی تحقیقاتی ایجنسی کو اپنی تحقیقات جاری رکھنا ہے لیکن وہ ہادیہ کی شادی کے جائز ہونے کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرسکتی جو ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں بعد ازاں انہوں نے مسلم نوجوان سے شادی کر کے اسلام قبول کیا تھا ۔ ان کی ازدواجی زندگی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جاسکتی ۔ سپریم کورٹ نے یہ اچھا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کا احساس قابل قدر ہے کہ کسی بھی شادی کو کوئی مجرمانہ حرکت ، کسی اور سازش کے ذریعہ علحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ ہمارے لیے خراب نظیر پیدا ہوگی ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندریو پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ کا احساس اس خاتون کی ازدواجی زندگی کو تحفظ بخشتا ہے ۔ اس کے شوہر شفین جہان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے ہندو لڑکی کو لوجہاد کے نام پر اپنے دام الفت میں پھانس لیا تھا جب کہ لڑکی نے کھلی عدالت میں اس کی تردید کی ہے اور اپنی مرضی و منشاء سے شادی کرنے کا اعلان کرچکی ہے تو اس کیس کو مزید ہوا دے کر غیر ضروری تحقیقات کروانے یا تحقیقاتی ایجنسی کو اپنی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ 24 سالہ ہادیہ نے سپریم کورٹ سے کہہ دیا ہے کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ان کی شادی کے جائز ہونے کے بارے میں عدالت سوال نہیں کرسکتی ۔ عدالت کا رول قابل قدر ہے ۔ اس نے بھی ہادیہ کو اس کی مرضی کے مطابق اس کے والدین کی زبردستی حراست سے آزاد کروایا تھا ۔ اب جب کہ اس کیس کو مزید پیچیدہ بناکر غیر ضروری مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو عدالت کو سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ عدالت میں ساری سچائی سامنے آجانے کے بعد کیس کی سماعت کو درست سمت میں ہی جاری رکھا جائے ۔ ایک بالغ لڑکی کو اس کی مرضی کے بغیر اس کے والدین کے ساتھ رہنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ مستقبل میں بھی اس کیس کو نازک بنانے کی سازش کی جاسکتی ہے ۔ اس ملک کی بعض سیاسی طاقتیں خاص کر حکمراں پارٹی کے لوگ اپنی حکومت کی ناکامیوں اور خرابیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے معمولی سے معمولی مسئلہ کو سماجی پروپگنڈہ کے ذریعہ ایک ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ ایسی طاقتوں کو چپ کرانے کے لیے سپریم کورٹ کو ہی ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ آئندہ اگر عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر ہادیہ کے کیس کو نئی سمت دے کر مسئلہ بگاڑا جاسکتا ہے ۔ لہذا سپریم کورٹ اس کیس کو فوری ختم کردینے کی جانب غور کرے ۔ حکمراں طاقتیں ہر صورت میں کیس کو نیا رنگ دینے کا موقع تلاش کریں گی ۔ حکمراں پارٹی جن موضوعات پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کرنا چاہتی ہے اس کی تعمیر میں ان ہاتھوں کو شامل کرلیا ہے ۔ جو عام رائے کے مطابق یہ لوگ قومی دولت لوٹ کر عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہے ہیں اور اس ملک کی معیشت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں ۔ اس وقت مرکزی سطح پر سیاسی ابتری میں پھنسی حکومت اور پارٹی کو اچھے آپشن موجود نہ ہونے کی وجہ سے مشکل سے دوچار دیکھا جارہا ہے ۔ اور دیگر غیر موضوعات کو اہم موضوع بنانے کے لیے اپنے دائیں بازو تنظیموں کو مصروف کر رکھا ہے ۔ قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہوگی ۔ سپریم کورٹ نے ہادیہ کے کیس کے حوالے سے حکومت اور اس کے محکموں کو ہدایت دیدی ہے کہ وہ کسی بھی معاملہ میں سازش یا مجرمانہ کارروائی نہ کرے ورنہ اس سے عدلیہ کے تقدس و اعتبار پر آنچ آجائے گی اور ایک غلط و خراب نظیر قائم ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT