Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / کیرالا میں بچاو اور راحت کاموں میں تیزی ‘ ہزاروں افراد ہنوز محصور ‘ امداد کے منتظر

کیرالا میں بچاو اور راحت کاموں میں تیزی ‘ ہزاروں افراد ہنوز محصور ‘ امداد کے منتظر

ہلاکتوں کی تعداد 200 سے متجاوز۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق 20,000 کروڑ کا نقصان ۔ چیف منسٹر پنیاری وجئین کا بیان

تھرواننتا پور م19 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سیلاب سے متاثرہ ریاست کیرالا میں ہزاروں افراد اب بھی محفوظ مقامات کو منتقلی کے منتظر ہیں ۔ حالانکہ بارش میں کمی آئی ہے لیکن تمام متاثرہ افراد تک اب بھی رسائی مشکل ہے ۔ کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے وہاں تک راحت کاری ٹیمیں پہونچ نہیں پا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں افراد کو بیک وقت محفظ مقامات پر منتقل کرنا ممکن بھی نہیں ہے ۔ بچاو اور راحت سازی کے کام پوری شدت سے چل رہے ہیں۔ گذشتہ دس دن کے دوران ریاست میں سیلاب کی وجہ سے صورتحال انتہائی ابتر ہے اور یہاں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کیرالا پنیاری وجئین نے بتایا کہ ابتدائی تخمینہ کے مطابق ریاست کو سیلاب کی وجہ سے 20,000 کروڑ سے زیادہ کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد بازآبادکاری کے کام طویل اور مشقت آمیز ہوسکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اب بھی بے شمار افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں ۔ ان کے گھروں تک کوئی غذائی مدد بھی نہیں پہونچ سکی ہے کیونکہ پانی اب بھی انہیں گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ الاپوزا ‘ تھریسور اور ارناکلم اضلاع میں لوگ کئی مقامات پر اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ اموات کی اطلاع ایڈوکی ضلع سے آئی ہے جہاں 43 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ملاپورم میں 28 اور تھریسر میں 27 اموات کی اطلاع ملی ہے ۔ محکمہ مال کے حکام کے بموجب الاپوزا ضلع میں چینگانور کے مقام پر پانچ ہزار افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ چھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ریلیف کیمپوں میں رکھا گیا ہے ۔ ایک ریلیف کیمپ میں موجود خاتون کا کہنا تھا کہ یہ ہماری دوسری زندگی ہے کیونکہ ہم ہمارے قد کے برابر پانی میں گھرے ہوئے تھے اور چار دن سے ہمارے پاس کوئی غذا نہیں تھی ۔ کئی افراد چونکہ ریلیف کیمپوں کو جانا نہیں چاہتے اس لئے وہ اب بھی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ ارناکلم میں ایک چرچ کا کچھ حصہ منہدم ہوجانے کے نتیجہ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ چرچ میں 600 افراد پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ وہاں اب تک کوئی امداد نہیں پہونچ سکی ہے ۔ وزیر زراعت وی ایس سنیل کمار نے کہا کہ تھریسر ضلع میں کم از کم 42 گاوں پوری طرح سے پانی میں محصور ہیں۔ تھریسر ضلع میں کم از کم دو لاکھ افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔ کل سے کچھ راحت ملنے کی امید بھی ہے کیونکہ کوچی نیول ائرپورٹ سے تجارتی پروازوں کا آغاز ہوجائیگا ۔ بچاو اور ریلیف ٹیمیں پوری تیزی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ محصور لوگوں تک امداد پہونچائی جا رہی ہے ۔ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات کو منتقل کیا جا رہا ہے ۔ تاہم غلط فون کالس کی وجہ سے انہیں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ چیف منسٹر وجئین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غلط اطلاعات نہ دیں کیونکہ اس سے محصور عوام کو بچانے کا کام متاثر ہو رہا ہے ۔ مرکزی وزیر کے جے الفونس نے کہا کہ مسلح افواج ‘ این ڈی ار ایف ٹیمیں ‘ نیم فوجی دستے لاکھوں افراد کی مدد میںسرگرم ہیں۔ انہوں نے کیرالا کے ریلیف کام کو دنیا کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن قرار دیا ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں فیول کی قلت کی وجہ سے بھی امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT