Thursday , November 23 2017
Home / سیاسیات / کیرالا میں بی جے پی کو کچھ فائدہ ہونے والا نہیں :چیف منسٹر چنڈی

کیرالا میں بی جے پی کو کچھ فائدہ ہونے والا نہیں :چیف منسٹر چنڈی

سیکولرازم اور مذہبی ہم آہنگی کیرالا کی سب سے بڑی طاقت ۔ ریاستی رائے دہندے زعفرانی پالیسی سے متاثر ہونے والے نہیں
تھرواننتاپورم ۔ 12 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بھارتیہ جنتا پارٹی 16 مئی کے انتخابات برائے کیرالا اسمبلی میں اپنا کنول کھلانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن چیف منسٹر اومین چنڈی جو کانگریس زیرقیادت برسراقتدار یو ڈی ایف کی سربراہی کررہے ہیں ، اُن کا ادعا ہے کہ زعفرانی جماعت کو اس ریاست میں کوئی فائدہ ہونے والا نہیں کیونکہ کیرالا کے رائے دہندوں کا ذہن اس پارٹی کے نظریات کے خلاف ہے۔ انھوں نے یہاں نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو انٹرویو میں بتایا کہ بی جے پی کو کیرالا میں سیاسی طورپر کبھی مضبوطی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ کیرالا والوں کی ذہنیت زعفرانی پارٹی کے نظریات کے حق میں نہیں ہے ۔ وہ اس سوال کے جواب دے رہے تھے کہ آیا بی جے پی اس ریاست میں آنے والے چناؤ میں اپنا کھاتہ کھول سکتی ہے یا نہیں ۔ بی جے پی ابھی تک اس ریاست سے کسی ایم ایل اے یا ایم پی کو منتخب کرانے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے ۔ اس کے باوجود اُسے امید ہیکہ اس مرتبہ صورتحال کچھ مختلف ہوگی ۔ کیونکہ وہ ریاست کے حالیہ بلدی انتخابات میں اپنے نسبتاً بہتر مظاہرہ کے پیش نظر پرجوش ہے۔ پارٹی نے بھارت دھرم جن سینا کے ساتھ اتحاد کیا ہے ، جو کیرالا کی طاقتور ایزاوا کمیونٹی کی تنظیم سری نارائنا دھرماپری پالنا یوگم کی جانب سے تشکیل شدہ سیاسی پارٹی ہے ۔ یہ بات بھی نمایاں ہے کہ اس مرتبہ بی جے پی نے ریاست میں این ڈی اے کے وجود کا احساس دلانے کی سر توڑ کوشش کی ہے اور خود کو یو ڈی ایف اور سی پی آئی ( ایم ) زیرقیادت ایل ڈی ایف کے مقابل تیسرے متبادل کے طورپر پیش کیا ہے۔

اس ریاست میں یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف نے باری باری حکمرانی کی ہے ۔ چیف منسٹر چنڈی نے ریاست کی دو قطبی سیاست کے رواج کو زعفرانی جماعت کی جانب سے توڑے جانے کے امکان کو مستردکرتے ہوئے کہاکہ ریاست کے عوام سیکولر ہیں ۔ کیرالا کی سب سے بڑی طاقت سیکولرازم اور مذہبی ہم آہنگی ہے ۔ اگرچہ ریاست میں سیاسی تقسیم کا امکان موجود ہے لیکن بی جے پی کو اس سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کے ساتھ کہا کہ کیرالا میں بی جے پی کی تمام کوششیں رائیگاں ہوںگی ۔ سی پی آئی (ایم ) اسٹیٹ سکریٹری کے بال کرشنن کے اس الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہ کانگریس نے بعض گوشوں میں بی جے پی کے ساتھ خفیہ مفاہمت کرلی ہے ، چنڈی نے کہاکہ یہ انتخابات سے قبل شکست کے  اعتراف کے مترادف ہے ۔ سی پی آئی ( ایم ) پر طنز کرتے ہوئے چنڈی نے کہا کہ یہ پارٹی بی جے پی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اپنی امکانی شکست کیلئے بہانہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ہمیشہ ملک بھر میں بی جے پی سے لڑتی آئی ہے ، اور سی پی آئی ( ایم ) پر ماضی میں کئی موقعوں پر زعفرانی محاذ کے ساتھ اتحاد کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ سی پی آئی (ایم) موقع پرست پارٹی ہے ۔ 1977 ء میں انھوں نے کیرالا میں جنتا پارٹی کے ساتھ چناؤ لڑا ۔ 1989 ء میں مارکسسٹ پارٹی اور بی جے پی ہی تھے جنھوں نے مرکز کی وی پی سنگھ حکومت کی تائید و حمایت کی تھی ۔ اس کے علاوہ بہار میں عظیم اتحاد کے ساتھ شامل نہ ہوکر کمیونسٹ پارٹی نے مخالف بی جے پی ووٹ تقسیم کرائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT