Wednesday , January 24 2018
Home / Top Stories / کیرالا میں مزید 58 عیسائی ،ہندو بن گئے

کیرالا میں مزید 58 عیسائی ،ہندو بن گئے

کوٹائم(کیرالا)25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کم از کم 58 اشخاص نے جن کی اکثریت عیسائی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اس ضلع کی دو مندروں میں ہندومت اختیار کرلیا، جو ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام کا حصہ ہے جسے آج کرسمس کے موقع پر وشوا ہندو پریشد نے منعقد کیا۔ وی ایچ پی کے ضلع صدر بالچندرن پلے نے کہا کہ 20 خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 42 ارکان پونکونم کی پو

کوٹائم(کیرالا)25 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کم از کم 58 اشخاص نے جن کی اکثریت عیسائی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے، اس ضلع کی دو مندروں میں ہندومت اختیار کرلیا، جو ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام کا حصہ ہے جسے آج کرسمس کے موقع پر وشوا ہندو پریشد نے منعقد کیا۔ وی ایچ پی کے ضلع صدر بالچندرن پلے نے کہا کہ 20 خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 42 ارکان پونکونم کی پوتیاکاوو دیوی مندر میں ہندو بن گئے جبکہ تھروناکارا کی سری کرشنا سوامی مندر میں منعقدہ دیگر تقریب میں 16 افراد نے ہندو مت قبول کرلیا۔ تبدیلی مذہب کرنے والوں میں سے ایک مسلم بتایا جاتا ہے۔ پلے نے کہا کہ جنہوں نے اپنا مذہب تبدیل کیا انہوں نے ایسا اپنی مرضی سے کیا ہے

اور اُن کا تعلق وائیکوم، کمارکم اور کنجیرا پلی سے ہے۔ وی ایچ پی کے ریاستی صدر جسٹس ایم رامچندر جو کیرالا ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں، انہو ںنے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’’نہ تو سنٹرل کمیٹی اور نا ہی اسٹیٹ کمیٹی نے تبدیلی مذہب کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے لیکن ہم ایسے کسی شخص کے مخالف نہیں جو رضاکارانہ طور پر آگے آئے‘‘۔ یہ معاملہ وی ایچ پی کی سنٹرل کمیٹی میں زیر غور آئے گا، جو حیدرآباد میں 28 تا 30 ڈسمبر منعقد ہورہی ہے، جسٹس رامچندرن نے یہ بات کہی۔ وہ بھی اس میٹنگ میںحصہ لیں گے۔ اس موضوع پر الجھن دور کرنے کی کوشش میں وی ایچ پی اسٹیٹ جنرل سکریٹری وی موہن نے بعدازاں ایک بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’’کسی کو بھی تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا جارہا ہے۔

وہ جو اپنی مرضی سے ہندومت اختیار کرنا چاہتے ہیں انہیں صرف اس عمل میں مدد کی جارہی ہے‘‘۔ کل 11 افراد نے ضلع الا پوڑا میں کائمکولم کے قریب ہندومت اختیار کرلیا تھا جو اس ریاست میں گذشتہ ہفتے کے بعد سے تبدیلی مذہب کا ایک اور معاملہ ہوا۔ 21 ڈسمبر کو اسی ضلع میں درج فہرست طبقات سے تعلق رکھنے والے 8 عیسائی خاندانوں کے 30 اشخاص نے اپنا مذہب تبدیل کرلیا تھا۔ چیف منسٹر اومن چنڈی نے کل کہا تھا کہ موجودہ صورتحال کسی حکومتی مداخلت کی متقاضی نہیں ہے۔ ’’اس ریاست میں کوئی جبری تبدیلی مذہب یا مکرر تبدیلی نہیں ہورہی ہے اور نہ ہی ایسا ہوگا۔ اگر کوئی شخص رضاکارانہ فیصلہ کرتا ہے تو حکومت کیا کرسکتی ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT