Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / کیرالا میں مسلم لڑکی کی مثالی شادی مہر میں صرف 50 کتابوں کی طلبی

کیرالا میں مسلم لڑکی کی مثالی شادی مہر میں صرف 50 کتابوں کی طلبی

نئی دہلی 13 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) اسلام میں ’’مہر‘‘ بیوی کا قانونی حق ہوتا ہے جوکہ نقد رقم، زیورات یا دیگر اشیاء کی شکل میں ادا کیا جاسکتا ہے لیکن کیرالا کے ضلع ملاپورم میں ایک مسلم لڑکی نے اپنے ہونے والے خاوند سے 50 کتابیں بطور مہر طلب کی ہیں جسے دولھے نے نکاح کے موقع پر حوالے کردیا۔ پولٹیکل سائنس میں پوسٹ گرائجویٹ صہارا نشچل نے دو وجوہات کی بناء مہر میں کتابیں طلب کی ہیں۔ شریعت کے مطابق کوئی بھی لڑکی مہر میں اپنی پسندیدہ شئے طلب کرسکتی ہے جسے نوشہ مسترد نہیں کرسکتا جبکہ میں یہ ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ ملاپورم کے مسلمان بغیر جہیز کے بالکلیہ سادگی کے ساتھ شادی کرسکتے ہیں۔ اس تجویز کی نوشہ انیس توادوی سے بھرپور تائید کی ہے۔ انھوں نے کہاکہ مہر بیوی کا حق ہے نہ کہ خاوند کی جانب سے کوئی خیرات۔ تاہم صبارا کے والدین اور ان کے رشتہ داروں نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں اپنے عہد پر کاربند رہتے ہوئے دوسروں کے لئے قابل تقلید بن گئے۔

TOPPOPULARRECENT