Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / کیرالا میں ہجوم کے ہاتھو ں ہوئی بربریت کے واقعہ کو مسلمانوں سے منسوب کرنے پر سہواگ نے مانگی معافی

کیرالا میں ہجوم کے ہاتھو ں ہوئی بربریت کے واقعہ کو مسلمانوں سے منسوب کرنے پر سہواگ نے مانگی معافی

الاٹ نیوز ڈسک۔ویریندر سہواگ نے کیرالا میں پیش ائے حالیہ ہجوم کے ہاتھو ں بربریت کے واقعہ میں ٹوئٹ کرتے ہوئے ’’ہجوم‘ ‘ او رمتاثرہ شخص کا نام لیاتھا۔ سہواگ نے اپنے ٹوئٹ میں کہاتھا کہ’’مدھو نے ایک کیلو چاول کی چوری کی۔ عبید ‘ حسین او رعبدالکریم پر مشتمل ہجوم نے غریب کسان شخص کو بے رحمی کے ساتھ اس قدر پیٹا کے وہ ہلاک ہوگیا‘‘۔

چاول کا ایک تھیلا چوری کرنے والے ذہنی طور معذور شخص کے ساتھ بربریت اور قتل کے واقعہ نے ملک کو ہلاکر رکھ دیا۔مقامی دوکان سے کچھ سامان چرانے کے شبہ میں ہجوم کے ہاتھوں بے رحمی کے ساتھ مارپیٹ کا شکار 30سالہ مدھو اسپتال کے راستے میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔یہاں تک کے واقعہ کی تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے مذمت کی گئی مگر حسب روایت شنکھ ناد نے واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کاکام کیا۔ بھیڑ کے بارے میں ہم کیاجانتے ہیں؟ یہاں پر صرف تین لوگ تھے جن کا نام سہواگ نے لکھا؟

رپورٹس کے مطابق پولیس نے دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے جس میں سیلفی لینے والا عبید بھی شامل ہے۔ ایک نیوز پیپر رپورٹ کے مطابق دیگر سات لوگوں کے نام حسین محمد‘ منو دامودرن‘ عبدالرحیم‘ عبدالطیف‘ عبدالکریم‘ اے پی اومیر اور متھاچن جوزف پر مشتمل ہیں۔

کسی ایک مذہب کے لوگو ں کا ملزمین کے طور پر نام لینا جرم ہے۔ یہاں پر گرفتار کئے جانے والے لوگوں کے نام شامل کئے جارہے ہیں جو انیس ‘ حسین ‘شمش الدین رادھاکرشنن ‘ ابوبکر ‘ جئے جی مون‘عبید ‘ عبدالکریم ‘ ہریش بیجو‘ منیر ‘ ستیش اگر آپ میں ہمت ہے تو ان تمام گرفتارشدگان کے نام بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شامل کریں سہواگ۔

سہواگ کی پہل میں صرف مسلمان ناموں کو سرخیو ں میں لایاگیا جبکہ یہاں پر مشترکہ نام شامل ہیں جس کے متعلق سینئر جرنلسٹ نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ 16گرفتار شدگان جس کا تعلق مختلف عقائد سے ہے کے نام پیش کرتے ہوئے وضاحت کی ہے۔

مختلف عقائد کے 16لوگوں کو گرفتار کیاگیا ۔ یہ ایک گھناؤناجرم ہے او رقاتلوں کو کڑے سزا ملنے چاہئے ۔

مگر معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سہواگ جیسی مشہور شخصیت کی جانب سے کی جانے والی کوشش قابل افسوس ہے۔

https://twitter.com/virendersehwag/status/967305291359555584 133

بعدازاں سہواگ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ اپنی غلطی کو نا ماننا دوبارہ غلطی کرنے کے مترادف ہے۔

میں معافی چاہتاہوں میں نے جرم میں شامل تمام لوگوں کے نام نہیں لکھے اس کی وجہہ جانکاری کی کمی تھی اورمیں اپنی اس غلطی پر دل کی گہرائیوں سے معافی مانگتا ہوں‘ مگر میرا ٹوئٹ فرقہ وارنہ رنگ دینے کی کوشش نہیں تھا۔

قاتل بھلے کی مذہبی اعتبار سے منقسم ہوتے ہیں مگر اپنی پرتشدد ذہنیت سے وہ متحد ہیں۔انہیں امن کا رستہ ملے۔

سوشیل میڈیاپر باول کے بعد سہواگ نے عدم جانکاری اور نامکمل جانکاری کے ذریعہ کئے گئے ٹوئٹ پر اب معافی مانگی ہے ۔ سہواگ کا پہلے ٹوئٹ نے دس ہزار مرتبہ شیئر ہونے کے بعد اپنا کام کردیا ہے۔ سہواگ کے غلط ٹوئٹ کے سبب پہلے ہی کافی نقصان ہو ہے کیونکہ کیرالا میں پیش ائے اس واقعہ کو جس میں مسلمان شامل ہیں کو دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے قومی سطح پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی مہم کا حصہ بنایاگیا ہے۔

دیگر نے اس ٹوئٹ کو سہارا بناکر فرقہ وارانہ حساسیت کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر لکھا ہے کہ’’ نفرت کہاں ہے؟‘‘۔ کچھ لوگ یہ پوچھ رہے ہیں جبکہ اطراف واکنا ف میں ان کے نفر ت کاماحول ہے۔’’ یہاں پر نفرت اس لئے نہیں ہے کیونکہ یہ ریاست میں سی پی ایم کا اقتدار ہے اور متاثرہ شخص مسلمان نہیں ہے‘‘۔

وہیں اس کودوبارہ دہرانے کی توقع شنکھ ناتھ جیسوں سے ہی ہوگی مسلمانوں کو لکھ کر جس کے ہاتھوں کا کھلونا سہواگ جیسی مشہور ہستی بنی ہے۔ حالیہ دنوں میں گرگاؤں میں ایک اسکول بس پر حملے کے بعد سوشیل میڈیاپر پانچ مسلم نوجوانوں کے نام مسلسل گشت کررہے تھے۔ اسی طرح کے طریقہ کار کا یہا ں بھی استعمال کیاگیا ہے۔اس قسم کے ہر واقعہ کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی ہرممکن کوششیں کی جاتی ہے تاکہ کمیونٹیز کا پولرائزیشن کیاجاسکے۔

TOPPOPULARRECENT